اعزاز سید نے کوزے میں دریا بند کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی اعزاز سید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔لیگی حکومت کے خاتمے اورعام انتخابات کےبعد عمران خان کی تقریب حلف برداری میں آرمی چیف اور نوجوت سنگھ کی جپھی کیا لگی گویا ردی کی ٹوکری میں پھینکا گیا کرتارپورمنصوبہ دوبارہ زندہ ہوگیا۔ مقامی سول انتظامیہ اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن

نے کم و بیش ایک سال کی مدت میں 8 سو75 ایکٹرکا رقبہ حاصل کیا جس کے 105 ایکٹررقبے پر گردوارے کی خوبصورت عمارت تعمیر کی گئی جس میں میوزیم ، لنگر خانہ ، ڈسپنسری اور دیگر سہولیات موجود ہیں۔ جلد تعمیر مکمل کرنے کا ہدف حاصل کرنے کے لئے کام کی تعمیر کے دوران ٹھیکے دیتے ہوئے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس مجریہ 2002 کی شرائط کوملحوظ خاطر نہ رکھا گیا۔ ان شرائط کے مطابق کوئی بھی ٹھیکہ دینے کے لئے شفافیت کو یقینی بنانا اور اس کام کے لئے اشتہار دے کر دلچسپی لینے والی تمام کمپنیوں کو برابر کے مواقع دینا ضروری ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اس منصوبے پر کم و بیش 7 سے 8 ارب روپے کی لاگت آئی ہے مگر لاگت کی اصل رقم کا کسی کو علم نہیں۔ اس معاملے پر چونکہکسی سے سرکاری سطح پر منظوری نہیں لی گئی تھی۔اس لئے پاکستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی اس پرقانونی اعتراض اٹھا سکتی ہے لیکن اس قانونی اعتراض سے بچنے کے لئے وزارت مذہبی امور نے وفاقی کابینہ کو پچھلے دنوں ایک سمری ارسال کی ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ کرتارپورمنصوبے کو پاکستان پبلک پروکیورمنٹ آرڈیننس کی شرائط سے استثنیٰ دیا جائے۔اس منصوبے کا افتتاح وزیراعظم عمران خان نے نومبر2019 میں کیا تھا اب کرتارپور پر سکھ یاتریوں کی آمدورفت جاری ہے جبکہ اس منصوبے کے تحت مختلف کام بھی بانٹ لئے گئے ہیں۔ پاکستان سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق جنرل سیکرٹری اور رکن پنجاب اسمبلی سرداررمیش سنگھ کے مطابق گردوارے کے اندر سکھ یاتریوں کا استقبال، ان کی عبادات اور ان کو سہولیات کی فراہمی پربندھک کمیٹی اور متروکہ وقف املاک کے ذمے ہے جبکہ حفاظت کا کام رینجرز اور گردوارہ کی دیکھ بھال کا کام ایک کمپنی کی ذمہ داری ہے۔ویسے یہ بات بھی کسی اتفاق سے کم نہیں کہ اسی علاقے میں نارووال اسپورٹس کمپلیکس تمام قواعد وضوابط پر عمل کر کے تعمیر کیاگیا مگر اس سب کے باوجود احسن اقبال پر نیب نے ریفرنس بنا دیا اور اسی علاقے میں ایک دوسرے منصوبے کرتارپور پر بالکل ہی الگ انداز اپنایا گیا ہے۔کرتارپورمنصوبے کے ٹھیکوں اور اخراجات وغیرہ پر پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ بہرحال کابینہ کرے گی لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگریہ منصوبہ کسی سیاسی حکومت کے فیصلے کی روشنی میں تیار ہوتا تو کیا ملک میں احتساب اورلوٹ کھسوٹ کی رقوم واپس لانے کا دعویدار قومی احتساب بیورو اس منصوبے پر بدعنوانی کا کوئی کیس کھولنے سے باز آتا؟ پاکستان میں انصاف اور احتساب کی بس اتنی سی کہانی ہے کہ زور آور کو چھیڑا نہیں جاتا اور کمزور کو چھوڑا نہیں جاتا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *