اس جملے نے بعد میں بھٹو خاندان میں کیا دراڑ ڈالی تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد احمد عارف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کسی زمانے میں میر مرتضیٰ بھٹو اور میر شاہنواز بھٹو کے ساتھی اور عسکری تنظیم ’’الذولفقار‘‘ کے سرفروش کارکن خواجہ آصف جاوید ایڈووکیٹ کی کتاب ’’کئی سولیاں سر راہ تھیں‘‘ کا تازہ ایڈیشن عزیزم محمودالحسن نے لا کر دیا‘

پوری کتاب قابل مطالعہ اور ہوشربا انکشافات کا مجموعہ ہے‘ خواجہ آصف جاوید نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے تسلیم کیا کہ الذوالفقار واقعتاً ایک عسکری تنظیم تھی‘ جس کے سربراہ میر مرتضیٰ بھٹو کے ہندوستانی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے گہرے رابطے تھے۔ ہائی جیکنگ کا واقعہ جنرل ضیاء الحق کا ڈرامہ نہیں‘ میر مرتضیٰ بھٹو کا کارنامہ تھا۔ الذوالفقار سے وابستہ سادہ لوح کارکنوں پر کیا بیتی؟ دل دہلا دینے والے واقعات کی تصویر کشی کتاب میں سادگی اور پرکاری سے کی گئی ہے‘ یہ ان مثالیت پسند سیاسی ومذہبی کارکنوں کے لیے سبق آموز ہے جو اقتدار و شہرت کے بھوکے رہنمائوں کی خواہشات کی بھینٹ چڑھتے اور زندگی بھر پچھتاتے ہیں‘ پڑھیے اور داد دیجئے۔ لکھتے ہیں۔ ’’ذوالفقار علی بھٹو نے تختہ دار پر چڑھائے جانے سے قبل کہا تھا کہ اگر مجھے نا حق زندگی سے محروم کردیا گیا تو میرے بیٹے میرا انتقام لیں گے۔ اس جملے کی محترمہ بے نظیر بھٹو کے نزدیک تشریح یہ تھی کہ ’’میرے بیٹے‘‘ سے مراد پیپلزپارٹی کے کارکنان تھے نہ کہ میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز۔ ’’انتقام‘‘ سے مراد ڈکٹیٹر شپ کا خاتمہ اور جمہوریت کا قیام تھا۔ لہٰذا محترمہ اپنی زندگی میں جمہوریت کی بحالی کو بہترین انتقام قرار دیا کرتی تھی۔‘‘ ’’اس کے برعکس میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کے مطابق ’’میرے بیٹے میرا انتقام لیں گے‘‘ سے مراد یہ تھی کہ مرتضیٰ اور شاہنواز میرا انتقام لیں گے۔ ان متضاد تشریحات کی بنا پر دونوں فریقوں نے عمل کی مختلف راہیں اپنا لیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی منتخب کردہ راہ کے فیض سے دو دفعہ ملک کی سربراہ بنیں

جبکہ میر مرتضیٰ اور شاہنواز نے جس راہ کا انتخاب کیا اس پر چلتے ہوئے نہ صرف یہ کہ خود گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں وقت سے بہت پہلے منوں مٹی تلے پہنچ گئے بلکہ پارٹی کے درجنوں سادہ لوح‘ جذباتی اور بدنصیب کارکنوں کی بے وقت اور بے مول موت کا سبب بنے۔‘‘ ’’ہم لوگ جب دمشق سے کابل پہنچے تو ہمارے علاوہ فقط اڑھائی درجن کے قریب مزید لوگ پہلے ہی سے وہاں موجود تھے جن میں آدھے کے قریب ٹرائبل ایریاز سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ کل ملا کر پچاس ساٹھ بنتے تھے جس سے دونوں بھائی (میر مرتضیٰ اور شاہنواز) پاکستانی اداروں سے لڑائی کرنے چلے تھے۔ تقریباً سب کے سب وہ لوگ تھے جنہیں عسکری اصولوں کی ابجد کا بھی علم نہ تھا۔ کابل کیمپ میں ان کی عسکری تربیت پندرہ منٹ کے لیکچر‘ تین چار روز کی پی ٹی اور کیمپ کے اندر ہی ہال کو ’’برائے تسلی خود‘‘ سائونڈ پروف بنا کر ایک ایک میگزین فائر کروانے تک محدود تھی۔‘‘ ’’دونوں بھائیوں کو کوئی علم نہ تھا کہ کابل سے پاکستان پہنچنے کی راہ کتنی پرخطر‘ دشوار گزار اور طویل ہے۔ ان کے لیے وہاں جمع ہوئے کارکنوں کی حیثیت اینٹوں کے بھٹے میں استعمال ہونے والے ایندھن سے کسی طور پر زائد نہ تھی اور کارکنان کا المیہ اور ذہنی پستی کا یہ عالم تھا کہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹوں سے مل کر وہ یہ سمجھ رہے تھے

کہ انہیں کائنات کی سروری مل گئی ہے۔ٔٔ ’’کابل سے آ کر پاکستان میں پولیس کے ہاتھوں زندگی سے محروم ہونے ‘ تختہ دار پر جھولنے والے اور قید سڑتے رہنے والوں کی اکثریت… غالب اکثریت‘ انتہائی غریب گھرانوں سے تھی۔ مرتضیٰ اور شاہنواز کو روپے پیسے کی کوئی کمی نہ تھی‘ کمی تھی تو فقط احساس کی کمی تھی۔ جہاں خاندانوں کے خاندان تباہ و برباد ہو گئے‘ دونوں بھائیوں کے لیے بہت آسان تھا کہ مصیبتوں اور اموات کے شکار خاندانوں کی کم از کم مالی امداد کرسکتے لیکن دونوں نے انتہائی بے حسی اور سنگدلی کا مظاہرہ جاری رکھا۔ رزاق جھرنا‘ چودھری ظہور الٰہی کے کیس میں گرفتار ہوا تو اس کے والدین کے پاس بھکر سے لاہور تک کا کرایہ بھی نہ تھا کہ اپنے بیٹے سے آ کر مل سکتے۔ ملٹری کورٹ میں اس کے خلاف چودھری ظہور الٰہی کیس شروع ہونے کو تھا لیکن کوئی وکیل نہ تھا۔ وہ تو بھلا ہو لیڈی سب انسپکٹر نغمہ کا جو ان دنوں قلعہ میں تعینات تھی کہ اسے جھرنا کی کسمپرسی اور بے چارگی پر رحم آ گیا اور اس نے اپنے منگیتر نفیر اے ملک ایڈووکیٹ کو اس کا مقدمہ لڑنے کے لیے تیار کر لیا جس نے لاء کر کے ابھی لائسنس لیا ہی تھا۔ نفیر اے ملک کو جھرنا کیس کے حوالے سے داد و تحسین نہ دینا بہت بڑی ناانصافی ہوگی۔‘‘ ’’عبدالرزاق جھرنا کے بارے میں نفیر اے ملک نے بھیگی آنکھوں کے ساتھ راقم کو بتایا کہ جھرنا کا والد‘ والدہ اور چھوٹے چھوٹے بہن بھائی پہلی دفعہ اسے عدالت میں ملنے کے لیے آئے

تو سب کے لباس ان کی تیسرے درجے کی غربت کا اعلان کر رہے تھے۔ جھرنا کی والدہ اپنے جوان بیٹے کے ساتھ جڑ کے بیٹھی ہوئی تھی‘ جس کے ہاتھ میں ایک بوسیدہ شاپر تھا جس میں سستے ترین 6 کیلے تھے۔ ماں نے کیلا چھیل کر اپنے قیدی بیٹے کو دیا تو دو چھوٹے چھوٹے بچے بھوک کی وجہ سے کیلے کی طرف دیکھنے لگے۔ رزاق جھرنا نے دونوں بچوں کی طرف متوجہ ہو کر انہیں باری باری کھلانا شروع کردیا۔ نفیر اے ملک کے مطابق یہ منظر دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے جبکہ یہ واقعہ بیان کرتے وقت بھی فرط جذبات سے اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔‘‘ ’’مرتضیٰ اور شاہنواز کے لیے عبدالرزاق جھرنے اور کاکروچ میں کوئی فرق نہ تھا۔ اگرچہ انسان کا بدل سونا چاندی نہیں ہو سکتے لیکن ہمدردی کے طور پر اس کے گھر والوں کی مالی مدد ضرور کی جانی چاہیے تھی جو دونوں ’’انقلابی‘‘ بھائیوں کے لیے معمولی کام تھا لیکن ایسے افعال کے لیے سینے میں حساس‘ شفاف اور گداز دل کا ہونا ضروری ہوتا ہے جوکہ نہ تھا۔ پیپلزپارٹی کی تین دفعہ حکومت آئی لیکن رزاق جھرنا کے گھرانے کی طرف کسی نے آنکھ بھر کر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا‘ ان کو عزت اور تعاون دیئے جانے کی بات تو بہت دور کی رہی۔‘‘ ’’شاہدہ جبیں کے بھائی عثمان غنی‘ غریب خاندان کے واحد سہارا تھے‘ ادریس طوطی اور راولپنڈی کے ادریس بیگ کو تختہ دار پر کھینچ دیا گیا‘ نہ ہی میر مرتضیٰ اور نہ ہی پیپلزپارٹی نے کبھی ان کے خاندانوں کا حال پوچھا۔

لالہ اسد‘ ایاز سموں‘ بابا اسحاق الحق‘ منظر عالم‘ اعظم چودھری کس کس کا نام لوں؟ انہیں کھیتوں میں اگنے والی گاجر مولی سمجھ کر ان سے اعراض کا رویہ اپنایا گیا۔‘‘ ’’جن ساٹھ ستر بے چارے کارکنوں کے ساتھ دونوں بھائی چھ لاکھ فوج اور دیگر اداروں کو شکست دینے نکلے تھے جب ان مٹھی بھر میں سے کچھ موت کا نوالہ بن گئے اور بقیہ قید خانوں کا لقمہ تو اپنے شوق مہم جوئی سے دست کش ہو کر میر مرتضیٰ دمشق چلے گئے جبکہ شاہنواز بھٹو فرانس میں جا مقیم ہوئے۔ شاہنواز بھٹو نے ’’الفتح‘‘ تنظیم کے دیئے ہوئے خطرناک کیپسول کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ ان جیسے زائد از ضرورت حساس اور انتہائی جذباتی انسان سے گہری مایوسی میں ایسے اقدام کی توقع شروع ہی سے عبث نہ تھی۔‘‘ ’’لیکن میر مرتضیٰ فوج پر فتح پانے کے راستے سے اقتدار تک پہنچنا چاہ رہے تھے۔ جتنا فرق ہمارے ہاں قائم ہونے والی سول حکومتوں اور فوجی خفیہ ایجنسیوں کے درمیان رہا ہے‘ کم و بیش اتنا ہی ہندوستان کی سول حکومتوں اور ان کی فوجی ایجنسیوں کے مابین پایا جاتا ہے۔ میر مرتضیٰ کی ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں سے بڑی گاڑھی چھنتی تھی۔ ایجنسیوں نے انہیں یقین دلا رکھا تھا کہ وقت آنے پر ان کی اسی طرح معاونت کی جائے گی جس طرح مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب کی مدد کی گئی تھی۔ مرتضیٰ اور ہندوستانی ایجنسیوں کے اس تعلق کا پاکستان کی فوجی خفیہ ایجنسیوں کو بخوبی علم تھا۔ میجر طارق رحیم کی مرتضیٰ کے حکم پر الم ناک موت کے دن میر مرتضیٰ پر کہیں موت کا نشان لگایا جا چکا تھا