افسوسناک اطلاعات

جکارتہ (ویب ڈیسک )انڈونیشیا کی فضائی کمپنی سری وجایا کا ایک مسافرطیارہ دارالحکومت جکارتہ سے اڑان بھرنے کے فوری بعد حادثے کا شکار ہوگیا ہے اور اس میں سوار 62 افراد کی موت کا خدشہ ہے۔امدادی کارکنان کا کہنا ہے کہ طیارہ دارالحکومت نواح میں سمندرمیں گر کر تباہ ہوا ہے اور اس کا ملبہ مل گیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق طیارے میں 10بچوںکے علاوہ عملے کے ارکان بھی سوار تھے اور غیرملکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ 12ارکان عملے کے تھے ، مقامی حکام کا کہنا ہے کہ بوئنگ 737-500جکارتہ سے انڈونیشیا کے علاقے غربی کالی منتان میں واقع شہر پونٹیاناک جارہا تھا۔یہ شہر دارالحکومت سے 740کلومیٹر دور واقع ہے۔مسافرطیارہ کا ہفتے کی دوپہر ڈھائی بجے جکارتہ سے اڑان بھرنے کے بعد لاپتا ہوگیا تھا۔انڈونیشیا کے ٹرانسپورٹ کے وزیر بودی کریا نے نیوزکانفرنس میں بتایا ہے کہ طیارے میں 62 افراد سوار تھے۔ان میں 12افراد عملہ کے ارکان ہیں۔ایک اور انڈونیشی عہدے دار نے قبل ازیں بتایا تھا کہ طیارے میں 56مسافر اور عملہ کے چھے ارکان سوار تھے۔طیاروں کا سراغ لگانے والی سروس فلائٹ راڈار 24نے اپنی ٹویٹر فیڈ میں بتایا ہے کہ ’’ایس جے 182کا 10ہزار فٹ کی بلندی پرکنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔اس وقت اس کو جکارتہ سے اڑان بھرے صرف چار منٹ ہوئے تھے۔انڈونیشیا کی سرچ اور ریسکیو ایجنسی بسرناس کے سربراہ باگس پروہیٹو طیارے کی تلاش کے لیے ٹیمیں جکارتہ کے شمال میں سمندر کی جانب روانہ کردی گئی ہیں۔انھوں نے کہا کہ طیارے کے ریڈیو کے سگنل کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔اسی امدادی ادارے کے ایک اور عہدہ دار آگس ہریونو نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ سمندر سے ملبے کے بعض حصے ملے ہیں اور شُبہ ہے کہ یہ حادثے کا شکار بدقسمت طیارے ہی کا ہے۔انڈونیشیا کے بعض ٹی وی چینلوں نے ملبے کے ٹکڑوں کی تصاویر دکھائی ہیں۔بوئنگ کمپنی کی خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ ’’ہم جکارتہ میں طیارے کے حادثے کے بارے میں میڈیا رپورٹس سے آگاہ ہیں۔ ہم صورت حال کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں اور مزید معلومات اکٹھی کررہے ہیں۔‘‘حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ 27 سال پرانا تھا۔اس کے اڑان بھرنے کے وقت جکارتہ کے سوئیکارنو حاتا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر موسم ناخوشگوار تھا اور وہاں بارش ہورہی تھی۔

Comments are closed.