اقتدار میں یاری دوستی نہیں دیکھی جاتی صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ اقتدار کے لیے کون نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک صاحب نے سوال کیا کہیں ایسا تو نہیں جہانگیر ترین کو مثال بنا کے کپتان نے اپنے قریبی ساتھیوں کو یہ پیغام دیا ہو کہ اقتدار میں دوستی نہیں دیکھی جاتی صرف یہ دیکھا جاتا ہے

کہ اقتدار کے لئے کون نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ آج معاملات اس حد تک چلے گئے ہیں کہ جہانگیر ترین نے سازشیوں کو یہ وارننگ دیدی ہے، وہ عدالتوں میں مقابلہ کریں، کردار کشی سے باز آ جائیں وگرنہ وہ بھی بہت سوں کا کچا چٹھہ کھول دیں گے۔ سیاست بھی کیسی دھوپ چھاؤں کا نام ہے۔ پل میں تولہ اور پل میں ماشہ کر دیتی ہے۔یہی جہانگیر ترین کپتان کا دایاں بازو تھے، پارٹی میں پتہ بھی ان کی مرضی کے بغیر نہیں ہلتا تھا۔ ٹکٹیں دینا، وزارت بانٹنا، عہدے تقسیم کرنا، دوسری جماعتوں سے بندے توڑ کر تحریک انصاف میں لانا، یہ سب کام تو جہانگیر ترین کے ہی تھے ناں آج وہ عدالتوں سے ضمانتیں کراتے پھر رہے ہیں یہ نہیں کہ چینی سکینڈل میں صرف انہی کا نام ہے، کابینہ میں بیٹھے ہوئے کچھ وزیر بھی اس میں شامل ہیں، لیکن وہ ابھی پنج پیاروں میں ہیں اس لئے قانون ان تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ اب جہانگیر ترین لاکھ کہتے رہیں کہ 80 شوگر ملوں میں سے صرف انہی کی شوگر ملوں کو نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ انہیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ کوئی جھکڑ ایسا ضرور ہے جو ان کے خلاف چل چکا ہے اور وہ بری طرح اس کی زد میں ہیں حالت یہ ہو گئی ہے کہ اب عمران خان بھی ان کے بارے میں ہمدردی کے دو بول بولنے سے احتراز کرتے ہیں وگرنہ وہ ٹی وی کے انٹرویوز میں اکثر جہانگیر ترین کے بارے میں یہی کہتے تھے

کہ پارٹی کے لئے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں اور آج بھی وہ تحریک انصاف کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔یہ حقیقت تو ابھی رفتہ رفتہ ہی کھلے گی کہ جہانگیر ترین کے ساتھ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ کیا واقعی اس کی وجہ وہی ہے جو بیان کی جا رہی ہے کہ انہوں نے چینی بلیک کی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے اربوں روپے باہر بھجوائے یا اس کی وجہ سیاسی ہے اور اس کا تعلق تحریک انصاف کی اندرونی سیاست یا پھر مقتدر حلقوں کی جہانگیر ترین سے ناراضی ہے۔ احتساب کے مشیر شہزاد اکبر نے جہانگیر ترین کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جا رہا۔ میرٹ پر تفتیش ہوئی ہے اور چینی سکینڈل میں ان کا نام آنے پر کیس ایف آئی اے کو دیا گیا۔انہوں نے یہ دلچسپ بات بھی کی کہ احتساب میں دوستی نہیں ہو سکتی کیونکہ میرٹ پر فیصلے کرنے ہوں تو دوست نہیں دیکھتے جاتے۔ اب ظاہر ہے دوستی شہزاد اکبر کی جہانگیر ترین سے نہیں، دوستی تو عمران خان اور جہانگیر ترین کی تھی، تو کیا واقعی عمران خان نے احتساب کے لئے دوستی کو قربان کر دیا ہے۔ اگر احتساب کے لئے عمران خان کا فارمولا یہی ہے تو ان کی کابینہ میں خسرو بختیار، پرویز خٹک، غلام سرور خان، عبدالرزاق داؤد اور دیگر قریبی شخصیات ایسی موجود ہیں، جن کے خلاف نیب تحقیقات کر رہا ہے۔ شفاف احتساب کا تقاضا تو یہی ہے کہ انہیں عہدوں سے ہٹا کر احتساب بیورو سے کلین چٹ لینے

کو کہا جائے مگر ایسا نہیں ہوگا، کیونکہ ان کی عمران خان کو حکومت برقرار رکھنے کے لئے ضرورت ہے۔ جہانگیر ترین چونکہ نا اہل ہو گئے تھے، تین میں نہ تیرہ میں رہے اس لئے ان کے خلاف کارروائی کی منظوری دے کر ایک تیر سے دو شکار کئے جا سکتے تھے۔ پہلا یہ کہ کپتان احتساب کے معاملے میں اپنے قریبی دوستوں سے بھی رعایت نہیں کرتے اور دوسرا یہ کہ پارٹی کے ان لیڈروں کو یہ پیغام دیا جائے کہ وہ سنبھل جائیں جو وقتاً فوقتاً عمران خان کو آنکھیں دکھانے کی جرأت کرتے رہتے ہیں۔جہانگیر ترین اپنے خلاف مقدمات کا معاملہ عدالت لے گئے ہیں انہیں عبوری ضمانت مل گئی ہے۔ تاہم انہیں عوام کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے ٹھوس شواہد لانے ہوں گے۔ صرف انتقامی کارروائی یا سازشی تھیوری کا سہارا لے کر وہ بری الذمہ نہیں ہو جائیں گے۔ یہ بھی کوئی دلیل نہیں کہ 80 شوگر ملوں میں سے انہی کی ملز کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اگر ان کے ہاتھ صاف ہیں تو اپنی شوگر ملوں کے سارے معاملات سامنے لے آئیں۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ جب چینی کمشن کام کر رہا تھا تو جہانگیر ترین نے اس کے سامنے شواہد کیوں نہیں رکھے۔ اگر شواہد سامنے لائے ہوتے تو آج وہ چینی کمشن کی رپورٹ کو بھی چیلنج کر سکتے تھے، پاکستان میں یہ بات ہر کوئی ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے کہ اسے انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شریف برادران اور زرداری فیملی اس

کی سب سے بڑی مثال ہیں تاہم یہ ثابت کرنے کے لئے کہ انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے ان الزامات کو جھٹلانا ضروری ہے جو کوئی بھی کمشن یا تحقیقاتی ایجنسی یا پھر نیب لگاتا ہے۔ جہانگیر ترین ابھی تک ایسی کوئی معقول وجہ سامنے نہیں لائے کہ جس کی بدولت ان کے اس الزام کی تائید ہو سکے کہ انہیں انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی یہ بات تو سمجھ آتی ہے کہ ان کے خلاف سیاسی مخالفت کی وجہ سے نیب کے ذریعے انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے۔ مگر جہانگیر ترین نے حکومت کے خلاف ایسا کیا قدم اٹھایا ہے کہ جس پر بقول ان کے حکومت انتقامی کارروائی پر اتر آئی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جہانگیر ترین پر اس لئے زیادہ توجہ مرکوز ہوئی ہے کہ وہ عمران خان کے قریبی دوست رہے ہیں۔ ان کے خلاف چینی سکینڈل کی رپورٹ سامنے آئی تو اپوزیشن نے ان کے خلاف کارروائی کے لئے دباؤ بڑھا دیا۔ وہ بیرون ملک تھے تو بار بار یہی کہا جاتا رہا کہ وزیر اعظم نے انہیں احتساب سے بچانے کے لئے لندن بھجوا دیا ہے۔اس بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد جہانگیر ترین از خود پاکستان واپس آ گئے۔ گویا انہوں نے اپنے دوست کو تنقید اور مشکل صورت حال سے بچانے کے لئے ایک بڑا فیصلہ کیا۔ مگر یہاں حالات ان کے موافق نہیں تھے۔ وزیر اعظم عمران خان سے ان کی ملاقات ہوئی اور نہ ہی کسی نے انہیں سراہا کہ الزامات کا سامنا کرنے کے لئے پاکستان آ گئے ہیں الٹا ان پر دباؤ بڑھتا گیا اور یہ دن بھی آیا کہ ایک ہی دن میں ان کے اور بیٹے کے خلاف دو مقدمات درج کر لئے گئے۔ مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے جہانگیر ترین سیاستدان نہیں ہیں، سیاستدان ہوتے تو آج اس طرح تنہا نہ کھڑے ہوتے۔ کسی جماعت کی چھتری ان کے سر پر ہوتی اور وہ اس کی چھاؤں تلے خود کو محفوظ سمجھ رہے ہوتے۔ اب تو یہ حال ہے کہ ان کی اپنی جماعت جہانگیر ترین کے خلاف اقدامات کو اپنا کارنامہ بنا کر پیش کر رہی ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *