اس کے بعد مزید کیا گفتگو ہوئی ؟ جان کر آپ ہنس ہنس کر دوہرے ہو جائیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔دوستو،بادشاہ سلامت اکبر کا اصرا ر تھا کہ ان کی مملکت میں اکثریت سے لوگ بینائی کے حامل ہیں، لیکن ملا دو پیازہ مصر تھا کہ مملکت میں اندھوں کی اکثریت غالب ہے۔۔ملا دو پیازہ نے اپنے دعوے کا عملی تجربہ کرنا چاہا اور بادشاہ

سے عرض کی کہ جیسا وہ کہے گا بادشاہ سلامت اس پر عمل پیرا ہونگے، اور بیربل کو ریفری مقرر کیا گیا کہ وہ ایک کاغذ لے کر بیٹھ جائے اور اندھوں اور بیناؤں کی فہرست مرتب کر ے، دن کے ختم ہونے پر موازنہ کیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ اندھوں اور آنکھ والوں کا تناسب کیا ہے؟؟۔۔ ملا دوپیازہ رسیاں بنانے کا سامان لے آیا اور بادشاہ سلامت کے ساتھ راستے میں رسیاں بنانے لگے۔ بیربل ایک کاغذ لے کر بیٹھ گیا اور اندھوں کے نام لکھنا شروع کر دیا، جو پہلا شخص ان کے قریب آیا اس نے سوال کیا، ظل الٰہی آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟، ملا دوپیازہ نے بیربل سے کہا اس کا نام لکھ لو (یعنی اندھوں میں) اس طرح دن بھر جتنے بھی لوگ ان کے پاس سے گزرے ہر ایک نے یہی سوال کیا کہ ظل الٰہی کیا کر رہے ہیں؟ اور ملا دوپیازہ ہر بار بیربل سے یہی کہتا کہ اس کا نام بھی لکھ لو۔ سورج غروب ہوا تو بیربل نے لسٹ دربار عالی میں پیش کی تو معلوم ہوا کہ دن بھر جتنے بھی لوگ ان کے قریب سے گزرے تھے سارے ہی اندھے تھے۔۔غیر شادی شدہ ہمیشہ شادی شدہ سے دانا ہوتا ہے جبھی تو وہ غیر شادی شدہ ہوتا ہے۔ شادی کرنا اور درویشی اختیار کرنا ایک جیسی بات ہے۔ دونوں کو دنیا ترک کرنی پڑتی ہے، ایک کو اللہ مل جاتا ہے، دوسرے کو بیوی۔۔پہلی بیوی اور پہلی گاڑی عموماً تجربہ حاصل کرنے کے کام آتی ہیں۔۔

پہلی گاڑی مزدا 1979 بھی ہو تو پجارو 2016 لگتی ہے،، اسٹیرنگ دونوں ہاتھوں سے پکڑا ہوتاہے اور نظر سامنے سڑک پرہوتی ہے، پھر جوں جوں تجربے کارہوتا ہے تو توجہ ڈرائیونگ سے ہٹ کر ساتھ سے گزرنے والی گاڑیوں کی طرف ہوتی جاتی ہے، اسٹیئرنگ بھی ایک ہاتھ کے تابع ہو جاتا ہے، ڈینٹ سارے پہلی گاڑی کو پڑتے ہیں اور جب گاڑی چلانے کا سلیقہ آتاہے تو نئی آ جاتی ہے، اسی طرح پہلی بیوی جیسی بھی ہو”ہیر“ہی لگتی ہے۔۔ اور پانچ دس سال نظر اسی سے نہیں ہٹتی،ہماری ساری بیوقوفیاں، نفسیاتی اور جذباتی حماقتیں پہلی بیوی برداشت کرتی اورہماری کوچنگ کرتی ہے، بچت کرتی ہے اور ہمیں مالی طور پر پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دیتی ہے۔۔ جب ہمیں بیوی رکھنے کا سلیقہ آتا ہے تو سوچتے ہیں یہ بھی کوئی رکھنے کی چیزہے؟؟بدل لو۔۔جو بائیڈن کے دفتر کے نمبر فون بجا اور اس نے اٹھایا تو دوسری طرف جو صاحب تھے انہوں نے کہا کہ میں چک جھمرہ،فیصل آباد صوبہ پنجاب پاکستان سے اشرف اچھو بول رہا ہوں اور فون یہ بتانے کو کیا ہے کہ ہم تم پر اٹیک کرنے آ رہے ہیں۔ بائیڈن نے کہا کہ اٹیک تو کر لو لیکن تمہارے پاس فوج کتنی ہے؟؟ اشرف اچھو بولا کہ آٹھ لوگ ہیں۔ میں ہوں، میرا بیٹا رشید شیداہے، ہماراہمسایہ رحیم ہے اور پانچ کھلاڑی ہیں، ہماری کبڈی ٹیم کے۔ بائیڈن نے کہا،سوچ لو میرے پاس دس لاکھ کی فوج ہے۔۔اشرف اچھو نے کہا اچھا۔ چلو میں کل فون کرتا ہوں تمہیں۔۔اشرف اچھو نے اگلے دن پھر فون کیا اور کہا

کہ ہم نے مشورہ کیا ہے اٹیک تو ہم کریں گے کیونکہ ہم نے تو لڑائی کا سارا سامان وغیرہ اکٹھا کر لیا ہے۔ بائیڈن نے پوچھا کہ کیا سامان ہے تمہارے پاس؟؟۔۔۔ اشرف اچھو نے کہا کہ، میرے پاس دو نالی ہے، رحیم کے پاس بارہ بورہے،میرے بیٹے کی گھوڑی ہے اور ہم نے ٹریکٹر مانگ لیاساتھ والوں سے۔ بائیڈن نے کہا۔۔ میرے پاس سولہ ہزار ٹینک ہیں، چوبیس ہزار بکتر بند ہیں اور دس ہزار جہاز ہیں۔اشرف اچھونے کہا، اچھا میں کل فون کروں گا۔۔اگلے روز پھر اشرف اچھو نے فون کیا اور بائیڈن کے ہیلو بولتے ہی کہنے لگا۔۔ہم نے سوچا ہے کہ لڑائی ملتوی کردی جائے۔۔بائیڈن نے پوچھا کیا ہوا؟؟۔ تواشرف اچھو نے کہا کہ تیاری تو ہماری پوری ہے لیکن کل ڈیرے پر بیٹھے بات کر رہے تھے تومیرے پتر نے کہا ہے کہ ابا،اپنا ڈیرہ چھوٹا ہے، دس لاکھ قیدی ہم نہیں رکھ سکتے، اس لئے ہم نے اب ارادہ بدل دیا ہے۔۔کہتے ہیں کہ ایک مشہور لٹیرا کچھ نیک لوگوں کی صحبت کی وجہ سے وارداتوں سے باز آ گیا،مگر بیروزگاری اور غربت کی وجہ سے گھر میں نوبت فاقوں تک آن پہنچی، تو وہ ایک دن ایک بڑے مزار پر گیا اور دن دیہاڑے وہاں چھت پر لٹکتا فانوس اتار لایا۔ مزار پر بیٹھے مجاور اسے پہلے سے جانتے تھے کہ بہت جرّی اور لڑاکا ہے، سو کچھ کہنے کی جرات نہ کرسکے۔۔ لٹیرے نے وہ فانوس 1886ء میں قریباً چالیس ہزار کا بیچا۔مجاوروں نے کورٹ میں کیس کیا، جج صاحب نے لٹیرے کو عدالت میں طلب کیا (یہ واقعہ حیدر آباد سندھ کے ایک مشہور مزار کاہے) جج صاحب نے لٹیرے سے پوچھا۔۔ فانوس اتارا ہے؟

لٹیرے نے اعتراف کیا کہ جی ہاں اتارا ہے۔۔جج نے پوچھا کیوں اتارا؟؟ لٹیرے نے جواب دیا۔۔گھر میں فاقوں کی نوبت آگئی تھی، میں صاحب مزار (قبر میں مدفون) کے پاس حاضر ہوا کہ کچھ مدد کریں۔صاحب مزار نے کہا۔۔یہ فانوس تیرا ہوا،بیچ کر ضرورت پوری کر لو،سو میں نے فانوس اتار کر بیچ دیا اور اپنی ضرورت پوری کر لی۔ جج صاحب نے سر جھکا لیا اور کچھ دیر تؤقف کے بعد فیصلہ سنایا۔۔مدعی یا تو اپنا عقیدہ بدل لو کہ انتقال کر جانیوالے نہیں سنتے، یا پھر لٹیرا ٹھیک کہتا ہے۔۔ہمارے دوست پپو نے اپنی بیوی یعنی ہماری بھابھی کو چیونگم لے کر دی۔۔انہوں نے کہا۔۔ ” آپ بھی لیں ناں “۔۔پپوبھائی نے فرمایا۔۔ “نہیں میں ویسے ہی چپ رہ لیتا ہوں “۔۔یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ بیوی اور ٹی وی بولتے بولتے نہیں تھکتے فرق صرف اتنا ہے کہ ٹی وی کا ریموٹ ہوتا ہے، بیوی کا نہیں۔۔ایک بیوی نے اپنے میاں کو جوان بیٹی کی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے کہاکہ اسکے لیے کوئی لڑکا تلاش کرو۔ تو میاں کہنے لگے۔۔”بیگم! میں بھی اسی فکر میں ہوں لیکن کوئی ڈھنگ کا لڑکا نظر ہی نہیں آتا، جو بھی ملتا ہے، نکما، نکھٹو، بے ڈھنگا اور نالائق“۔۔“ لو اور سنو!!“ بیگم چلا اٹھی“ میرے ابا بھی اگر یہی سوچتے تو میں اب تک کنواری ہی بیٹھی رہتی۔“۔۔ایک دن میاں بیوی میں سخت لڑائی ہو رہی تھی، اچانک شوہر نے سخت انداز میں بیوی سے کہا، “بس اب چپ ہو جاؤ، یہ نہ ہو کہ میرے اندر کا حیوان بیدار ہو جائے۔بیوی تڑخ کر بولی. ہاں، ہاں، ہو لینے دو بیدار، تم کیا سمجھتے ہوں میں بھی دوسری عورتوں کی طرح چوہے سے ڈرتی ہوں۔۔۔اسی طرح ایک صاحب جو اپنی بیوی سے بہت ڈرتے تھے ایک دن اچانک ان کی بیوی گم ہوگئی۔۔انہوں نے اخبار میں اشتہار دیا۔۔میری بیوی اتوار سے غائب ہے، اگر کسی نے خبر دی تو میں اسے زندگی سے محروم کر دونگا ۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔آپ کے پیچھے بات کرنے والے اصل میں آپ سے بہت پیچھے ہوتے ہیں۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Comments are closed.