اس رسالے کی بندش کا ہیرا منڈی کی ایک طوائف سے کیا تعلق تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد احمد عارف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔میانوالی میں ایک مشاعرے کے بعد بہت سے شعرا چائے کے کپ پر محمد طفیل نقوش کی غیبت میں مصروف تھے کہ اُن دنوں طفیل صاحب رائٹرز گلڈ کے سیکرٹری جنرل تھے اور رائٹرز گلڈ عروج پر تھی۔کوئی کہہ رہا تھا

کہ گلڈ کے ذریعے طفیل نے کئی غیر شاعروں کو پلاٹ دلوا دیے‘کوئی کہہ رہا تھا کہ گلڈ کے تعلقات استعمال کر کے موصوف نے اپنا پبلشنگ ہائوس قائم کر لیا ہے‘کوئی بتا رہا تھا کہ طفیل صاحب بہت سیانے آدمی ہیں‘ہمیشہ اپنا ہی فائدہ سوچتے ہیں۔جب کافی دیر ہو گئی تو ایک کونے میں بیٹھے ہوئے منیر نیازی بولے: ’’اس شخص کے سیانا ہونے کا اندازہ تو اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اپنی غیر موجودگی میں اپنی باتیں کرواتا اور ہمارا وقت ضائع کرواتا ہے۔‘‘ ایک زمانے میں منیر نیازی ایک پرچہ نکالتے تھے۔گارڈی ٹرسٹ بلڈنگ میں اس کا دفتر تھا۔کچھ عرصہ کے بعد وہ پرچہ بند ہو گیا۔عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ پرچے نکلتے ہیں پھر وسائل اور مالی مشکلات کا شکار ہو کر بند ہو جاتے ہیں‘سو منیر نیازی کا پرچہ بھی انہی معاملات کے سبب بند ہو گیا ہو گا۔اعزاز احمد آذر نے اس حوالے سے اپنے میگزین کے لئے کئے جانے والے ایک انٹرویو میں منیر صاحب سے پرچہ بند ہو جانے کی وجہ دریافت کی تو منیر صاحب پہلے تو مسکرائے پھر کہنے لگے:’’اس رسالے کو بند کرنے کا ایک دلچسپ سبب تھا۔وہاں جو لڑکا میں نے ملازم رکھا ہوا تھا‘ویسے تو کام کاج ٹھیک ہی چلا رہا تھا مگر ایک بار یوں ہوا کہ میں نے اس سے جب پچھلے کچھ دنوں کی آمد و خرچ کا حساب مانگا تو اس نے بتایا کہ ’’اتنے سو‘‘ روپے کُل اخراجات نکال کے بچ رہے تھے۔میں نے وہ رقم طلب کی تو وہ کہنے لگا کہ جی وہ تو میں نے خرچ کر دی…‘‘اب منیر صاحب کا چہرہ پہلے سے زیادہ کِھل گیا تھا۔بولے:’’میں نے پوچھا کہ تم نے وہ رقم کہاں خرچ کر دی؟‘‘ تو اس لڑکے نے بتایا کہ جی میں اپنے دوستوں کے ساتھ ہیرا منڈی گانا سننے چلا گیا تھا۔سب دوست طوائف پر روپے نچھاور کر رہے تھے۔میں نے سوچا جب ان کو پتہ چلے کہ منیر نیازی جیسے شاعر کا ملازم بیٹھا ہوا ہے اور وہ خالی جیب ہے تو کتنا برا لگے گا؟وہ طوائف بھی کیا سوچے گی؟؟ سو میں نے وہ سارے روپے اس رات طوائف پر لٹا دیے۔صاحب !آپ کی عزت کا سوال تھا…‘‘ بات مکمل کرتے ہوئے منیر نیازی باقاعدہ کھل کھلا کر ہنس رہے تھے!

Comments are closed.