اصل گیم کیا ہے ؟ اعظم سواتی کے انکشافات

کراچی (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے سینیٹر اعظم سواتی نے کہا ہے کہ جو وڈیو جاری ہوئی ہیں اس میں پی ٹی آئی کا کوئی کردار نہیں، سردار محمد ادریس سابق ممبر صوبائی اسمبلی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ قسم اٹھانے کو تیار ہوں

کہ میں نے کوئی پیسہ نہیں لیا۔سابق ممبر صوبائی اسمبلی جماعت اسلامی محمد علی خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے امیدواروں کو جنرل سیٹ ، ٹیکنوکریٹ سیٹ او رفیمیل سیٹ کے لئے پیسے کی آفر ہوئی تھی، میں غریب ضرور ہوں مگر بے ایمان نہیں ہوں۔شگفتہ ملک ممبر صوبائی اسمبلی اے این پی کا کہنا تھا کہ خرید وفروخت والا طریقہ کار ہر جگہ ہے۔وفاقی وزیر ریلوے سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ 2018ء میں میں نے ٹینکوکریٹ کی سیٹ سے الیکشن میں حصہ لیا تھا پارٹی کے 68 ووٹ کا مجھے علم تھا لیکن جب ووٹنگ ہوئی تو میرے پاس سے 48 ووٹ نکلے اگراس وقت سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلا ہوتا تو پھر اتنی تعداد میں ووٹوں کی کمی نہ ہوتی ۔فدا محمد خان کو ٹکٹ دینے کے حوالے سے انہوں نے کہا وہ لوکل لیول پر کام کررہے تھے ،انہوں نے دھرنے کے دوران ٹرانسپورٹ بھی فراہم کی تھی اور اسی خدمات کی وجہ سے ان کو 2018ء میں سینیٹ امیدوار کا ٹکٹ دیا گیا تھا ۔انہوں نے واضح کیا کہ جو وڈیو جاری ہوئی ہیں اس میں پی ٹی آئی کا کوئی کردار نہیں ہے ۔اس وقت کے کیس کا معاملہ نیب میں لے جانے کا کام تو الیکشن کمیشن کا تھا ان کو کرنا چاہئے تھا میرے علم میں نہیں کہ عمران خان نے یہ معاملہ نیب میں لے جانے کا اعلان کیاتھا۔ سردار محمد ادریس سابق ممبر صوبائی اسمبلی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ پرویز خٹک نے ووٹوں کی گنتی کے دوران مجھ سے تین مرتبہ کہا تھا

کہ آپ کے ووٹ ہمیں مل چکے ہیں ،پرویز خٹک نے اس وقت 17 آدمیوں کے ووٹ نہ ملنے کا شکوہ بھی کیا تھا اور اس وقت 20 آدمیوں کو نکالا گیا تھا۔ انہوں نے کہا یہ جو وڈیو کا چکر چلایاہے اس میں آپ نے دیکھاہوگا کہ ایک بہت بڑی رقم میرے پاس پڑی ہے لیکن میں نے وہ اٹھائے نہیں اصل بات یہ ہے کہ کہیں سے میری تصویر کو اٹھا کر انہوں نے وڈیو میں ایڈ کردیا ہے میں قسم اٹھانے کو تیار ہوں کہ میں نے کوئی پیسہ نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ ہاں یہ ضرور تھا کہ میرے علم میں تھا کہ اسد قیصر اس وقت کچھ لوگوں کو پیسے دے رہے ہیں تاہم مجھے اس نے کوئی آفرنہیں کی ۔اسد قیصر سے میرا اختلاف یہ تھا کہ میں نے متحدہ مجلس عمل کے دور میں جب میں منسٹر تھا اس کو صوابی ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں پلاٹ نہیں دیا تھا جس کی وجہ سے اس نے مجھے پانچ سال غیر ملکی ٹو رپر نہیں بھیجا۔انہوں نے کہا میں قسم کھا کر کہہ چکا ہوں کہ میں نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو نہیں اپنے امیدوار کو ووٹ دیا ۔سابق ممبر صوبائی اسمبلی جماعت اسلامی محمد علی خان جن کو اس وقت خریدنے کی کوشش کی گئی مگر وہ بکے نہیں کا گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہنا تھا کہ میں کسی کا نام لئے بغیر کہوں گا کہ اس وقت مجھ سے تین سے چار پارٹیوں کے لوگوں نے ملاقاتیں بھی کیں ، پیسے بھی ساتھ لے کر آئے ،

الیکشن کمپئین کے لئے علیحدہ سے پیسے دینے کی آفر بھی کی ، گاڑیاں بھی پیش کرنے کا کہا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے امیدواروں کو جنرل سیٹ کے لئے ، ٹیکنوکریٹ سیٹ کے او رفیمیل سیٹ کے لئے پیسے کی آفر ہوئی تھی ۔انہوں نے کہا میں غریب ضرور ہوں مگر بے ایمان نہیں ہوں انہوں نے پارٹیوں کے نام بتاتے ہوئے کہا کہ مجھے پیپلز پارٹی ، ن لیگ ،جمعیت علمائے اسلام نے آفر کی تھی تاہم ن لیگ نے آفر اس وقت کیا تھا جب ہمارا ان سے اتحاد نہیں ہوا تھا۔ پی ٹی آئی کے کچھ لوگوں نے مجھ سے اس وقت رابطے کئے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ آپ ہمیں سیکنڈ یا تھرڈ ترجیح کے طور پر ووٹ دیں ۔شگفتہ ملک ممبر صوبائی اسمبلی اے این پی کا کہنا تھا کہ خرید وفروخت والا طریقہ کار ہر جگہ ہے مگر آپ دیکھیں کہ منتخب کرنے والے پی ٹی آئی کے تھے مگر جو منتخب ہوکر آئے وہ پی ٹی آئی کے نہیں تھے لگ یہ رہا ہے کہ شاید پی ٹی آئی کے ایم پی اے نے بدلہ لیا ہے ۔انہوں نے کہا 2008 سے 2013ء تک میں اسمبلی کی ممبر رہی ہوں لیکن میں نے کبھی کسی کو اپنے منہ سے اس طرح سے سینیٹ کے حوالے سے بات کرتے نہیں سنا تھا ۔ 2018ء کے سینیٹ الیکشن میں قبائلی علاقے سے امیدوار نظام الدین جو اس وقت سینیٹ میں پیسے کی ریل پیل دیکھ کر الیکشن سے بائیکاٹ کرگئے تھے کا جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا پہلی بار پاکستان کی تاریخ میں تھا کہ چھ ممبر قومی اسمبلی جو 8 سینیٹر کو لے کر آئیں گے یعنی جب 6 لوگ آٹھ سینیٹر کو لے کر آرہے ہیں تو پھر سوچ لیں کہ انویسٹمنٹ کتنی ہوئی ہوگی انہوں نے نام لئے بغیر کہا کہ میں نے بڑے بڑے لوگوں کو اپنی آنکھوں سے بکتے دیکھا ہے اس وقت فاٹا کی سیٹ کا ریٹ 95 کروڑ سے ایک ارب روپے تک کا تھا اور یہ بات میں نے آپ کے اس وقت کے پروگرام میں بھی کہی تھی ۔ سلیم صافی کا کہنا تھا کہ پروگرام میں اسد قیصر اور پرویز خٹک کو بھی شریک کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ کامران بنگش سے بھی رابطہ کیاگیا تاہم اس موضوع کے حوالے سے جرگہ پر آنے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں ہوا۔ بعد ازاں کہا گیا کہ شوکت یوسف زئی یا فواد چوہدری شریک ہوجائیں گے تاہم یہ دونوں بھی اس حوالے سے پروگرام میں شریک ہونے سے انکاری رہے ۔ اس کے علاوہ عبید اللہ معیار نے بھی جرگہ میں شرکت کا وعدہ کیا تھا تاہم اب ان کا موبائل فون بند جارہاہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *