اصل کہانی تو اب سامنے آئی

کراچی (ویب ڈیسک ) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ مریم نواز کی ضمانت منسوخی کے معاملے کی ٹائمنگ اہم ہے ، یہ سوال اٹھتا ہے کہ نیب کیوں سیاست زدہ ہوگئی ہے۔مریم نواز کو اس کے اگلے ہی روز گرفتار کرلینا چاہئے تھا جس دن انہوں نے

نیب کی اینٹ سے اینٹ بجائی تھی، سینیٹ چیئرمین کے الیکشن کے حوالے سے تجزیہ کاروں نے کہا کہ سینیٹ چیئرمین کے الیکشن میں اگر پریزائیڈنگ افسراس بات کی تصدیق کررہا ہے کہ یہ کس کا ووٹ ہے تو پھر وہ ووٹ اس حساب سے مظفر حسین شاہ کو مسترد نہیں کرنا چاہئے تھا، پی ڈی ایم جو چیلنج کررہی ہے ان کا چیلنج بنتا ہے۔اسپیکر کے انتخاب میں ووٹ جان بوجھ کر ضائع کیا گیا کیوں کہ ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں انہی لوگوں نے مختلف طریقے سے مہر لگائی، پروگرام میں میزبان علینہ فاروق شیخ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نیب مریم نواز کی درخواست ضمانت کی منسوخی کے لئے متحرک ہوگئی ہے۔ پہلا سوال کے لاہور ہائی کورٹ، نیب کی مریم نواز کے خلاف ضمانت منسوخی کی درخواست سماعت کے لئے مقررکیا وکیل ن لیگ کا موقف درست ہے؟کے جواب میں تجزیہ کارارشاد بھٹی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کھلا اور واضح کیس تھامیں بڑا حیران ہوا تھا جب مریم نواز کو ضمانت ملی تھی۔بہرحال وہ عدالت کا حق ہے عدالت کا فیصلہ قبول مگر مجھے توقع نہیں تھی۔چوہدری شوگر ملز وہ کیس میں جس میں پیسے کو مبینہ طور پر پیسے کو گھمایا پھرایا گیا ۔ مبینہ طو رپر بلیک منی کو وائٹ کیا گیا۔یہ تو ٹھیک ہے کہ تحقیقات میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں ان کی ضمانت منسوخ کی جائے ۔جس دن انہوں نے نیب کی اینٹ سے اینٹ بجائی تھی اگلے دن ہی انہیں گرفتار کرلینا چاہئے تھا۔ کیونکہ ساروں کے لئے اداروں کی عزت امیر غریب سب کے لئے برابر ہوتی ہے۔

تجزیہ کاربینظیر شاہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج نیب نے عدالت میں یہ بات اٹھائی کہ مریم نواز ضمانت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ وہ ناجائز فائدہ کیسے اٹھا رہی ہیں۔ضمانت کے بعد انہیں کیا کرنا چاہئے تھا اپنے آپ کو کمرے میں بند کرلیتیں یا چپ کر کے بیٹھ جانا چاہئے تھا یا نیب سے کہیں کہ کوئی شیڈول دے دیں۔15 تاریخ کو ان کو بلایا ہے اس کے تھوڑے دنوں بعدلانگ مارچ کا بھی اعلان ہے ۔ مجھے یہ ٹائمنگ بڑی عجیب سی لگی کے ایک دم سے نیب کیسے حرکت میں آگئی ہے۔تجزیہ کار مظہر عباس نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہت سادہ سی بات ہے نیب کے ریاستی ادارے والے نکتہ نظر کو سامنے رکھیں ۔کل یا پرسوں میں نواز شریف کی اس دو منٹ کی ویڈیو کو سامنے رکھیں ۔ جس میں وہ کہہ رہے ہیں مریم نواز کو وارننگ دی گئی ہے۔تجزیہ کارمحمل سرفرازنے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب بجائے یہ کہ مریم نواز پر کیس بنائے ان کے خلاف ثبوت اکٹھا کرے۔اپنی تحقیقات پوری کرے مگر نیب ضمانت منسوخی کی طرف اس لئے گیا ہے کہ یہ سیاست کررہی ہیں۔تجزیہ کاررسول بخش نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ نیب حکومت کے ہاتھ میں آلہ کار ہے ۔ اگر آلہ کار ہوتا تو جو زبان مریم نوازاستعمال کررہی ہیں وہ زبان استعمال کرتیں۔اگر وہ آلہ کار ہوتا تو کچھ کر دکھاتا۔دو مسئلے ہیں ایک مسئلہ یہ کہ جو ادارے احتساب کرسکتے ہیں ان کو متنازع بنایا جائے۔دوسرے سوال کے پی ڈی ایم کہتی ہے گیلانی کی جیت چوری کی گئی

نتیجہ چیلنج کریں گے کیا پی ڈی ایم کو چیلنج کرنا چاہے؟کے جواب میں تجزیہ کار مظہر عباس نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پریزائیڈنگ افسر نے خود یہ بات کی کہ آپ اس رولنگ کو چیلنج کرسکتے ہیں۔سات مسترد ووٹوں میں یوسف رضا گیلانی کے نام پر مہر لگائی گئی ہے ۔ سائڈ میں کوئی باکس نہیں بنا ہوا خالی جگہ ضرور ہے ۔اگر پریزائیڈنگ افسراس بات کی تصدیق کررہا ہے کہ یہ کس کا ووٹ ہے ۔ تو پھر وہ ووٹ اس حساب سے مظفر حسین شاہ کو مسترد نہیں کرنا چاہئے تھا۔تجزیہ کارارشاد بھٹی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نتیجہ چیلنج کرنا ان کا حق ہے اگر قانونی آپشن موجود ہے تو ان کو ضرور چیلنج کرنا چاہئے۔یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ہاتھ ہوگیا ہے اور اپنوں نے ہی ہاتھ دکھایا ہے۔یوسف رضا گیلانی کو پی ڈی ایم کی صفوں میں دیکھنا پڑے گا۔تجزیہ کارمحمل سرفرازنے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اراکین یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمارے ہی ووٹ تھے ۔ سینیٹ ہال میں بیلٹ پیپر پر مہر لگانے کا طریقہ کار جو وہاں چسپاں تھا۔ اس میں لکھا ہے کہ بیلٹ پیپر میں اپنے پسند کے امیدوار والے خانے کے اندرمہر لگائیں۔ کہیں یہ نہیں لکھا کہ نام کے آگے لگائیں۔اس لحاظ سے تو پی ڈی ایم جو چیلنج کررہی ہے ان کا چیلنج بنتا ہے۔لیکن خبر یہ آرہی ہے کہ انہوں نے جان بوجھ سے کیا کیونکہ انہوں نے اپنا ایک پینل بنایا ہوا تھا۔تجزیہ کاربینظیر شاہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ درست ہے عدالت جانا چاہئے۔ کیونکہ بہت کنفیوژن ہے واضح نہیں ہے۔چیلنج کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ اگر مستقبل میں کچھ چیلنجز آتے ہیں تو ایک ہدایت مل جائے کہ یہ چیلنج ہوسکتا ہے یا نہیں ہوسکتا ۔تجزیہ کاررسول بخش نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک بات یہ ہوتی ہے کہ نیت کیا ہے ۔نیت سے یہ بالکل واضح ہوتا ہے کہ سات یا آٹھ لوگ اپنا ووٹ ضائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔کیونکہ ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں وہی لوگ مختلف انداز میں وہ مہر لگا رہے ہیں۔اگر انہیں اپنا ووٹ ضائع کرنے کی نیت نہیں تھی تو اس میں بھی وہ ایسا کردیتے۔ اس میں تو انہوں نے نام کے سامنے اپنی مہر لگائی ۔ہم تو صرف اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کا تعلق حزب اختلاف کی جماعتوں سے ہے۔

Comments are closed.