افغانستان میں بڑی گیم ڈالنے کی تیاریاں ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔دودن قبل ایرانی پارلیمان میں ایرانی پاسداران کے سربراہ نے وہاں خارجہ امور پر نگاہ رکھنے والی کمیٹی کو بریفنگ دی ہے۔اس بریفنگ کے دوران ایرانی مجلس کے نمائندوں کو واضح الفاظ میں یہ بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی

شدید خواہش ہے کہ اس کے افغانستان سے انخلاء کے بعد وہاںشیعہ سنی بنیادوں پر بدامنی شروع ہوجائے۔ ایران کو مبینہ سازش ہر صورت ناکام بنانا ہوگی۔مذکورہ خواہش کے اظہار کے باوجود ایران کے میڈیا کا ایک حصہ مگر تالبان کی مذمت میں مصروف ہے۔وادیٔ پنجشیر پر قبضہ بھی اسے پسند نہیں آیا۔ایرانی حکومت کو اکسایا جارہا ہے کہ وہ افغانستان کے غیر پشتون شہریوں کے حقوق کے دفاع میں سخت مؤقف اختیار کرے۔ حکومت ایران فی الوقت اس کے لئے آمادہ نظر نہیں آرہی۔افغانستان کا تذکرہ کرتے ہوئے ہم پاکستانیوں کی اکثریت یہ حقیقت بھی فراموش کردیتی ہے کہ ہم اس ملک کے واحد ہمسایہ نہیں ہیں۔ایران اور ہم ہمسائیگی کے حوالے سے اہم ترین اس لئے ہوئے کیونکہ افغانستان کو سمندر تک رسائی حاصل نہیں۔اس کی درآمدات وبرآمدات ہم دونوں ممالک کے زمینی راستوں کے علاوہ سمندروں کی بھی محتاج ہیں۔تجارت کے حوالے سے نظر آنے والی اہمیت سے بالاتر ہوکر نقشے پر نگاہ ڈالیں تو ازبکستان اور تاجکستان بھی افغانستان کے اہم ترین ہمسائے نظر آئیں گے۔ازبکستان نے منگل کے روز قائم ہوئی حکومت کے بارے میں خیر سلگالی کے جذبات کا اظہار کیا ہے۔تاجکستان کا صدر مگر تلملائے ہوئے ہے۔اور وجہ اسکی افغانستان کی تاجک آبادی ہے جو ملک چھوڑنے کو مجبور ہوئی تو فی الوقت تاجکستان منتقل ہونے کو ترجیح دے گی۔تاجکستان مگر وسط ایشیاء کا غریب ترین ملک ہے۔اس کی آبادی تقریباََ95لاکھ ہے۔ اس آبادی کی بے پناہ تعداد مگر روزگار کے لئے روس جیسے ممالک میں مقیم ہے۔تاجکستان کی قومی آمدنی میں غیر ممالک میں کام کرنے والے تاجک 30فی صد سے زیادہ حصہ ڈالتے ہیں۔وہ ملک جہاں کی اپنی آبادی کو روزگار کے امکانات میسر نہ ہوں افغانستان سے آئے تاجکوں کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔ تالبان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے امریکہ یا اس کے حامی البتہ تاجکستان کی سرپرستی کو آمادہ ہوسکتے ہیں۔وہاں تک پہنچنے کے لئے اگرچہ وقت درکار ہوگا۔افغانستان کے حوالے سے ایک نئی گیم تو ہر صورت لگنا ہے۔اس کے ممکنہ خدوخال فی الوقت مگر کم از کم میرے ذہن میں تو نہیں آرہے۔ انتظار کرنے کو مجبور محسوس کرتا ہوں۔

Comments are closed.