افغانستان میں حکومت کا چلنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن: اندر کے حالات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار امتیاز عالم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔افغان تالبان بڑے مخمصے میں ہے۔ بیس برس تک بڑے دم خم اور گوریلا حکمت عملی سے افغانستان پر استعماری غلبے کو شکست دینے کے لیے انہوں نے افغان مزاحمتی روایت کو خوب نبھایا لیکن جونہی امریکی انخلا ہوا تو اس کے ساتھ ہی

وہ تمام وافر ذرائع، معیشت و ریاست کا کاروبار، انتظامیہ اور اس سے جڑے تعلیم یافتہ اور پیشہ ور عناصر اور سماجی خدمات کے عالمی ادارے بھی رفوچکر ہوگئے۔ افغان تالبان کابل میں بلا مزاحمت پیدل داخل ہوئے تو سب کچھ تحلیل ہوچکا تھا، رہی سہی کسر معاشرے کے تمام فعال و پیشہ ور عناصر اور ڈالرز کے انخلا نے پوری کردی۔ امارات اسلامی تالبان کی فتح کی بنیاد تو اس امن معاہدے نے رکھ دی تھی جو امریکہ اور افغان تالبان کے درمیان قطر میں طے پایا تھا۔ لیکن اس معاہدے کے تسلسل میں افغانوں کے مابین جس وسیع البنیاد حکومت نے وجود میں آنا تھا وہ افغانوں کی باہم روایتی خلفشار کی نذر ہوگئی۔ سابق صدر اشرف غنی کے شرمناک فرار سے میدان کلی طور پر افغان تالبان کے ہاتھ آگیا۔ اس کے ساتھ ہی افغان تالبان کے سیاسی، سفارتی صلاح کاروں کو کنارے لگادیا گیا اور مرد میدان کمانڈر سرعت سے اسلامی امارات پر حاوی آگئے۔ اس کی حالیہ مثال کابل اور بلخ کے گورنرز ہیں اور زیادہ تر وزارتی و حکومتی تعیناتیاں ہیں۔ اوپر سے دیگر مستقل لڑاکا عناصر اور ان کی تنظیمات ہیں جن کے پاس سوائے لڑائی کے اور کوئی متبادل نہیں اور وہ اپنی دانست میں افغان تالبان کو سمجھوتہ باز سمجھتے ہیں، جبکہ لبرل اپوزیشن نے راہ فرار اختیار کی ہے۔ بعد از زمانہ لڑائی میں شریعت کے نفاذ کے تقاضے پیدا ہو چکے ہیں جو افغانستان کے قبائلی اسلام کی صورت میں نہایت انسانیت سوز ہیں۔ بطور مذہبی تنظیم افغان تالبان کو کوئی تشکیل سمجھ آتی ہے تو وہ فقط ایک امیر یا خلیفہ اور اس کی پسند کی شوریٰ ہے جسے وہ پچھلی اور موجودہ دولت اسلامیہ کے مماثل تصور کرتے ہیں۔

اب جب لڑتے لڑتے تالبان اچانک کابل پہ قابض ہوئے تو ریاست اور اس کے تمام لوازماتِ معیشت و کاروبار اور ماہرین و اہلکار سب کے سب ہوا ہوئے۔روٹی ہے نہ پانی ہے، دوا ہے نہ دارو ہے، نوکری ہے نہ کاروبار، ریاستی اہلکار ہیں نہ مالیاتی نظام۔ آدھے سے زیادہ افغان بھوکوں بلک رہے ہیں اور ریاست و معیشت کا کاروبار ٹھپ پڑا ہے۔ عالمی مالیاتی ناکہ بندی کچھ دیر جاری رہی تو دیکھئے قحط زدہ، بے حال، بیروزگار، افغان کیا حشر بپا کرتے ہیں؟ لیکن تالبان حکومت کی ہٹ دھرمی ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی اور عالمی برادری اپنی شرائط پہ سختی سے قائم ہے۔ اسلام آباد میں امریکہ، چین، روس اور پاکستان کے سفارتی نمائندوں کا جو اجلاس ہوا، اس کے اعلامیہ میں وہی شرائط نمایاں رہیں جس کا اظہار عالمی برادری مسلسل کرتی آئی ہے۔ افغانستان میں وسیع البنیاد شراکتی حکومت، عالمی انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق پر عملدرآمد اور افغان سرزمین پر ممکنہ بدامنی کو روکنے کے لیے عالمی شرپسند تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی جس کا مطالبہ پاکستان، ایران، چین، روس سمیت وسطی ایشیاکے تمام ممالک کررہے ہیں۔ اس سے ملتے جلتے مطالبات آٹھ ملکوں کے سلامتی کے مشیروں نے دہلی میں منعقد ہونے والے افغانستان پر ڈائیلاگ کے دوران کیے ہیں جس میں زیادہ زور افغانستان سے ہونے والی بدامنی کے سدباب پہ دیا گیا ہے۔افغان تالبان کے سامنے دو راستے ہیں: سوائے پاکستان اور قطر کے افغان تالبان حکومت دنیا بھر میں تنہا ہے اور اسے سفارتی قبولیت نہیں مل رہی جس کی کہ اسے اشد ضرورت ہے۔

افغان انتظامیہ کو معیشت کی بحالی، ریاستی انتظام اور بڑھتے ہوئے انسانی المیے سے نپٹنے کیلئے بھاری بیرونی امداد درکار ہے۔ لہٰذا تالبان کے سامنے واحد عملی راستہ یہ ہے کہ وہ عالمی برادری کے تقاضوں اور افغان عوام کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے عملیت پسندانہ راہ نکالے۔ دنیا کو صرف دو وجوہ سے افغانستان سے غرض ہے کہ افغانستان پھر سے عالمی شرپسندی کا مرکز نہ بن جائے اور افغان عوام کا انسانی المیہ دسیوں لاکھ افغانوں کو مہاجر بن کو ہجرت کرنے پہ مجبور نہ کردے۔ا فغان تالبان حکومت ان دونوں چیلنجوں سے نپٹنے میں عالمی برادری کا ساتھ دیتی ہے تو اس کے لیے نرم گوشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ وگرنہ عالمی برادری کسی بڑے فتنے کو کیوں مضبوط کرے گی اور تالبان کے زوال کا انتظار کرے گی۔ پاکستان کا بازو مروڑنے کے لیے ان کے پاس تحریک تالبان پاکستان موجود ہے اور اب پاکستان میں مزید لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھانے کی سکت بھی نہیں رہی۔ نہ ہی پاکستان کے پاس اس قدر وسائل ہیں کہ وہ افغانوں کا پیٹ بھرسکے۔تحریک تالبان افغانستان نے جس طرح تحریک تالبان پاکستان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے اور اب وہ پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مابین مذاکرات کے ضامن بن بیٹھے ہیں، سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے واحد سرپرست کے ساتھ ایسا شاطرانہ اور گھناؤنا کھیل کھیل سکتے ہیں تو افغانستان میں موجود بیرونی شرپسندوں کے حوالے سے ایران، وسطی ایشیا، چین اور روس کے ساتھ کیا کھیل ہے جو نہیں کھیل سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے کے تمام ممالک بھی انہیں شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور امریکہ و یورپ کہہ رہے ہیں کہ آئندہ مہینوں میں شرپسندوں سے مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔ عالمی تنہائی اور داخلی بحران سے نکلنے کے لیے تالبان کو وہ سب کچھ بدلنا اور کرنا پڑے گا جس کا تقاضا عالمی برادری کررہی ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے اور دیگر گروپوں سے ان کی یکجہتی نظریاتی طور پر مضبوط رہتی ہے اور وہ اپنی موجودہ روش برقرار رکھتے ہیں تو پھر وہ خود کو اور افغانستان کو ایک اور بدترین ابتلا میں مبتلا کرلیں گے۔ افغانستان کے اس ابھرتے ہوئے تضاد اور بحران کا سب سے بدترین اثر پاکستان پر ہونے جارہا ہے لیکن پاکستانی انتظامیہ افغان تالبان کے سامنے ہی نہیں بچھی جارہی، بلکہ ٹی ٹی پی کے ہاتھوں پریشرائز بھی ہورہی ہے کہ اگر انہیں قبول نہیں کیا جاتا تو سرحد پار سے اٹیکس کے لیے تیار رہو۔ پاکستانی تالبان نے افغان تالبان کے امیر کی بیعت کی ہوئی ہے تو وہ اسلامی امارات افغانستان ہی کا حصہ ہیں اور ان کی کارروائیوں کی ذمہ دار تالبان حکومت ہے۔ کہیں یہ تو نہیں ہونے جارہا کہ افغان تالبان اپنے ساتھ پاکستان کو بھی لے ڈوبیں یا پھر ٹی ٹی پی سے صلح کر واکے پاکستان کو بھی اسلامی امارات بنانے کی راہ ہموار کی جارہی ہے؟

Comments are closed.