اس نے یہاں کیا گل کھلائے ۔۔؟؟

لاہور (ویب ڈیسک ) جنوبی پنجاب ضلع مظفر گڑھ کے رہائشی ایک محنت کش عبدالغفورنے عزت کے نام پر اپنی جواں سالہ بیٹی جویریہ کو  مظفر گڑھ سے لا ہور  لاکر زندگی سے محروم کر دیا اورعلاقے میں یہ ڈرامہ رچادیاکہ اس نے بیٹی کی صوبہ سندھ میں شادی کر دی ہے۔

نامور صحافی یونس باٹھ اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے اس لواردات کا نشان مٹانے کی غرض سے باپ اپنے لاہور میں مقیم دوبیٹوں سے منصوبہ بندی کے تحت بیٹی کو زندگی سے محروم کرنے کا موجب بنتا ہے۔ طے شدہ منصوبے کے تحت بیٹی کو زندگی سے محروم کرکے اسکو وقوعہ سے کئی کلومیٹر دور لے جاکرسڑک  کے ایک جانب جنگل میں بوری بند کرکے پھینک دیاجاتا ہے اور ملزمان خود وہاں سے خاموشی سے واپس چلے جاتے ہیں، واقعہ سر زد ہونے کی کسی کو کان و کان خبر نہیں ہونے دی جاتی۔ بالآخر جویریہ کے والد عبدالغفور نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے شک تھا کہ میری بیٹی کے کسی کے ساتھ تعلقات ہیں لہٰذا میں نے اپنی بیٹی کو بہانے سے مظفر گڑھ سے لاہور بھائیوں کے پاس منتقل کر دیا لیکن پھر بھی ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ تھم نہ سکا۔میں نے اپنے بیٹوں عبدالشکور اور اقبال کے ساتھ مل کر اپنی بیٹی جویریہ کو زندگی سے محروم کرنے کا منصوبہ بنایا اور واقعہ کے روز ہم نے گھر میں جویریہ کو زندگی سے محروم کر دیا اور اسکے جسم کو بوری میں بند کر کے گجر پورہ کے علاقہ میں سڑک کنارے جنگل میں پھینک کر خاموشی سے فرار ہو گئے کسی کو ہم پر شک نہ ہو اس لئے ہم نے جویریہ کی عمر کوٹ سندھ میں شادی کرنے کا ڈرامہ رچایا تھا۔جویریہ کے والد عبدالغفور نے بتایا ہے کہ اس کا تعلق مذہبی گھرانے سے ہے اس کے دو بیٹوں کو مساجد میں امامت کروانے کا شرف بھی حاصل ہے اولاد اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت اور ایک انمول تحفہ ہے اللہ تعالی نے اسے چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں عطا کر رکھی ہیں وہ اپنی بیٹی کی وجہ سے اکثر پریشان رہتا تھا، اس کی جواں سالہ بیٹی جویریہ نے ان  کے لیے ایسے حالات پیدا کر دیئے جس سے پورا خاندان پریشان تھا وہ ایک بہت ہی چھوٹا زمیندار اور محنت مزدوری کر کے خاندان کی کفالت کررہا تھا کہ اس کی بیٹی نے علاقے کے ایک اوباش نوجوان سے مراسم قائم کر لئے جس کا اسے بہت رنج تھا اس نے اپنی بیٹی کو بہت سمجھایا مگر وہ باز نہ آئی بالآخر تنگ آکر وہ  بیٹی کو مظفرگڑھ سے لاہور لے آیا لاہور میں

اس کے دو بیٹے قیام پذیر تھے ایک بیٹا اقبال بادامی باغ کے علاقہ میں، جبکہ دوسرا بیٹا عبدالشکور کالا خطائی روڈ پر ایک مسجد میں امامت کے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔جواں سالہ بیٹی کو جب لاہور لایا تو اس نے اسے بادامی باغ میں رہائش پذیر بیٹے کے پاس چھوڑ دیا اس کی بیٹی یہاں آ کر بھی بری حرکات سے باز نہ آئی اور موبائل فون کے ذریعے اپنے دوست سے روابط قائم رکھے،وہ لڑکا بھی لاہور پہنچ گیا اور یہ دونوں چوری چھپے آپس میں ملتے رہے یہ امر ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا اس نے اپنے بیٹے اقبال اور عبدالشکور سے جویریہ کو سبق سکھانے کا منصوبہ بنایا اور طے شدہ منصوبے کے مطابق وہ اپنی بیٹی کو اقبال کے ہمراہ کالا خطائی روڈ پر عبدالشکور کے پاس لے گیا،مسجد سے ملحقہ مکان میں عبدالشکور اپنے بچوں کے ہمراہ رہائش پذیر تھا وہاں اس نے دونوں بیٹوں اقبال اور عبد الشکورسے مل کر جویریہ کو زندگی سے محروم کر دیا عبدالغفور سے جب یہ سوال کیا گیا کے اسے بیٹی پر ترس نہ آیا، اس واقعہ پر افسوس یا پچھتاوا پریشان کرتا ہے تو اس نے بڑی تسلی سے جواب دیا کہ وہ اپنے اس عمل پر شرمندہ نہیں، بہت مطمئن ہے اس نے ساتھ یہ بھی کہا یہ میری دعا ہے کہ اللہ تعالی سب کی بیٹیوں کو ایمان دے اور نیک کرے کیونکہ جو نوبت میرے ساتھ پیش آئی ہے کسی باپ کو یہ دن دیکھنے سے پہلے ہی اللہ اٹھا لے ۔ لڑکی کے بھائی اور امام مسجد عبدالشکور سے سوال کیا گیا کہ آپ سارا دن لوگوں کو نیکی کی تبلیغ کرتے ہیں اور خود آپ نے اتنا بڑا گناہ کر دیا ہے آپ کو عذاب الہی سے زرا خوف نہیں آیا تو اس کا کہنا تھا انہوں نے یہ فیصلہ درست ہی کیا ہے اسی طرح اقبال کے خیالات بھی ان سے ملتے جلتے تھے۔مقدمے کے مدعی اور انچارج انویسٹی گیشن محمد آصف نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کیس اس کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا اندھے کیس کو ٹریس کرنا آسان نہیں ہوتا، تقریبا چھ ماہ دن رات کام کرنے کے بعد اسے اور ان کی ٹیم کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *