اعلیٰ سرکاری خاتون افسر فریدہ ترین کون ہیں اور انکے ساتھ یہ سب کیوں ہو رہا ہے ؟

کوئٹہ (ویب ڈیسک) نامور صحافی محمد کاظم بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔صوبہ بلوچستان کی حکومت کو دو روز سے ایک خاتون افسر کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا ہے اور سوشل میڈیا پر یہ تنقید جس انداز سے ٹرینڈ کرتی رہی اس کا عنوان تھا

’باپ کی شکار اسسٹنٹ کمشنر فریدہ ترین۔‘یاد رہے کہ ’باپ‘ بلوچستان کی حکمران جماعت‘ بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کا مخفّف ہے۔حکومت یا حکمران جماعت پر یہ تنقید اس لیے کی گئی کہ خاتون افسر فریدہ ترین کا ایک ڈیڑھ مہینے کے مختصر عرصے میں چار مرتبہ تبادلہ اور پوسٹنگ کی گئی، جس کی ماضی میں بلوچستان میں نظیر ملنا مشکل ہے۔ٹوئٹر پر صارفین نے اسے فریدہ ترین کے ساتھ امتیازی سلوک اور بے انصافی قرار دیا، تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان نے خاتون افسر کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسفر اور پوسٹنگ ملازمت کا حصہ ہیں۔فریدہ ترین کا تعلق بلوچستان کے سرحدی ضلع پشین سے ہے اور وہ پشتونوں کے معروف قبیلہ ترین سے تعلق رکھتی ہیں۔انھوں نے ابتدائی تعلیم کوئٹہ سے حاصل کی تاہم یونیورسٹی آف بلوچستان سے پرائیویٹ حیثیت میں گریجوئیشن کرنے کے بعد لاہور سے سیاسیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔انھوں نے سنہ 2017 میں بلوچستان پبلک سروس کمیشن سے اسسٹنٹ کمشنر کی آسامیوں کے لیے مقابلے کا امتحان پاس کیا اور ان کی پہلی تقرری اسسٹنٹ سیٹلمنٹ آفیسر کی حیثیت سے ہوئی۔اس تقرری کے بعد وہ فروری 2021 تک مختلف عہدوں پر کام کرتی رہیں لیکن 11فروری سے 16مارچ تک کے مختصر عرصے میں ان کی چار مرتبہ ٹرانسفر اور پوسٹنگ ہوئی۔11فروری 2021 سے پہلے وہ چیف سکریٹری کے دفتر میں قائم مقام ڈپٹی سکریٹری (اسٹاف) تھیں۔ حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق 11فروری 2021 کو ان کی تعیناتی اسسٹنٹ کمشنر سٹی کوئٹہ کی حیثیت سے کی گئی

لیکن اس عہدے کا چارج سنبھالنے سے پہلے ہی ان کی اس تقرری کو روک دیا گیا۔16فروری کو ایک اور نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا جس میں ان کو قائم مقام ڈپٹی سیکریٹری (اسٹاف ) چیف سیکریٹری سے سیکشن آفیسر سروسز (تھری) سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن مقرر کر دیا گیا۔محض نو روز بعد ،یعنی 25 فروری کو ایک اور نوٹیفیکیشن کے ذریعے ان کو سیکشن آفیسر (تھری) سے ایس اینڈ جی اے ڈی میں ہی سیکشن آفیسر (ون) تعینات کیا گیا۔یہ سلسلہ یہاں پر نہیں رکا اور 16مارچ کو ایک اور نوٹیفیکیشن کا اجرا کر کے انھیں سیکشن آفیسر کامرس اینڈ انڈسٹریز مقرر کیا گیا۔ٹوئٹر پر ایک صارف ابرابر احمد نے فریدہ ترین کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے نوٹیفیکشنس کو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’بلوچستان میں ایک خاتون افسر کے ساتھ کیسا سلوک کیا جارہا ہے۔ فریدہ ترین کی دو ماہ میں پانچ مرتبہ ٹرانسفر پوسٹنگ کی گئی۔‘فریدہ ترین کی مختصر عرصے میں بار بار ٹرانسفر پر حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ یہ کوئی امتیازی سلوک نہیں۔اس حوالے سے ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ’محترمہ فریدہ ترین بلوچستان کی قابل آفیسر ہیں۔ پوسٹنگ اور ٹرانسفر معمول کا معاملہ ہے اور افسروں کی ٹرانسفر کو سیاسی رنگ دینا افسوسناک ہے۔ بلوچستان حکومت کے لیے تمام افسر قابل احترام ہیں اور تمام کی صلاحییتیں عوام کی خدمت کے لیے صرف ہو رہی ہیں۔ ہمارے افسر ہمارا افتخار ہیں۔‘بی بی سی نے فریدہ ترین سے فون پر بات کی لیکن انھوں نے اس معاملے پر اپنا موقف دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ سرکاری ملازم کی حیثیت سے بات نہیں کر سکتیں۔(بشکریہ : بی بی سی )

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *