افضل کھوکھر نے ایک پارسی خاندان کے ساتھ کیا گیم ڈالی تھی ؟

 لاہور(ویب ڈیسک)ن لیگ کے رکن پنجاب اسمبلی سیف الملوک کھوکھر سے 80 کنال اراضی واگزار کرا لی گئی۔ محکمہ انسداد بدعنوانی پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ لاہور اور ادارہ انسداد بدعنوانی پنجاب نے قبضہ گروہوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ن لیگ کے ایم پی اے سیف الملوک کھوکھر

سے 80 کنال اراضی واگزار کرا لی ہے۔انسداد بدعنوانی اور ضلعی انتظامیہ نے قبضہ شدہ پراپرٹی پر تعمیرات مسمار کر دیں۔واگزار کرائی جانے والی زمین کی مالیت اربوں روپے ہے، رائیونڈ روڈ پر واگزار کرائی گئی اراضی نزول لینڈ قرار دیکر مفاد عامہ کے لیے استعمال ہو گی۔ ڈی سی لاہور کی درخواست پر گزشتہ روز قبضہ گروہوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، مقدمہ سیف الملوک کھوکھر کے فرنٹ مینوں کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ڈی سی لاہور نے کہا کہ سیف الملوک کھوکھر نے مبین داؤد، مبشر اور افضل خان کی مدد سے اراضی پر قبضہ کر رکھا تھا۔ مذکورہ اراضی پارسی خاندان عیدل ڈینشا جی کی ملکیت تھی، ڈینشاجی کی وفات کے بعد اولاد نہ ہونے کی وجہ سے پراپرٹی لاوارث ہو گئی تھی جسے ملک سیف الملوک نے فرنٹ مینوں سے ملی بھگت کرکے اپنے نام ٹرانسفر کروا لیا تھا۔

Comments are closed.