اس فضائی لڑائی کا نتیجہ کیا نکلا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) پاک فوج کے سابق افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔یہ 1981-82ء کے کسی وقت کا ذکر ہے کہ ہمارے راڈاروں نے ایک ایسے کنٹیکٹ (طیارے) کا پتہ چلایا جو اکیلا اڑ رہا تھا اور اس کی شناخت بھی نامعلوم تھی۔

یہ طیارہ پشاور کے شمال میں پاکستانی فضائی حدود کے اندر گھوم رہا تھا اور وہاں سے مشرق کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ان فضاؤں میں ہر وقت بہت سے طیارے وغیرہ اڑتے رہتے ہیں اس لئے ہمیں یہ خبر ڈکلیئر کرنے میں کچھ عرصہ لگا کہ اس کنٹیکٹ کا کوئی اتہ پتہ نہیں کہ کیا ہے اور کس ملک کا ہے اور ”نامعلوم“ ہے۔ چنانچہ پشاور سے دو طیاروں کو فوراً فضا میں بھیجا گیا۔یہ اتنی جلدی کا ایکشن تھا کہ طیاروں کے پائلٹوں نے اپنی بیلٹیں ائر بورن ہونے کے بعد طیاروں کے اندر جا کر باندھیں۔یہ کنٹیکٹ اب تربیلا پہنچ چکا تھا۔ ہمارے پائلٹوں نے اس سے نظری ملاپ قائم کیا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک سوویٹ ٹرانسپورٹ طیارہ ہے جو یا تو بھٹک کر اِدھر آ نکلا تھا یا پھر ہماری دفاعی تنصیبات کی فضائی ریکی کر رہا تھا۔ ہمیں کچھ خبر نہ تھی کہ اس طیارے کا مشن کیا ہے۔ ہمارے لڑاکا طیاروں نے بین الاقوامی پروٹوکول کے مطابق اس کو اپنی ’حفاظت‘ میں لے لیا لیکن پھر بھی اس نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ کون ہے، کس ملک کا ہے اور کیا کر رہا ہے۔ وہ ہمارے لڑاکا طیاروں سے بے پروا ہو کر افغانستان کی طرف بڑھنے لگا۔ ہمارے فائٹرز اس کو بزور لینڈ کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ ان طیاروں نے بہت کوشش کی اور اسے باور کروانے کیلئے ہر طرح کے داؤ پیچ آزمائے اور بتایا کہ وہ شدید خطرے میں گھر چکا ہے۔ لیکن وہ پھر بھی ٹس سے مس ہوتا نظر نہ آیا۔

ایئر وائس مارشل شہزاد چودھری لکھتے ہیں:اس کے بعد اس پر وارننگ برسٹ کیے گئے جو اس امر کا اشارہ تھے کہ اگر اس نے ہماری ہدایات پر عمل نہ کیا تو اس کو نشانہ بنا دیا جائے گا۔ لیکن ان وارننگ شاٹس کا بھی اس پر ذرہ برابر اثر نہ ہوا۔ ہمارے پائلٹوں کے پاس اب اس کے سوا کوئی چارا نہ تھا کہ یا تو اس کو نشانہ بنائیں یا اس کے ساتھ ساتھ پرواز کرکے دیکھیں کہ وہ کیا کرنے کو ہے۔ ہم نے اس کو بہت سی ویڈیو کال بھی کیں لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا اور آخر ہماری فضائی حدود سے باہر نکل کر افغانستان کی فضائی حدود میں داخل ہو گیا اور پھر یہ جا وہ جا…… کسی بھی لڑائی میں اس نوعیت کی پاک فضائیہ کی یہ پہلی انگیج منٹ تھی۔ اسی شام ہمارے میسوں (Messes) میں اس واقعہ کے خوب خوب چرچے ہوئے۔ آخر ہم چپ کرکے بیٹھ گئے کہ سوویٹ آخر سوویٹ تھے!اس کے جلد بعد امریکہ نے یہ معلوم کر لیا کہ سوویٹ یونین پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزیاں کرکے اٹیکس کر رہا ہے۔ اس کے کئی فضائی اٹیکس راڈاروں کی نظر سے بچنے کے لئے نیچی پروازوں سے کئے جا رہے تھے۔ یہی وہ صورتِ حال تھی کہ جب امریکہ نے اپنے جدیدF-16 اس غرض سے پاکستان کو دینے کا فیصلہ کیا کہ روسیوں کو اپنے سے دور رکھا جائے۔ یہ F-16، 1983ء کے اوائل میں پاکستان پہنچے اور پاک فضائیہ نے ان کو اپنے ہاں انڈکٹ کرنے، آپریشنلائز کرنے اور اپنی سروس میں مربوط کرنے کے اقدامات اٹھائے۔ یہ چوتھی نسل کی ٹیکنالوجی تھی جو پاکستان

کی فضائی اہلیت (Capability) کے لئے ایک قوت افزاء (Force Multiplier) کے طور پر شامل کی گئی۔افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد پر سوویٹ طیاروں نے تباہی کی تھی اور وہ پاکستان میں ہجرت کرنے پر مجبور کر دیئے گئے تھے۔ اب وہ پاک۔ افغان بارڈر کے ساتھ ساتھ بنائے گئے کیمپوں میں آکر پناہ گزین ہو گئے تھے۔ پھر زیادہ عرصہ نہ گزرا کہ یہ ریفیوجی کیمپ مزاحمتی مستقروں (Bases) میں تبدیل ہو گئے۔ یہ مہاجرین اب لڑاکے بن چکے تھے اور امریکی امداد کے طفیل قابض سوویٹ فوجیوں کے خلاف سینہ سپر ہو چکے تھے۔ سوویٹ فضائیہ نے ان مزاحمتی مستقروں پر بھی نشانہ بازی شروع کر دی۔ اس میں کئی بار ایسا ہوا کہ روسیوں نے پاکستان کی فضائی حدود عبور کرکے پاکستان کے اندر آکر اٹیکس کئے۔ یہ 1984ء کی بات ہے کہ ہم F-16 مشنز کے لئے تیار تھے۔ میرے کمانڈر نے مجھے بلایا اور بنوں۔ میرن شاہ ایریا میں ایک مشن فلائی کرنے کا ٹاسک سونپا۔ یہ ایریا، افغانستان کے شہر خوست کے بالمقابل واقع ہے۔ خوست ان ایام میں ایک افغان / سوویت ائر فیلڈ تھی لیکن تب تک ہمیں اس میں کسی لڑاکا طیارے کی موجودگی کی کوئی خبر نہ تھی۔ لیکن یہ ہمارا محض قیاس تھا۔ میرے سکواڈرن کمانڈر نے مجھے جو ٹاسک دیا اس میں خوست کو ایک ”آرٹیکل آف انٹرسٹ“ (Article of Interest) ظاہر نہ کیا۔ تاہم مجھے یہ آزادی دی گئی کہ میں خود اپنا ونگ مین (Wingman)منتخب کر لوں جسے میں نے منتخب کر لیا۔ ہمیں معلوم تھا کہ ہم جب کمبٹ زون میں داخل ہوں گے

تو ہمارا طیارہ پوری طرح لیس ہوگا اور اس میں مطلوبہ ہتھیار وغیرہ بھی پوری طرح لوڈ ہوگا۔دوسرے لفظوں میں یہ مشن، ایک سنجیدہ بزنس تھا۔ میں نے نقشے پر اس ایریا کو پلاٹ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ خوست کے عین سامنے واقع ہے۔ چنانچہ ہمارا خیال تھا کہ خوست یا اس کے گرد و نواح میں کسی نہ کسی طرح کی نقل و حرکت ضرور ہو گی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ اس ٹارگٹ کو ختم کرنے کے لئے ہمیں گویا ایک لائسنس مل رہا تھا ہر چند کہ اس کی کوئی تصریح نہیں کی گئی تھی۔ہم اس علاقے میں پہنچے اور ایک کمبٹ ائرپٹرول (CAP) قائم کیا جس کا انداز یہ تھا کہ خوست کی طرف سے جو بھی ناگہانی اٹیک (Incursion) ہوگا اس سے عہدہ برآ ہوا جا سکے گا۔ ہمارے ہتھیار تیار حالت میں تھے اور جہاز میں جو راڈار نصب تھے ان سے بھی افغانستان کی فضاؤں کی سکیننگ کی جا سکتی تھی۔ ہم کافی دیر تک اسی حالت میں محوِ پرواز رہے لیکن کسی بھی طرف سے کسی مزاحمت کا اشارہ نہ ملا تو ہم واپس آ گئے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پاک فضائیہ افغان فضائی حدود میں پرواز کر رہی تھی لیکن یہ آخری موقع نہ تھا۔ سوال یہ تھا کہ کیا یہ ہماری طرف سے طاقت کا مظاہرہ کیا جا رہا تھا یا یہ دشمن سے دو دو ہاتھ کرنے کی کوئی امکانی صورتِ حال تھی اس سوال کا ہمیں کوئی جواب نہ مل سکا۔ لیکن جس پروفائل کے ساتھ ہم محوِ پرواز تھے یہ امکانی کمبٹ کا پروفائل تھا۔ یہ افغانستان میں سوویٹ ائر فورس کے خلاف ہمارا پہلا باقاعدہ پلان شدہ مشن تھا ہر چند کہ

اس میں کوئی حقیقی انگیج منٹ نہ ہوئی۔ اس کے بعد کافی دیر تک گرد بیٹھی رہی اور خاموشی کا دور دورہ رہا۔ افغان وار ابھی تک ہمارے ہمسائے میں جاری تھی اور ہنوز گرم پانیوں تک رسائی ہی سوویت یونین کا غالب مقصد تھا۔ایک سال بعد، 1985ء میں، پاک فضائیہ پورا سال سوویت فضائیہ کے ساتھ دست و گریبان حالت میں رہی۔ سوویت طیارے اب ہمارا بارڈر کراس کر رہے تھے۔ ان کا ٹارگٹ پاک۔ افغان سرحد پر یا ہمارے علاقے کے اندر گھس کر ان کیمپوں کو نشانہ بنانا تھا جو پاکستان میں قائم کئے گئے تھے۔ روسیوں کو ہماری سرحد کی خلاف ورزی کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ اور اب ضرورت اس امر کی تھی کہ اس دخل اندازی کو روکا جائے۔ چنانچہ اس طرح کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے ایف۔16 کے دو سکواڈرن تعینات کئے گئے۔ سوویٹ فضائیہ کے طیاروں کو ٹارگٹ کرنے اور نیز انگیج کرنے کے لئے بہت واضح اور تفصیلی پلان تیار کئے گئے۔ صرف ایک شرط یہ رکھی گئی کہ اس دوبدو فضائی لڑائی میں گرائے جانے والے سوویت طیارے کا ملبہ پاکستانی علاقے میں گرایا جائے۔ یہ اس لئے ضروری تھا کہ روسیوں کو یہ ثبوت نہ مل سکے کہ ہم افغان / سوویت علاقے میں جا گھسے تھے اور یہ ہماری طرف سے کوئی جارحانہ ایکشن تھا۔ اگر روسیوں کو یہ ثبوت مل جاتا تو وہ افغان وار کو پاکستان کے اندر لے آتے اور یوں گرم پانیوں تک پہنچنے کی راہ ہموار ہو جاتی!کسی جہاز کا ملبہ پاکستانی علاقے میں گرے گا یا نہیں، اس کا فیصلہ

گراؤنڈ پر راڈار کنٹرولر اور طیارے میں بیٹھے پائلٹ پر تھا۔ بہت سے مواقع ایسے آئے کہ روسیوں نے ہماری علاقائی حدود کی خلاف ورزی کی اور ہم انہیں بآسانی شکار کر سکتے تھے لیکن ایسا اس لئے نہ کر سکے کہ یہ خلاف ورزی پاک افغان سرحد کے نزدیک ہوتی تھی اور اس بات کا غالب امکان تھا کہ سوویٹ طیارہ نشانہ بن کر افغانستان میں جاگرتا۔ ہمارے F-16کے دو سکواڈرنوں نے چار برسوں کے دوران 8سوویٹ طیارے منشانہ بنا کر گرائے جبکہ ہمارے کسی طیارے کو نقصان نہ پہنچا۔ ان 8سوویٹ طیاروں میں ایک طیارہ وہ بھی تھا جس کو روس کا مستقبل کا وائس پریذیڈنٹ اڑا رہا تھا۔ اس کا نام الیگزنڈر روتسوکوئی (Rutskoy) تھا جو اس وقت سوویت فضائیہ میں کرنل تھا۔ ہم نے اس کو پکڑ کر قیدی بنا لیا لیکن کچھ دنوں بعد خیرسگالی کے حوالے سے واپس بھیج دیا…… سوویٹ افواج 1989ء میں افغانستان سے واپس چلی گئیں۔چند برس بعد، میں ایک پاکستانی سفارت خانے میں دفاعی اتاشی تعینات تھا کہ میرا رابطہ ایک روسی فضائی اتاشی سے ہوا جس نے اپنا تعارف یہ کہہ کر کروایا کہ وہ ان ایام میں افغانستان میں مگ۔29کا پائلٹ تھا۔ ہم وہ پرانی یادیں تازہ کرتے رہے جو لڑائی کے دنوں میں فریقین کے درمیان سمجھی اور پائی جاتی تھیں۔ حیران کن حد تک وہ تفصیلات ایک دوسرے کے مماثل ہیں۔ اس نے یہ حقیقت بھی تسلیم کی کہ پاک فضائیہ اور ایف 16کی فضاؤں میں موجودگی اور ان کا تعاقب ہمارے لئے بہت پریشانی کا باعث ہوا کرتا تھا۔ جتنے طیارے انہوں نے ضائع کروائے ان کے پس منظر میں یہ اعتراف کرنے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ بھی تو نہ تھا!پھر 14برس بعد افغانستان میں پاک فضائیہ کی ایک دوسری داستان (Saga) شروع ہوئی۔……یہ نوگیارہ کی لڑائی تھی۔

Comments are closed.