اس خط کے مندرجات کیا تھے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اندرون خانہ اس منافقت کا وہی عالم تھا جو آج کے سیکولر، لبرل دانشوروں اور ’’شہرت کے حصول کے دیوانے‘‘ قلم کاروں کا ہے کہ جن کا طریق کار یہ ہے کہ بغیر کسی دلیل کے شوشے چھوڑ کر گالیاں کھائی جائیں

تاکہ ’’ریٹنگ‘‘ بہتر ہو۔ قادیانی وزیرخارجہ ظفر اللہ کے بعد حکومتی سطح پر رابطہ 1998ء میں نوازشریف نے کیا جب اس نے اسرائیلی وزیراعظم کو ایک خفیہ خط تحریر کیا کہ ہم اپنی ایٹمی صلاحیت ایران کو نہیں دیں گے۔ مشرف کے دور میں بہت پیش رفت ہوئی اور دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ میں ملاقات بھی ہوئی۔ لیکن اسی دوران یہی اسرائیل بھارت کے بہترین دوستوں کی صورت سامنے آیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم ’’مناخم بیگن‘‘ نے 12 اپریل 1981ء کو امریکی سینٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ، عرب ریاستوں سے کہے کہ وہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام بند کروائیں۔ یہ حقیقت بھی اب دنیا کے سامنے واضح ہو چکی ہے کہ 1980ء اور 1988ء میں دو دفعہ اسرائیلی فائٹر جیٹ کہوٹہ پر اٹیک کرنے پہنچ چکے تھے تاکہ عراق کے ’’آپریشن اوپرا‘‘ کی طرح اٹیک کیا جائے۔ ان دونوں اٹیکس اور بھارت اسرائیل منصوبوں کی تفصیل دو برطانوی مصنفین ’’آرڈن لیوی‘‘ (Ardin Lavy) اور ’’کیتھرین کلارک‘‘ (Cathrine Clark) نے اپنی کتاب میں بتائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اسرائیلی جہاز ہر دفعہ پرواز کیلئے تیار تھے لیکن بھارت کے اعلیٰ حکام نے یہ کہہ کر منصوبہ مسترد کر دیا کہ اسرائیل کا کچھ نہیں بگڑے گا، لیکن اس کے بعد ہم پاکستان سے لڑاسئی میں کود پڑیں گے۔ سیاسی، مذہبی، اخلاقی اور علاقائی اعتبار سے یہ آج تک کی مختصر تاریخ ہے۔ اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جو خود امریکی امداد پر پلتا ہے۔ 1985ء لے کر اب تک امریکہ اس کو 3ارب ڈالر سالانہ امداد اور 8ارب ڈالر کے دیگر فوائد دیتا ہے۔

اب تک امریکہ اسرائیل کو 142.3ارب ڈالر نقد امداد دے چکا ہے۔ وہ اسرائیل جس کی دفاعی بارلیو لائن کو 1973ء میں انوار السادات کی فوج تباہ کر دیتی ہے اور جس کا ائرڈیفنس سسٹم 2006ء میں حزب اللہ کے ہاتھوں نیست و نابود ہو جاتا ہے۔ جو پاکستان کے سب سے بڑے دشمن بھارت کا دوست ہی نہیں، پاکستان مخالفت میں برابر کا شریک بھی ہے۔ ایسے اسرائیل سے میرے ملک کا بزدل اور مادہ پرست دانشور ہمیں مسلسل ڈراتا اور خوفزدہ کرتا ہے۔ میرے ملک کے یہ دانشور، جو قادیانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پرویز مشرف کے دور میں خاصے پھلے پھولے تھے، آج اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں لکھتے ہیں مگر اسکا ایک فائدہ بھی نہیں گنوا سکتے۔ ہمیں کہا جاتا ہے، ملکوں کو اپنا معاشی مفاد دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ میرا ان حضرات سے صرف ایک سوال ہے کہ کیا یہ اپنے گھر کے سارے فیصلے صرف اور صرف دنیاوی، معاشی اور مادی فائدہ ذہن میں رکھ کر کرتے ہیں۔ کیا وہ اپنے گھر میں دولت، امن اور سکون لانے کیلئے دین، غیرت، عزت، خاندان اور وقار سب کا سودا کر دیتے ہیں۔ اگر آپ اپنے گھر کے فیصلوں میں غیرت کی پگڑی سر پر باندھتے ہو اور خاندانی حمیت کی چودھراہٹ کا خیال رکھتے ہو تو پھر اللہ، اس کے رسولؐ اور قومی حمیت کے سامنے ذلیل و رسوا کرنے کے لئے پاکستانی قوم ہی رہ گئی ہے جس کو ایسے بے غیرتی کے مشورے دئیے جاتے ہیں۔(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.