اس وقت عا م آدمی پر کیا گزر رہی ہے اور وہ کیا سوچ رہا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ایک کروڑ نوکریاں دینے کی بات تو اب لطیفہ بن چکی ہے تاہم معمول کی ملازمتیں پیدا کرنا تو حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یہاں تو یہ لگتا ہے حکومت نے اس طرف سے بالکل منہ موڑ رکھا ہے۔

گویا یہ مسئلہ اس کے نزدیک کوئی مسئلہ ہی نہیں حالانکہ آج کا سب سے بڑا مسئلہ ہی بے روزگاری ہے۔ سیاسی لڑائیاں ہوں یا ایک دوسرے کے خلاف الزامات کی دوڑ، اس میں سب بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ پنڈورا پیپر آ جائے تو ساری توجہ اس کی طرف مبذول ہو جاتی ہے۔ حالانکہ ہونا وہاں بھی کچھ نہیں، وہ ایشوز جن کا تعلق براہ راست عوام سے ہوتا ہے کبھی توجہ نہیں پاتے۔ سب دیکھ رہے ہیں پہلے سے مسائل میں گھرے ہوئے معاشرہ کا اب سنگین ترین مسئلہ بے روزگاری ہے۔ سب سے زیادہ بے روز گار بھی وہ طبقہ ہے جو یونیورسٹی کی سطح سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر چکا ہے گویا ملک کا پڑھا لکھا طبقہ گھروں میں بیٹھا ہے۔ ان کی شادیوں کے مسائل ہیں، بوڑھے والدین کو سہارا دینے کا وقت ہے یہ کسی ایک شہر کسی ایک گھر کا مسئلہ نہیں، جب 16 سے 18 سال تک تعلیم کے حصول میں گزار کر ہمارا یہ نوجوان طبقہ عملی زندگی میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے کوئی جگہ نہیں ملتی، کوئی روز گار کا در اس کے لئے وا نہیں ہوتا تعلیم کے نت نئے ادارے تو کھل رہے ہیں مگر روزگار کے دروازے نہیں کھولے جا سکے۔ پنجاب میں تین برسوں کے دوران صرف ایک بار پبلک سروس کمیشن کے ذریعے چند سو لیکچرر بھرتی کرنے کا عمل شروع ہوا، اس کی تکمیل میں بھی سال سے اوپر لگ گیا۔اس دوران ہزارروں نہیں لاکھوں نوجوان اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں لے کر میدان میں آ گئے لیکن معمولی پرائیویٹ نوکریوں کے

سوا ان کی تعلیم اور صلاحیت کے مطابق ان کو کہیں کوئی جاب نہیں ملی۔ پنجاب ہی میں سکول اساتذہ کی 33 ہزار آسامیوں پر بھرتی کا اعلان کر کے بجٹ نہ ہونے کو بہانہ بنایا گیا اور یہ سلسلہ منسوخ ہو گیا۔ گویا 33 ہزار اساتذہ کی پنجاب کے اسکولوں میں کمی ہے، جسے پورا نہیں کیا جا رہا اور دوسری طرف تعلیم یافتہ نوجوان بھی روزگار سے محروم رکھے جا رہے ہیں، بے روزگاری کا یہ عالم ہے گزشتہ دنوں میڈیکل افسر کی چند سو آسامیوں کے لئے پندرہ ہزار سے زائد درخواستیں جمع کرائی گئیں، یہ اس پروفیشنل ڈگری جسے ایم بی بی ایس کہتے ہیں اور جس کے لئے نجانے والدین کتنے پاپڑ بیلتے ہیں، کی بے روزگاری کا حال ہے، عام ڈگریوں کے بارے میں آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔جب بے روزگاری بڑھ جاتی ہے تو استحصالی طبقہ بھی جنم لیتا ہے، جو ان اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی مجبوریاں خریدتا ہے۔ انجینئر اور ایم بی بی ایس کرنے والے بھی نجی اداروں میں معمولی تنخواہ پر کام کرتے عام مل جاتے ہیں، ایم اے/ ایم ایس سی اور ایم فل کی ڈگری والوں کا تو کوئی پرسانِ حال ہی نہیں۔ آج سوشل میڈیا پر ایسی بے شمار پوسٹیں مل جاتی ہیں جن میں بتایا گیا ہوتا ہے کہ ایک ایم فل ہولڈر پکوڑوں یا نان چھولے کی ریڑھی لگا کر اپنے گھر کا گزارا کر رہا ہے یا اسے کسی جگہ محنت مزدوری کرتے دکھایا جاتا ہے۔ جہاں تک پرائیویٹ سکولوں حتیٰ کہ بڑی بڑی اکیڈیمیوں کا تعلق ہے وہ بھی ایسے نوجوانوں کو اتنا معاوضہ دیتے ہیں جو آج کل کے مزدور سے بھی کم ہوتا ہے۔

سب سے بری حالت لڑکیوں کی ہے، جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں سب سے آگے ہیں ان کی ذہانت اور قابلیت پر بھی کسی کو شک نہیں مگر ان کے لئے روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پروفیشنلز تعلیمی اداروں یعنی میڈیکل کالجز اور انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں بھی طالبات لڑکوں سے زیادہ پڑھ رہی ہیں اب یہ پرلے درجے کی بد انتظامی اور عدم منصوبہ بندی ہے کہ آپ ایک شعبے میں لڑکیوں کو تعلیم دیئے جا رہے ہیں مگر آگے ان کے لئے مواقع پیدا نہیں کر رہے۔ یعنی قومی وسائل کا ضیاع ہو رہا ہے کوئی اس پر توجہ دینے کو تیار نہیں۔جناب مجیب الرحمن شامی نے کئی بار یہ کہا ہے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ آبادی کا ایٹم بم ہے یہ تمام مسائل کی جڑ ہے۔ اسے کنٹرول نہ کیا گیا تو لاکھ کوششوں کے باوجود بہتری نہیں آ سکے گی۔ اس سے بھی زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے، یہ وہ تعلیم ہے جسے روائتی تعلیم کہا جاتا ہے، کئی بار یہ سوال اٹھا ہے کیا ہمیں اس روائیتی تعلیم کی ضرورت ہے یا ہمیں فنی تعلیم کی طرف جانا چاہئے تاکہ ہنر مند افراد پیدا کر کے ان کے ذریعے روز گار کے نئے دروازے بھی کھولے جائیں، ملک کو معاشی طور پر اپنے پیروں پر بھی کھڑا کیا جا سکے۔ ایک زمانے میں ماسٹر کی سطح تک تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد 2 فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی تھی اب یہ ایک جائزے کے مطابق 10 سے پندرہ فیصد کے درمیان ہے سرکاری یونیورسٹیاں، دھڑا دھڑ اپنے علاقائی کیمپس کھول رہی ہیں

اور نجی یونیورسٹیاں ایچ ای سی کی کرم فرمائی سے بغیر معیار اور مطلوبہ فیکلٹی کی ڈگریاں بانٹ رہی ہیں اس بھیڑ چال نے اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بھی نقصان پہنچایا ہے اور بے روز گاروں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا ہے جو بھی کسی نجی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیتا ہے وہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری لئے بغیر باہر نہیں آتا، چاہے اس کی ذہنی استعداد اس کے قابل نہ بھی ہو۔ یہ ادارے ڈگری بانٹنے کی فیکٹریاں بن کر رہ گئے ہیں جس سے تعلیمی معیار کے ساتھ ساتھ ڈگری حاصل کرنے کے جنون میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کا منفی نتیجہ یہ نکلتا ہے جو اچھے اداروں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں وہ بے روزگاروں کے ہجوم میں گم ہو کر اپنے حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔حکومتی زعماء اکثر یہ تو کہتے ہیں روزگار فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں اسے سیاسی نعرہ بھی انہوں نے ہی بنایا تھا۔ جب سیاسی جلسوں میں عمران خان یہ بلند بانگ دعوے کرتے تھے، ملک سے بے روزگاری ختم کریں گے، ایک کروڑ نوکریاں دیں گے،تو اس وقت انہیں کیوں یاد نہیں تھا کہ ملازمتیں دینا حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ اگر ملازمتیں دینا حکومت کا کام نہیں تو کم از کم اسے ملک میں ایسے حالات تو پیدا کرنا چاہئیں کہ ملک میں روزگار کے مواقع بڑھیں سب سے اہم ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ حکومت نجی سیکٹر کے لئے نوجوانوں کی تعلیم کے حساب سے شرائط ملازمت طے کرے۔ تاکہ نوجوانوں کے استحصال کا خاتمہ ہو سکے۔ آج تو یہ عالم ہے ایم اے پاس نوجوانوں کو چند ہزار روپے کی ملازمت دی جاتی ہے، کیونکہ وہ محنت مزدوری نہیں کر سکتا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے وائٹ کالر جاب چاہتا ہے حکومت کو چاہئے وہ اپنے تین سالہ دور کے اعداد و شمار سامنے لائے کہ اس نے کتنے نوجوانوں کو اس عرصے میں روزگار دیا۔ جبکہ اس کے بارے میں تاثر یہ ہے اس نے بے روزگار زیادہ افراد کئے ہیں اور روز گار کم افراد کو دیا ہے۔ ہماری سیاسی اشرافیہ بھی شاید یہی چاہتی ہے ملک میں بے روزگاری رہے تاکہ اس پر سیاست کی جا سکے۔ اس تین سال کے عرصے میں پارلیمینٹ کے اندر اور باہر سیاسی بحران اور کشیدگی کے مناظر تو دیکھنے کو ملے۔ لیکن عوام کے مسائل سے تعلق رکھنے والے معاملات پر کوئی وتجہ نہیں دی گئی۔ حکومت نہ ہی اپوزیشن کو اس کی فکر ہے کہ بے روزگاری کا عفریت معاشرے کو کس قدر اذیت میں مبتلا کر چکا ہے مجھے ایسے نوجان روزانہ ملتے ہیں جو بے روزگاری کے ہاتھوں مایوسی کا شکار ہیں۔ اپنی پڑھی لکھی نئی نسل کو مایوسی میں مبتلا کر کے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے حکمران چین کی نیند کیسے سو لیتے ہیں؟