اس میں فتح حاصل کرنے کے لیے وہ کس حد تک جائیں گے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) عمران خان کی سیاسی جدوجہد کو ہم سب نے دیکھا۔ ان کا ابھرنا اور اقتدار میں آنا میرے نزدیک نوجوانوں کو متحرک کرنے‘ ان کے اندر تبدیلی کا جذبہ پیدا کرنے کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کی اشرافیہ‘ متوسط طبقے اور لاکھوں اچھے مستقبل کے خواب دیکھنے والے مخلص پاکستانیوں نے ان کا

بھرپور ساتھ دیا۔ نامور کالم نگار رسول بخش رئیس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ان کی مقبولیت اب بھی قائم ہے‘ کس حد تک کم ہوئی ہے‘ اس کا فیصلہ تو انتخابات میں ہو گا۔ باقی سب اندازے ہیں جو تعصب کی بنیاد پر چلتے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں تحریک انصاف کا پلڑا پنجاب میں نون لیگ سے بھاری نہیں تھا‘ قدرے کم تھا‘ لیکن خان صاحب حکومت بنانے کیلئے بے تاب تھے‘ مرکز میں بھی اور پنجاب میں بھی۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا‘ کہ فارمولے پر انحصار کرنا پڑا۔ ارد گرد اور دور دراز سے ”ہم خیال‘‘ ماضی کے ”گمراہ‘‘ انصاف کے ”راستوں‘‘ پر آنا شروع ہو گئے۔ پنجاب کی حد تک تو میں ”نا لائقی‘‘ کے نعرے کو تقویت پاتا دیکھ رہا ہوں کہ نوکر شاہی میں بدعنوانی زوروں پر ہے اور بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ وہ نہیں جو کپتان کہتے ہیں۔بات طول پکڑ گئی مگر یہ سب کچھ نیا سیاسی محاذ بننے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ میاں صاحب کی خاموشی کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے۔ میری رائے مختلف ہے۔ نون لیگ اور دیگر جماعتیں کپتان کی مقبولیت اور نئی حکومت کے تبدیلی کے نعروں سے کسی حد تک مرعوب تھیں۔ ان کی ماضی کی ”کارکردگیوں‘‘ کا بوجھ بھی بہت زیادہ تھا اور ان کے حمایتی سماجی حلقے اقتدار کا سایہ ڈھلنے کے بعد دلبرداشتہ‘ مایوس اور بکھرے نظر آئے۔ رائے یہ بن چکی ہے کہ میاں صاحب دب چکے ہیں‘ سمجھوتہ کر لیا ہے اور اب اگلے انتخابات تک موجودہ حکومت کو چلنے دیں گے۔

میاں صاحب نے فیصلہ کر لیا ہے۔ اب وہ اپنی سیاسی زندگی کی آخری لڑائی لڑنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ ان کی پانچویں لڑائی ہے۔ بھٹو سیاسی خاندان کے خلاف مقدمات کی بھرمار اور حکومت گرائو مہم‘ صدر غلام اسحاق خان سے اصولی حکمرانی پر تصادم‘ اور پھر فاروق خان لغاری اور سجاد علی شاہ کا گٹھ جوڑ‘ پرویز مشرف کو نوکری سے فارغ کرنا وزیر اعظم کی قانونی طاقت تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ آئین کی حکمرانی کا جو حال مشرف صاحب نے کیا‘ تو پھر نتائج وہی ہوتے ہیں‘ جو سامنے آئے۔ میاں صاحب نے اقتدار میں رہ کر جو کچھ کیا‘ نہ کبھی تائید کی اور نہ کی جا سکتی ہے‘ مگر اس بات کا اعتراف ہے کہ جمہوری برتری کیلئے مزاحمت‘ جرأت اور قربانیاں جو انہوں نے دیں‘ پاکستان کی تاریخ میں کوئی اور نہیں دے سکا۔ تقریباً تیس سال پہلے جب غلام اسحاق خان کی صدارتی آمریت کے خلاف اٹھے اور یہاں تک کہ اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے‘ تو اس دن سے وہ پھر کسی کی پیدا کردہ سیاسی شخصیت نہیں بلکہ پاکستان کے مقبولِ عام رہنما بن گئے تھے۔ میاں صاحب نے مزاحمت کی لڑائی کا اعلان کر دیا ہے۔ جو باتیں دبے لفظوں میں لوگ کرتے تھے‘ انہیں اپنا سیاسی نظریہ بنا دیا ہے۔ کامیاب ہوں یا نہ ہوں‘ انہوں نے اپنا نام پاکستان کی جمہوری تاریخ میں جمہوریت کی برتری کے حوالے سے لکھوا دیا ہے۔ فی الحال اگرچہ حکمران دھڑوں میں خوف کی فضا پیدا کر دی ہے‘ آگے بہت بڑے دریا ہیں‘ جو انہیں عبور کرنے ہوں گے۔ فارمولے ہیں تو پھر فارمولے ہی ہوں گے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *