اصل وجہ کیا ہے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مولانا صاحب، مریم نواز،بلاول بھٹو کو چھوڑیں، اب تو پی ڈی ایم کے ہر سیاستدان نے حکومت کو آگے لگارکھا، نوشہرہ جیت، براڈشیٹ ٹوئسٹ، ڈسکہ دھاندلی پکڑنا، مولانا،مریم، بلاول سب کا مورال ہائی، ایک آدھ سیٹ کے علاوہ اپوزیشن ہر ضمنی الیکشن جیت چکی،

اوپر سے چشم بددور، حکومتی کارکردگی ایسی کہ سونے پر سہاگہ، نالائقی، نااہلی عروج پر، گورننس، پرفارمنس کے سنجیدہ مسائل، مہنگائی، بے روزگاری،غربت عروج پر، اپنے وعدوں، دعوؤں، نعروں پر فوکس کی بجائے تبدیلی سرکار مخا لفین لڑائیوں اور اندرونی جھگڑوں، گروہ بندیوں میں الجھی ہوئی، احتساب ٹُھس، حالات یہ، خواجہ آصف، شہباز شریف، خورشید شاہ کے علاوہ سب ملزم، مجرم باہر، نواز شریف لند ن میں بیٹھ کر اطمینان سے چالیں چل رہے، سیاستیں کررہے، زرداری صاحب کے سارے کیس کراچی شفٹ کر دیئے جائیں، کیس عدالت میں، خود زرداری صاحب ماشاء ﷲ ایک با ر پھر آزاد،کیس کراچی شفٹ کرنے کا مطلب سب کو ہی معلوم، لوگ پی ڈی ایم کے 35چالیس سالہ کرتوت بھولنے لگے، لوگ اپوزیشن کی بیک ڈور ڈیلیں بھولنے لگے، لوگ بھولنے لگے کہ مریم نواز سزا یافتہ، وہ مختلف کیسوں میں ضمانتوں پر،وہ جھوٹ بول چکیں، وہ سپریم کورٹ میں جعلسازی کرچکیں، وہ ٹرسٹ ڈیڈ، کیلبری فونٹ جیسے کئی چھوٹے موٹے فراڈ کر چکیں، لوگ بھول رہے کہ نواز شریف نااہل، سزا یافتہ، مجرم، جھوٹ بول کر لندن گئے، جناب اسپیکر جھوٹ بول چکے، 3جھوٹی ٹی وی تقریریں کرچکے، قطری خط، پانامے، اقامے سب کچھ پانامہ جے آئی ٹی 10والیمز رپورٹ میں موجود، لوگ بھول رہے کہ زرداری اینڈ کمپنی پر جعلی اکاؤنٹس منی لانڈرنگ 35والیمز رپورٹ آچکی، کسانوں کی سبسڈی کھانے سے ارب پتی فالودے والوں تک، جعلی اکاؤنٹس سے بلاول کے صدقوں کے بکروں سے بلاول کے کتوں کی خوراکوں تک کیا ہے جو 35والیمز جے آئی ٹی رپورٹ میں نہیں ۔لوگ بھول رہے شہباز شریف خاندان کی ٹی ٹی کہانیاں،

پاپڑ فروش جنہوں نے کبھی کراچی کا منہ نہیں دیکھا، جن کے پاسپورٹ تک نہیں بنے ہوئے، وہ شہباز خاندان کو دبئی، لندن سے پیسے بھجواتے رہے، اسی طرح پھیری والے، بجری فروش، سریا بیچنے والے، چپراسی، نائب قاصد اور نجانے کن کن کے شناختی کارڈوں پر کیا کیا جعلسازی ہوئی، لوگ بھول رہے، سلمان شہباز کیوں مفرور،حسن، حسین کیوں لندن بیٹھے ہوئے، علی عمران، اسحٰق ڈار کیوں واپس نہیں آرہے، لوگ بھول رہے کہ حدیبیہ بھی ایک کیس ہوتا تھا، العزیزیہ، حدیبیہ، فلیگ شپ ریفرنس بھی تھے، لوگ بھول رہے کہ باہر سے رقمیں یوں آیا کرتی تھیں کہ صرف حسین نواز نے ہل میٹل سے 272مرتبہ رقمیں پاکستان میں اپنے ملازموں کے اکاؤنٹوں میں بھجوائیں، لگ رہا ہے کہ لوگوں کے ذہنوں سے اپنے بڑوں کی یہ الف لیلوی داستانیں محو ہورہیں، یہی ہمارا مسئلہ، ایک تو ہماری یادداشتیں بہت کمزور،دوسرا یہاں بدعنوانی ، لٹ مار کوئی برائی نہیں، بلوچستان کے سابق گورنر، وزیراعلیٰ سردار ذوالفقار مگسی کا انٹرویو سنا، یہ تب کی بات جب وہ گورنر بلوچستان، وہ کہہ رہے تھے’’ ہم ایک بدعنوان قوم، یہاں بدعنوانی کوئی جرم نہیں، کہنے لگے، میں خود نیب زدہ ہوں، بدعنوانی پر مجھے قید ، جرمانہ ہوا مگر آج پھر گورنر ہوں، کیا کرلیا کسی نے میرا‘‘ صحیح کہہ رہے تھے مگسی صاحب کیا کر لیا کسی نے انکا بلکہ کیا کر لیا کسی نے کسی بھی بدعنوان ، فراڈیئے، دونمبری کا،دکھ یہ بھی بندہ ڈکلیئر فراڈی، جھوٹا، بدعنوان ہو اور نام کے ساتھ ہوگا، لیڈر، رہنما، کتنے خوبصورت لفظ ہیں، قائد، لیڈر،رہنما، ہم نے کیسوں کیسوں کے ساتھ یہ نتھی کررکھے ۔

اب بندہ کیا کہے اگر قائداعظم محمد علی جناح بھی لیڈر، نیلسن مینڈیلا بھی رہنما اور نکونک بدعنوانی میں ڈوبے سارے نکے بھی لیڈر اور رہنما، زوال تو پھرآئے گا، ایک بھلے مانس سیاستدان کے ساتھ ٹی وی پروگرام کر رہا تھا، وقفے میں ایسے ہی اس سے پوچھ لیا کہ سچ سچ بتائیں، فلاں کو لیڈر کہتے ہوئے ضمیر ملامت نہیں کرتا، لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد وہ چہرے پر مسکراہٹ سجا کر آہستگی سے بولے’’شروع شروع میں شرم آتی تھی مگر اب عادت ہوگئی ہے ‘‘ ہم نہ صرف لٹ مار گروپ کو لیڈر، رہنما، قائد بنا چکے بلکہ جمہوریت کی لڑائی بھی انہی کی قیادت میں لڑ رہے، بھلا سوچئے، جنہیں خود جمہوریت کی ’ج‘ کا بھی پتا نہ ہو، جن کے مزاج جمہوری نہ رویے، جو چلتے پھرتے سویلین ڈکٹیٹر، وہ بھلا، جمہوریت کی کیاخدمت کریں گے، ایک سدابہار بیوروکریٹ سے ملاقا ت ہوگئی، ان دنوں وہ اپنی یاددا شتیں مرتب کر رہے تھے، میں نے پوچھا، اپنے 35سالہ تجربے کو سامنے رکھ کر بتائیں،آپکی زندگی میں کتنے سویلین حکمران ایسے آئے جو اندر باہر سے جمہوریت پسند تھے، زیرلب مسکراتے بیوروکریٹ بولے’’ سوائے محمد خان جونیجو کے میں نے کسی سویلین حکمران کو اندر سے جمہوری نہیں پایا‘‘۔با ت کہاں سے کہاں نکل گئی، بات ہورہی تھی، ایک بار پھر سب لٹ مار بھول رہے ہیں، گناہ دھلنے کا موسم آگیا، کس نے ملک کو کتنی بے دردی، بے رحمی سے لوٹا کھسوٹا، سب یادداشتوں سے محو ہو رہا، اس بار یہ سب ہونے کی ایک وجہ اور بھی، تبدیلی سرکار ڈلیور نہیں کر پارہی،لوگوں کی توقعات مایوسی میں بدل رہیں، چوروں، کا احتساب چاہنے والے ایک تو ملکی حالات دیکھ کر مایوس،سب کو پیٹ کی پڑ ی ہوئی، دوسرا تبدیلی سرکار کے اندر بھی ایسے سپوت جنہوں نے لٹ مار مچا رکھی یامچا رہے، باقی چھوڑیں، عوامی یادداشتوں اور ترجیحات کا عالم یہ کہ موجودہ حکومت میں سامنے آنے والا ادویات اسکینڈل ہو، آٹا، گندم لٹ مار ہو، چینی، پٹرول گھپلے ہوں، نجی بجلی گھر والے معاملے ہوں، تمباکو گروہ ہو یا ہر محکمے، ہر شعبے میں نقب زنی ہو، لوگ یہ بھی بھلا رہے، بس سب روزمرہ کے ذاتی مسائل، حکومتی گورننس، پرفارمنس میں الجھے ہوئے، سوچوں، دکھ سے سوچوں، جس قوم کی یادداشتیں اتنی کمزور ہوں گی، جو قوم ہر بدعنوان کو بھی رہنما مان لے گی، جس کی نظر میں ملک لوٹنے والے معززہوں گے، جس کی نظر میں ملکی لٹ مار سے بڑا مسئلہ دووقت کی روٹی ہوگی، جس ملک میں جن کا بائیکاٹ ہوناتھا، جنہوں نے قوم سے منہ چھپائے پھرنا تھا، وہ سب ہماری پہچان بنے بیٹھے، کمزور یادداشتیں، کھوٹی نیتیں، بزدلیاں، ہم کہیں کے نہ رہے، 73سال ہوگئے، ہمیں مسلسل لوٹا جارہا، ہم کچھ نہ کر پائے اور 73سال ہوگئے ہم ابھی تک روٹی، کپڑا اور مکان کے زیروپوائنٹ پر اور ہم کچھ نہیں کر پارہے ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.