افغانستان کا حال اور مستقبل :

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار میاں حبیب اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔20 سالہ لڑائی کے بعد افغانستان زیادہ اہم دکھائی دیتا ہے۔ آج افغانستان دنیا کی آنکھ کا تارا بنا ہوا ہے اور یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے عالمی سیاست کا فوکس افغانستان پر ہے کیونکہ بہت سارے معاملات افغانستان پر

آکر جمع ہو گئے ہیں۔ یہ افغانستان کی پیدا کردہ صورتحال ہے کہ آج امریکہ ایک بار پھر اباوٹ ٹرن لیکر چین اور پاکستان کے ساتھ رابطے کر رہا ہے۔ امریکہ کو پہلا سبق افغانستان میں شکست سے ملا دوسرا اشرف غنی کی غیر متوقع فراری اور تیسرا افغان فوج کے ٹھس ہو جانے اور بھارت کی بے وفائی سے ملا کیونکہ امریکہ اس بار پاکستان کی بجائے بھارت سے امیدیں لگائے بیٹھا تھا لیکن وہ تو اشرف غنی سے بھی کمزور اور بزدل ثابت ہوا اب امریکہ سارے نئے دروزاے کھٹکھٹا کر واپس پرانے دروازے پر آیا ہے۔ اسے بخوبی علم ہے کہ اگر اس کا افغانستان میں کوئی کردار بنتا ہے تو وہ پاکستان کے ذریعے ہی بنتا ہے لیکن اس بار پاکستان نے اصولی طور پر طے کر لیا ہے کہ امن کیلئے وہ ہر ایک کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار ہے لیکن کسی دوسری کارروائی کیلئے پاکستان کسی کو قریب بھی نہیں پھٹکنے دیگا نئی پیدا شدہ صورتحال میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہو گیا ہے۔ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے جس کی وجہ سے بھارت کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر دن رات سازشوں میں مصروف ہے لیکن کہیں بھی اسکی دال نہیں گل رہی وہ اپنے پروپیگنڈا کے ہتھیار سے اور سوشل میڈیا کے ذریعے افغانستان کے اندر لوگوں میں اختلافات پیدا کرنے دنیا کو ڈرانے کیلئے پروپیگنڈا وار لڑ رہا ہے۔ کبھی وہ پنج شیر کے لوگوں کو کھڑا ہونے کی ترغیب دیتا کبھی دنیا کو کارروائی کرنے کیلئے ابھارتا ہے۔

اسے یہ ادراک نہیں کہ جب امریکہ جیسی سپر پاور اور دوسرے ممالک کی افواج کے ساتھ وہاں کچھ نہیں کر پایا تو اور کون ہے جو ان سے ٹکر لینے کی جرأت کرے۔ تالبان کی طرف سے تو دعوت ہے کہ جس کو شوق ہے وہ پورا کر لے بھارت کو میڈیا پر چیخ وپکار کرنے دنیا کو اکسانے کی بجائے چاہیے کہ وہ پنج شیر اور شمالی اتحاد کی مدد کیلئے اپنی فوجیں بھیجے اور مزہ چکھ لے زبانی کلامی بڑھکوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ پاکستان بھارت کی جانب سے ففتھ جنریشن وار کا توڑ کر رہا ہے لیکن اپنے ہی کچھ لوگ ناسمجھی میں اسکی مخالفت کر رہے ہیں۔ بھارت سے آپریٹ ہونے والے سوشل میڈیا اکاوئنس بند کرنے کیلئے کام ہو رہا ہے کیونکہ بھارت سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان کی افواج کی تالبان کو مدد کا پروپیگنڈا کر کے شمالی اتحاد اور دوسرے گروپوں کو تالبان اور پاکستان کیخلاف استعمال کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے افغانستان کے اندر جلد از جلد حالات بہتر ہوں تاکہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو واپس بجھوایا جاسکے۔ افغانستان کی حکومت کو عالمی سطح پر منظور کروایا جائے پاکستان اس حوالے سے متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کے بعد خدشہ ہے کہ چین اور روس افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھا کر تالبان کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال نہ کر لے یہی وجہ ہے کہ وہ پلٹ کر پاکستان کے تعاون کا طلب گار ہے پاکستان کے پاس اس وقت کافی چوائسز ہیں۔ پاکستان کو اپنے پتے سوچ سمجھ کر کھیلنے چاہیں اور ان حالات سے اپنے معاملات بہتر کرنے چاہئیں کیونکہ حالات ایسے ہیں کہ امریکہ پلٹ کر افغانستان پر کوئی کارروائی کرنے کی غلطی نہیں کر سکتا۔ دوسرا اسکے پاس آپشن ہے کہ وہ کچھ ملکوں کے ساتھ ملکر پراکسی وار سٹارٹ کرے جس کا ابھی کوئی امکان نہیں اسکے علاوہ وہ آئسز کے بہانے اٹیک کر سکتا ہے جس کیلئے اسے تالبان کو آگاہ کرنا ہو گا اور تالبان کسی صورت امریکہ کو اجازت نہیں دینگے وہ خود کارروائی کرینگے خطے کے ممالک کیلئے یہ وقت بہت اہم ہے۔ باہمی تعاون کے ذریعے خطے سے امریکی اثرورسوخ کم کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے چین کے ساتھ لمبے عرصے کے بعد دوبارہ رابطے کا مقصد خطے میں اپنا کردار برقرار رکھنا ہے۔

Comments are closed.