اس کی ابتدا دنیا کے کس ملک سے ہوگی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ گاڑیوں کی ایجاد سے پہلے ہم سوچا کرتے تھے کہ تانگوں اور گدھا گاڑیوں کا گوبر کہاں پھینکیں یا موبائل فون سے پہلے ہماری توانائیاں ٹیلیفون لائن بچھانے پر لگی ہوئی تھیں۔ یہ معمولی سی باتیں تھیں،

لیکن آج ہم خوفناک مسائل کا سامنا کر رہے ہیں جیسے دُنیا کو تباہی سے بچانے کیلئے ماحول کی تبدیلی کو بدلنے کے چیلنج سے نبردآزما ہیں۔ چاہتے ہیں کہ کوئی بہتر ویکسین دریافت ہو جائے اور ہم موت کی آغوش میں جانے سے بچ جائیں یا پھر ہماری خوراک اور توانائی کی ضروریات آئندہ سالوں میں کیسے اور کہاں سے پوری ہوں گی۔ گذشتہ مسائل تو انسانی دسترس میں تھے، لیکن موجودہ مسائل تو ایسے ہیں کہ دُور دُور تک ان کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا۔ ہماری انسانی تہذیب و تمدن کی تباہی کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بہت بڑی عالمی لڑائی سے منسلک فرمایا تھا جسے ’’ملحمتہ الکبریٰ‘‘ کہا جاتا ہے۔ عیسائی اور یہودی اسے آرمیگاڈون کہتے ہیں۔ حدیث کے مطابق اس لڑائی کا آغاز شام اور عراق کے دریا فرات سے ہو گا۔ آپؐ نے فرمایا ’’قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نکل آئے جس پر لوگوں کا جانی نقصان ہو گا اور ہر سو میں سے ننانوے آدمی جانوں سے محروم کر دیے جائیں گے اور ان میں سے ہر آدمی کہے گا شاید میں ہی وہ ہوں جسے نجات حاصل ہو گی اور یہ خزانہ میرے قبضہ میں رہ جائے گا‘‘۔ (مسلم)۔ ایک روایت میں ہے، ’’پس جو اس وقت موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے‘‘۔ (متفق علیہ)۔ سیدنا ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں، ’’ہمیشہ لوگوں کی گردنیں دُنیا کے طلب کرنے میں ایک دوسرے سے اختلاف کرتی رہیں گی۔

میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’عنقریب دریائے فرات سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہو گا جب لوگ اس کے بارے میں سنیں گے تو اس کی طرف روانہ ہوں گے۔ پس جو لوگ اس کے پاس ہوں گے وہ کہیں گے اگر ہم نے لوگوں کو چھوڑ دیا تو وہ اسے سارے کا سارا لے جائیں گے، پھر وہ اس پر لڑائی کریں گے، پس ہر سو میں سے ننانوے آدمی زندگیوں سے محروم کئے جائیں گے‘‘۔ (مسلم) آج سے پہلے ہم اس حدیث کی تعبیر یہ کیا کرتے تھے کہ چونکہ عراق میں تیل ہے اور تیل ان دنوں کرنسی کے گولڈ سٹینڈرڈ یعنی سونے کا نعم البدل ہے اس لئے یہی دراصل سونے کا پہاڑ ہے جس پر آخری بڑی لڑائی ہو گی۔ عراق کی دو لڑائیوں نے بھی اس سمت اشارے دیئے تھے، لیکن یوں لگتا ہے اب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی حرف بہ حرف ثابت ہونے والی ہے۔ دریائے فرات جو کہ ترکی سے شام اور پھر عراق سے گزرتا ہے ، وہ اب تقریباً خشک ہو چکا ہے اور اس کے اردگرد کی آبادیاں ہجرت کر رہی ہیں جبکہ ترکی کے علاقے سے فرات کے خشک ہونے کے بعد وہاں ایک سونے کا پہاڑ نکلا ہے جو 99 ٹن سونے پر مشتمل ہے۔ جس کی مالیت 16 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ صرف ایک چھوٹے سے حصے سے نکلنے والا سونے کا پہاڑ ہے۔ (اوریا مقبول جان کا کالم روزنامہ 92 میں شائع ہوتا ہے )