افغان لڑکی بڑی مشکل میں پڑ گئی ، اس وقت کہاں اور کس حال میں ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون صحافی حمیرا کنول بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔کمرے میں بچھے براؤن کارپٹ پر بیٹھی ہارمونیم کی دھن پر گاتے گاتے وہ لڑکی اچانک پھوٹ پھوٹ کر رو دی، مگر میرے پاس اسے دلاسہ دینے کے لیے کوئی جملہ نہیں تھا۔

انجان ملک اور انجان شہر کے اس گنجان آباد علاقے میں ایک کمرے کے فلیٹ میں عائشہ خان کئی ہفتوں سے تنہا رہنے پر مجبور ہیں۔ انھیں اپنا ملک اپنا شہر اور سب سے بڑھ کر اپنے ادھورے خواب چھوڑ کر ہجرت کرنی پڑی۔وہ کہتی ہیں ’میں نے اپنا وطن اس لیے نہیں چھوڑا کیونکہ میں ایسی مسلمان لڑکی ہوں جو حجاب نہیں لیتی اور خود کو مکمل طور پر ڈھانپتی نہیں ہے۔’مجھے اس لیے ملک چھوڑنا پڑا کیونکہ میں ایک لڑکی ہوں اور میں ایک گلوکارہ ہوں۔‘عائشہ نے بتایا کہ تالبان جب کابل کے اردگرد کے صوبوں تک پہنچ آئے تو میرے استاد نے مجھے کہا کہ عائشہ یہ وقت ہے کہ تم اس ملک سے نکل جاؤ۔عائشہ سنہ 2018 میں افغان سٹار کے پلیٹ فارم پر منظر پر آئیں تھیں اور بہت مقبول ہو گئی تھیں۔ پچھلے دو سال سے کابل میں موسیقی کی تعلیم لے رہی تھیں اور ان کی انفرادیت لائیو سنگنگ ہے۔عائشہ کہتی ہیں کہ تالبان نے ہمیں اپنا پیشہ چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔ ’آپ کو معلوم ہے آج کل ایک افغان عورت ہونا مشکل ہے لیکن تالبان کے لیے ایک گلوکار ناقابل برداشت ہے۔‘عائشہ نے مجھے کہا کہ میں موسیقی کو کبھی نہیں چھوڑ سکتی۔’میں نے دن رات سخت محنت کی ہے کیونکہ میں موسیقی سے محبت کرتی ہوں۔ میں اسے نہیں چھوڑ سکتی۔’وہ کہنے لگیں ’میرے لیے موسیقی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے آپ اظہار کرتے ہیں کہ آپ کون ہیں، آپ کا کلچر کیا ہے اور بطور عورت اپنے جذبات کا اظہار بول کر کرنا کہ ہم کیسا محسوس کرتی ہیں

واقعی بہت مشکل ہوتا ہے۔ مگر موسیقی کے ذریعے ہم یہ کر سکتی ہیں کیونکہ ہر کوئی موسیقی سے محبت کرتا ہے۔‘مستقبل کے حوالے سے اندیشے اور بے یقینی کے باوجود عائشہ نے موسیقی جاری رکھنے اور ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔عائشہ نے بتایا کہ ’میرے پاس پاسپورٹ تھا لیکن ان حالات میں ملک چھوڑنا اتنا آسان نہیں تھا کابل سے ہمسایہ ممالک کی سرحدوں تک سفر بہت کھٹن تھا۔ میں نے ایک بیگ میں چند کپڑے ڈالے اور اپنے فلیٹ سے نکل آئی۔’میری پیاری دوست میری روم میٹ جو میرے ساتھ برسوں سے تھی اب وہ اور میں ایک الگ الگ منزل کی جانب جا رہے تھے۔‘موسیقی کی خاطر اس سے پہلے عائشہ کو اپنے خاندان سے بھی الگ ہونا پڑا تھا۔وہ اس بارے میں بہت تفصیل میں تو نہیں جاتیں لیکن کہتی ہیں کہ پہلے گھر اور پھر ملک چھوڑنا ایک مشکل فیصلہ تھا۔وہ کہتی ہیں کہ میں قانون کی طالبہ تھی والد نے ہمیں اچھے سکول اور کالج میں داخل کروایا لیکن وہ مجھے قانون دان بنانا چاہتے تھے، جس میں میری کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میں نے موسیقی کا کریئر کے طور پر انتخاب کرنے میں بہت مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کیا۔عائشہ نے بتایا کہ یہ میرے جیسے موسیقی کو کریئر بنانے والوں کے لیے بہت مشکل تھا۔’سکول کالج میں تو نعت خوانی میں میرا نام سرفہرست ہوتا تھا اور ٹیچرز بھی بہت حوصلہ افزائی کرتی تھیں لیکن گھر کا ماحول ایسا نہیں تھا کہ میں موسیقی کی جانب جا سکتی، میرا تعلق ایک قدامت پسند مذہبی گھرانے سے ہے جہاں موسیقی اور اس قسم کے شوق کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’افغان سٹار کا مقابلہ ملک میں بہت مشہور تھا دو سال پہلے ایک دن بیٹھے بیٹھے میں نے اپنا وائس نوٹ ریکارڈ کیا اور اس مقابلے کے لیے بھجوا دیا۔’میں شارٹ لسٹ ہوئی لیکن پہلی بار ہی آن ائیر جانے سے پہلے میں گھر چھوڑ کر ہوسٹل میں رہنے لگی تھی کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ میرا خاندان کبھی بھی اس کی اجازت نہیں دے گا اور میں اس کے لیے ان سے اجازت لینے کے لیے ان کے سامنے کھڑی نہیں ہو سکتی تھی۔‘عائشہ کہتی ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں اس ملک میں کتنے عرصے تک مہاجر کی زندگی گزاروں گی۔ وہ کہتی ہیں کہ میں پیچھے رہ جانے والی اپنی تمام دوستوں کے لیے بہت فکرمند ہوں۔’اپنی دوستوں سے بات کرنا بہت مشکل اور تکلیف دہ ہے، میری دوستیں تالبان کے بارے میں بات کرتی ہیں وہ بہت سی مشکلات اور تالبان کی جانب سے وارننگز کا سامنا کر رہی ہیں۔’وہ کہیں نہیں جا سکتیں حتیٰ کہ اپنی گلی میں بھی نہیں جا سکتیں، وہ بہت شکستہ دل ہیں، ٹوٹ چکی ہیں۔‘عائشہ نے مجھے کہا کہ آپ کو معلوم ہے گزرے دو ماہ میں میں ٹھیک سے سو نہیں پائی، رات بھر ایک ہی پوزیشن میں سوچتے سوچتے گزر جاتی ہے کہ افغانستان اور وہاں رہنے والوں اور ہم جو وہاں سے نکل آئے ہیں ہمارا کیا مستقبل ہے۔انھوں نے کہا کہ ’انٹرویو دینا میرے لیے آسان نہیں تھا لیکن میں اپنے تمام دوستوں اور دیگر فنکاروں کی ترجمانی کرنا چاہتی ہوں جو افغانستان میں خطرات میں رہ رہے ہیں۔‘وہ کہنے لگیں ’میرا مقصد تالبان کو بھی پیغام دینے کا ہے کہ آپ جانتے ہیں ناں یہ ہر افغان کا افغانستان ہے۔’افغانستان صرف تالبان کا نہیں ہے اور تالبان کو عورتوں کو عزت اور وقار کے ساتھ اپنے بنیادی حقوق کے ساتھ جینے کا حق دینا چاہیے۔‘عائشہ نے اپنی گفتگو میں دنیا کے نام بھی ایک پیغام دیا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ ’میری عمر کے لوگ خود کو بہت غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں اور اس لیے میں پوری دنیا سے عاجزانہ درخواست کرتی ہوں کہ وہ ہماری مدد کرے، ہمارے ساتھ کھڑی ہو، ہماری آزادی دوبارہ حاصل کرنے کے لیے۔‘اس انٹرویو کے اختتام پر عائشہ ایک بار پھر رو رہی تھی لیکن پھر انھوں نے مجھے کہا میں آپ کو اردو میں کچھ سناؤں تو میں نے مسکراتے ہوئے کہا ہاں۔وہ ایک غزل گا رہی تھیں اور میں اسے سنتے ہوئے دل ہی دل میں عائشہ کے عزم کو سراہ رہی تھی کیونکہ عائشہ افغانستان میں تاریکی کے اس ایک اور دور میں نئی نسل کی ترجمان ہیں جو اس نئے نظام کو تسلیم نہیں کرنا چاہتی اور کبھی بھی اس کے سامنے ہارنا نہیں چاہتی۔

Comments are closed.