اس وقت کسے ہاٹ فیورٹ قرار دیا جارہا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی وجیہہ الدین خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ قومی اسمبلی کی سیٹNA-75اور صوبائی اسمبلی کی سیٹ PP-51 کے نتائج خصوصی اہمیت کے حامل ہیں تا کہ عوامی مقبولیت کو جانچا جا سکے اور بلدیاتی الیکشن کیلئے با قاعدہ تیار کیاجا سکے۔ قومی اسمبلی کی سیٹNA-75پر

مسلم لیگ (ن) کی نا مزد امید وار سیدہ نوشین افتخار اور تحریک انصاف کے نامزد امید وار علی اسجد ملہی میں کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے ۔ یہ سیٹ سید افتخار الحسن شاہ المعروف سید ظاہرے شاہ کے کرونا کی وجہ سے انتقال کر جانے سے خالی ہوئی ہے۔ مسلم لیگ (ن)کے امید وار سید افتخار الحسن شاہ نے 2018 کے جنرل الیکشن میں 1,01,769 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ انکے نزدیک امید وار علی اسجد ملہی جو کہ پاکستان تحریک انصاف کے امید وار تھے صرف 61,727ووٹ حاصل کر سکے تھے ۔آزاد امید وار عثمان عابد 57,778 ووٹ حاصل کر کے تیسرے نمبر پر رہے تھے ۔ عثمان عابد جنرل الیکشن 2018میں پاکستان تحریک انصاف کی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے خواہاں تھے مگر ٹکٹ علی اسجد ملہی کو ملنے کی وجہ سے عثمان عابد نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا اور قابل ذکر ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو ئے۔ سید ظاہرے شاہ اس حلقہ سے مسلسل جیتے چلے آ رہے تھے لہذا سید ظاہرے شاہ کی مقبولیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن)نے اپنی جماعت کی ٹکٹ ان کی بیٹی سیدہ نوشین افتخار کو دی تاکہ مقبولیت کا تسلسل بر قرار رکھا جا سکے۔ ضلع سیالکوٹ میں پاکستان تحریک انصاف صرف ایک صوبائی سیٹ جیتنے میں کامیاب ہو سکی تھی جبکہ تمام قومی اسمبلی کی سیٹوں پر پاکستان مسلم لیگ(ن)کے امید وارکامیاب ہوئے تھے جبکہ صوبائی اسمبلی کی سیٹیں مسلم لیگ(ن)کے امید واروں نے جیتیں تھیں۔ ایک امید وار مسلم لیگ (ق)سے کامیاب ہوا تھا۔ اس طرح ضلع سیالکوٹ کی پانچ قومی اسمبلی

اور 11صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر واضح بر تری پاکستان مسلم لیگ(ن)کو حاصل رہی ہے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (PDM)کی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ جس جماعت نے جنرل الیکشن میں جو نشست جیتی تھی دیگر جماعتیں ضمنی الیکشن میں اسی جماعت کے امید وار کی حمایت کریں گی اور پی ۔ڈی۔ ایم میں موجود جماعتیں اپنا امید وار نامزد نہ کریں گی۔ اس طرح پاکستان مسلم لیگ(ن)کی امید وار سیدہ نوشین افتخار کو پی۔ ڈی۔ ایم کی دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل ہے جو کہ جنرل الیکشن2018میں ان کے والد سید ظاہرے شاہ کو حاصل نہ تھی۔ پاکستان تحریک انصاف نے اپنی ٹکٹ علی اسجدملہی کو دی ہے جو 2018 کے جنرل الیکشن میں بھی پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ چکے ہیں۔ 2018کے الیکشن میں آزاد امید وار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے والے امید وار عثمان عابد بھی علی اسجد ملہی کی بھر پور حمایت کر رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی تنظیم نے انتہائی منظم انداز میں علی اسجد ملہی کی موثر الیکشن مہم چلائی ہے جس کا سہرا سیف اللہ نیازی چیف آرگنائزر تحریر انصاف کو جا تا ہے جو کہ تحریک انصاف کو یکجا کر کے موثر الیکشن مہم چلانے میں کامیاب ہو ئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت سیالکوٹ ۔ ڈسکہ کو مسلم لیگ (ن)کا اہم مر کز تصور کیا جا تا ہے اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت جیلوں میں قید ہو نے کی وجہ سے موثر حکمت عملی بنانے سے قاصر ہے ۔تحریک انصاف کے مختلف گروپوں میں اختلافات کو ختم کر وانے اور الیکشن کی مؤثر مہم

کے اہم کر دار عمر فاروق مائر ڈپٹی سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف قابل ذکر ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز نے الیکشن مہم میں اپنی جماعت کا بیانیہ انتہائی موثر طریقے سے بیان کیا ہے اور اپنی جماعت کے امید وار کی الیکشن مہم میں عوامی توجہ حاصل کی ہے۔ پنجاب اسمبلی کی سیٹ پی پی ۔51پر پاکستان مسلم لیگ(ن)کی امید وار مسز طلعت منظور چیمہ کا مقابلہ پاکستان تحریک انصاف کے امید وار چوہدری محمد یوسف سے متوقع ہے ۔ یہ سیٹ چوہدری شوکت منظور کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی ہے اور جنرل الیکشن 2018 میں چوہدری شوکت منظور نے59267ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ تحریک انصاف کے امید وار محمد شبیر اکرم 27431ووٹ حاصل کر سکے تھے۔ ضلع گوجرانوالہ میں قومی اسمبلی کی 6نشستیں جبکہ صوبائیں اسمبلی کی 14 نشستیں ہیںجو کہ جنرل الیکشن 2018میں مسلم لیگ (ن)کے امید واروں نے جیتیں ہوئی ہیں۔ اس طرح ضلع گوجرانوالہ مسلم لیگ(ن)کا گڑھ تصور کیا جا تا ہے جبکہ تحریک انصاف نے جنرل الیکشن 2018میں نامزد امید وار کو تبدیل کر کے ٹکٹ چوہدری محمد یوسف کو دی ہے اور مسلم لیگ (ن)نے ٹکٹ چوہدری شوکت منظور کی بیوہ مسز طلعت منظور چیمہ کو جاری کی ہے۔ اس حلقہ میں چوہدری محمد یوسف آرائیں برادری کو متوجہ کرنے کی کو شش کر رہے ہیں جبکہ مسز طلعت منظور چیمہ کو جاٹ برادری کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔ اگر دونوں حلقوں کا عوامی جائزہ لیا جائے تو مہنگائی سے پریشان عوام تحریک انصاف کی جانب خاطر خواہ مائل ہوتے نظر نہ آ رہے ہیں۔ اسکی بڑی وجہ ماضی کی حکومتوں کا فنڈ کا بے دریغ استعمال تھا جو کہ الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہو تا نظر آتا تھا۔ الیکشن کے نتائج خواہ کچھ بھی ہوں ان کا اثر قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی پر ہر گز نہ ہو گا کیونکہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ عوامی عدم دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے ان ضمنی الیکشن میں ووٹنگ کا ٹرن آئوٹ40فیصد کے لگ بھگ رہے گا۔ کم ٹرن آئوٹ ہونے کی وجہ سے جنرل الیکشن میں جیتنے والے امیدواروں کی نسبت ضمنی الیکشن میں کامیاب امید وار کم ووٹ حاصل کر سکیں گے جبکہ نتائج ماضی سے مختلف نہ ہو نے کی توقع کی جا رہی ہے۔موثر جمہوری نظام کے تسلسل کے لئے ضروری ہے کہ عوامی دلچسپی کو انتخابات کے عمل میں بر قرار رکھا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ منتخب نمائندے عوامی ترجیحات کے مسائل حل کر نے کیلئے ہمہ وقت اپنا کر دار ادا کریں۔

Comments are closed.