اقتدار کے ایوانوں سے باخبر صحافی کی پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) سردار اختر مینگل اپنی سیاسی طبع افتاد کی وجہ سے کراچی میں قید کاٹ چکے ہیں 4 سال تک خود ساختہ جلاوطنی اختیار کئے رکھی اور دبئی میں بیٹھ کر سیاست کرتے رہے بلوچستان مختلف قومیتوں پر مشتمل صوبہ ہے اس وقت سردار اختر مینگل کا شمار بلوچوں کے بڑے لیڈر کے طور ہوتا ہے

نامور صحافی محمد نواز رضا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔سردار اختر مینگل نواز شریف دور میں 28مئی1998ء میں چاغی کے پہاڑ میں’’ ایٹمی دھماکہ‘‘ کی مخالفت کرنے پر ’’گرم پانیوں ‘‘ میں رہے ویسے بھی ان کی پارٹی کے اندر گروپ بندی نے انہیں وزارت اعلیٰ سے محروم کر دیا یہ بات قابل ذکر ہے سردار اختر مینگل سی پیک کے ثمرات پر بھی نکتہ چینی کرتے رہے ہیں ایسی صورت حال میں سردار اختر مینگل کے ساتھ حکومت کا گزارہ کرنا خاصامشکل ہے سی پیک کا منصوبہ گیم چینجر اور پاکستان کی جان ہے ۔ 21 ماہ سے عمران حکومت سردار اختر مینگل کے’’ ناز نخرے‘‘ تو اٹھا رہی ہے لیکن اگر اب بات نہ بنی تو وہ مزید دیر تک سردار اختر مینگل کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گی و زیر اعظم عمران خان نے بی این پی مینگل کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا فوری نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے اپنے ’’گھوڑے‘‘ دوڑا دئیے ہیں انہوںنے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کو حکومتی اتحاد میں واپس لانے کے لئے بلوچ رہنمائوں کو ٹاسک دے دیا ہے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے سردار اختر مینگل سے پارلیمنٹ لاجز میں ملاقات کی ہے اور چیئرمین سینٹ نے پرویزخٹک کی سربراہی میں قائم مذاکراتی کمیٹی کا پیغام سردار اختر مینگل تک پہنچایا مذکراتی کمیٹی کی طرف سے پی ٹی آئی اور بی این پی کے درمیان 6 نکاتی معاہدہ پر عمل درآمد کے کچھ مہلت مانگی ہے او رکہا ہے کہ مذاکراتی کمیٹی ان سے جلد ملاقات کر کے مطالبات پر عمل درآمد کے حوالے سے شیڈول دے گی سردار اختر مینگل نے کہا کہ’’ میرے اختیار میں کچھ نہیں میں نے جو کرنا تھا کر لیا پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے جو فیصلہ کیا میں نے پارلیمان میں سنا دیا اب میرے پاس کرنے کو کچھ نہیں،اب جو کچھ پیشرفت کرنا ہے حکومت کو کرنا ہے‘‘۔ گویا ایک بار پھر انہوں نے گیند حکومت کی کورٹ میں پھینک دی ہے ۔ سردار اختر مینگل جو ایک’’ غیر لچکدار‘‘ رویہ رکھنے والے لیڈر ہیں نے اپنی ’’ واپسی ‘‘کی گنجائش رکھی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.