اس بار تحریک انصاف کو پنجاب میں خطرہ کیوں ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اگر آپ کو یاد ہو تو چند برس پہلے پنجاب اسمبلی کے رکن محسن لغاری نے اُس وقت سب کو حیران کر دیا جب وہ پنجاب اسمبلی سے چالیس سے زائد ووٹ لے کرسینیٹر بن گئے حالانکہ ان کا تعلق کسی پارٹی سے نہ تھا۔

اسمبلی میں موجود چند ارکان نے فیصلہ کیا اور یوں بغاوت ہوئی۔ پنجاب اسمبلی میں اس دفعہ یہی خطرہ پی ٹی آئی کو ہے کہ اپنے جن ذاتی ارب پتی دوستوں کو وہ سینیٹر بنوانا چاہتے ہیں ان میں سے اکثریت کو تحریک انصاف میں کوئی نہیں جانتا۔ یہ سب اوپر سے اتری ہوئی مخلوق ہیں اوران کا ایک ہی میرٹ ہے کہ ان کی جیبیں بھری ہوئی ہیں اوروہ خان صاحب کو پسند ہیں یا ان کے دوست ہیں۔ یہ سب لوگ مطمئن ہیں کہ انہیں الیکٹ کرانا عمران خان کا سردرد ہے کیونکہ وہ ان کے مفادات کو سرو کرتے ہیں۔ خان صاحب پنجاب میں عثمان بزدار کی وجہ سے پہلے ہی دبائو میں ہیں کہ ان کا یہ فیصلہ ان کے علاوہ کسی کو راس نہیں آیا۔ وہ کبھی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی میں گھلے ملے نہیں۔ پھر اوپر سے آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں کہ سرائیکی علاقوں کو کم از کم تین چار سیٹیںسینیٹ میں ملنی چاہئیں‘ لیکن وہاں سے توایک نام بھی سامنے نہیں آیا‘ لہٰذا خطرہ ہے کہ اس دفعہ بھی اگر سیکرٹ بیلٹ ہوتا ہے تو محسن لغاری کی طرح کچھ اور لوگ بیٹھے بٹھائے سینیٹر بن جائیں گے اور خان صاحب کے ارب پتی دوست منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔ اس لیے حکومت کے پاس ایک ہی طریقہ رہ گیا ہے کہ اگر اپنی ان تگڑی پارٹیوں کوسینیٹر بنوانا ہے تو پھر سیکرٹ ووٹنگ کا رسک نہیں لیا جا سکتا۔اس لیے انہوں نے ایک ماہ پہلے ہی رولا ڈالنا شروع کر دیا کہ سینیٹ میں الیکشن فروخت ہوتے ہیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم فرماتے ہیں کہ بکائو مال اور کوئی نہیں ان کی اپنی پارٹی کے لوگ ہیں۔ پہلے وہ کہتے تھے کہ ایسے ایماندار لوگ پارلیمنٹ میں لائوں گا کہ دامن نچوڑدیں تو فرشتے وضو کریں۔ لوگوں نے ان پر اعتبار کیا اور ان کے لوگوں کو ووٹ ڈالے‘ اب خان صاحب کہتے ہیں کہ ان کے ایم این ایز اور ایم پی ایز چور نکلے اور ووٹ بیچے۔ مزے کی بات ہے کہ پی ٹی آئی کا جو پارلیمانی بورڈ بنایا گیا اس میں عامر کیانی کا نام بھی شامل ہے۔ یہ وہی صاحب ہیں جو وزیر صحت تھے تو ادویات سکینڈل پر نکالے گئے۔ کیانی صاحب اب پاکستانی قوم کو ایماندارسینیٹرز چن کر دیں گے۔ ایک اور لطیفہ سنیں‘ ابھی پارلیمانی بورڈ کوسینیٹر بننے کے خواہشمند افراد کی درخواستیں‘ انٹرویوز ‘ حتمی فہرست اورٹکٹ ایشوز ہونا باقی ہیں لیکن پورے ملک کو وہ نام معلوم ہوچکے ہیں کہ کون کو ن سینیٹر بن رہا ہے۔ ٹی وی چینلز بریکنگ خبریں چلا چکے۔ پھر اس سارے کھیل کی کیا ضرورت ہے جو پارلیمانی بورڈ کے نام پر کھیلا جارہا ہے؟سینیٹ میں اس لیے لوگ ووٹ بیچ دیتے ہیں کہ انہیں علم ہوتا ہے کہ وہ ووٹ بیچ کر خرچہ پورا نہ کریں گے تو پارٹی سربراہ خود پارٹی فنڈ کے نام پر ٹکٹ بیچ کر پیسے جیب میں ڈال لے گا۔ اگر اس کا ووٹ بکنا ہے تو وہ خود دو تین کروڑ لے کر کیوں نہ بیچ دے؟ جب اسے علم ہے کہ یہ پارلیمانی بورڈز سب ڈراما ہیں

تو وہ خود اس موقع سے فائدہ کیوں نہ اٹھائے؟ اگر خان صاحب نے اپنی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا کر سینیٹرز کے نام مانگے ہوتے اورپارٹی کے جینوئن لیڈرز اور ورکرز کے نام دیے ہوتے تو ووٹ نہ بکتے۔ ووٹ اس وقت بکتا ہے جب ایم پی اے جانتا ہے کہ پارٹی کا سربراہ ایک نامعلوم ارب پتی سے پارٹی فنڈ لے چکا ہے۔2018 ء کے الیکشن میں تحریک انصاف کے ٹکٹ بھاری معاوضے پر بیچے گئے تھے۔ اب بھی کابینہ میں دو تین وزیر ایسے بیٹھے ہیں جنہوں نے اپنے نیچے ایم پی ایز کو ٹکٹ دلوانے کے نام پر نئی لینڈ کروزر گاڑیاں لی تھیں۔ بعض نے کیش لیا تھا۔جب پارٹی سربراہ ارب پتی لوگوں کو اپنا ذاتی دوست ڈکلیئر کر کے سینیٹ کا ٹکٹ بیچے گا تو پھر ایم پی اے اور ایم این اے کی آنکھوں میں عزت کھو بیٹھے گا۔ شیخ سعدی کی کہاوت ہے کہ اگر باد شاہ کسی باغ کا ایک پھل مفت کھائے گا تو اس کی فوج پورا باغ اجاڑ دے گی۔ اگر پارٹی کے اندر سے امیدوار لائے جاتے اورارب پتیوں کو سامنے نہ لایا جاتا تو مختلف سہارے نہ لینا پڑتے‘ میڈیا پر دن رات شور نہ مچانا پڑتا۔ جہاں سربراہ حکومت اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو چور‘ ڈاکو‘ لٹیرا اور رشوت خور سمجھتا ہو اس ملک کا کیا مستقبل ہوگا؟آئیں ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کریں‘ جو بائیس سال دعویٰ کرتا رہا کہ دنیا کے ایماندار لوگ اکٹھے کر کے لارہا ہے اور اب وزیراعظم بننے کے ڈھائی برس بعد کہہ رہا ہے‘ سوری جنٹلمین میرا مال دو نمبر نکلا‘ مجھے اس سے بچائو اور ووٹنگ اوپن کرائو تاکہ کچھ ارب پتی دوستوں کا احسان اتر سکے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *