اقتدار کے ایوانوں میں گھوم پھر کر خبر نکالنے والے صحافی کی پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) سنا ہے کہ عمران خان صاحب بھی اپنی کابینہ کے اجلاسوں کے دوران وزراء اور مصاحبین کو طویل خطاب کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ ’’کپتان‘‘ کے صبر نے بلکہ ان کے کئی دیرینہ شناسائوں کو حیران کردیا ہے۔ہر نوعیت کی یاوہ گوئی کو صبرسے سننا ہی مگر ’’بادشاہ‘‘ کے لئے کافی نہیں ہوتا۔

نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔طویل تر گفتگو سے بھی بالآخر کوئی یک سطری نتیجہ اخذ کرنا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں بروقت فیصلہ محض وزیر اعظم کا اختیار وذمہ داری ہے۔طویل جلاوطنی کے بعد مثال کے طورپر محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپریل 1986میں وطن لوٹنے کافیصلہ کیا تو اس فیصلے کے اعلان کے چند ہی گھنٹے بعد مرحوم محمد خان جونیجو نے قطعی انداز میں طے کردیا کہ انہیں ملک بھر میں جلسے جلوس منعقد کرنے کی کھلی چھٹی دی جائے۔ جنرل ضیاء ان کے فیصلے سے بہت ناراض ہوئے۔جونیجومرحوم مگر ٹس سے مس نہ ہوئے۔بالآخر محترمہ وطن لوٹیں۔ انہوں نے ملک بھر میں تاریخی اور ریکارڈ توڑ اجتماعات سے خطاب فرمایا۔ 14اگست 1986کے بعد مگر ان کا طلسم برقرار نہ رہا۔بالآخر مئی 1988میں انہیں محترمہ بے نظیرکی قیادت میں چلائی کسی عوامی تحریک نے فارغ نہیں کیا تھا۔جنرل ضیاء نے بذاتِ خود اپنی ’’تخلیق‘‘‘ کو اپنے ہی ہاتھوں ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ماضی کے ٹھوس واقعات کو ذہن میں رکھتے ہوئے عمران حکومت کی جانب سے واشگاف الفا ظ میں کئی دن پہلے یہ اعلان ہوجانا چاہیے تھا کہ اگر PDM 16اکتوبر سے ملک بھر میں جلسے جلوسوں کا انعقاد کرنا چاہ رہی ہے تو ’’سو بسم اللہ‘‘۔ لاہور کے شاہدرہ میں تعین ایک فرض شناس تھانے دار نے لیکن رات کے دو بجے ایک محب وطن شہری کی فریاد پر پاک فوج کے تین سابق جرنیلوں اور آزادکشمیر کے منتخب وزیراعظم سمیت مسلم لیگ (نون) کی اعلیٰ قیادت کے خلاف ’’غداری‘‘ کی ایف آئی آر کاٹتے ہوئے قطعاََ مختلف پیغام دیا۔ یہ پرچہ درج ہونے کے بعد

روایتی اور سوشل میڈیا پر حاوی عمران حکومت کے سرکاری اور رضا کارانہ ترجمانوں نے سینہ پھیلاتے ہوئے یہ پیغام دینا شروع کردیا کہ ’’ریڈ لائن‘‘ کھینچ دی گئی ہے۔’’ریڈ لائن‘‘ کا ڈھول پٹ چکا تو پیر کے دن سے اعلان ہونا شروع ہو گیا کہ عمران خان صاحب نے فیصلہ کیا ہے کہ PDMکو جلسوں کے ضمن میں اپنا ’’آئینی حق‘‘ استعمال کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ پیر کے دن ہی مگر عاصم سلیم باجوہ صاحب کا استعفیٰ بھی منظور ہوگیا۔اس ’’خبر‘‘ کے بعد پیمرا نے ’’آج‘‘ ٹی وی کی عاصمہ شیرازی کی جانب سے مریم نواز کے ساتھ ہوئے تفصیلی انٹرویو کو بھی نشر ہونے دیا۔ایک ہی دن ہوئے ان تین ٹھوس واقعات کی بدولت عمران حکومت Push Backہوتی نظر آئی۔ ’’ریڈ لائن‘‘ والی بڑھک کے بعد ہوئے ان واقعات نے بلکہ حکومت کو ’’بکری‘‘ ہوادکھایا۔ ایک پنجابی محاورے میں بیان ہوا ’’نانی‘‘ اور اس کے ’’خصم‘‘ والا معاملہ ہوگیا۔میری دانست میں ان واقعات کے بعد یہ سوال فروعی اور لایعنی ہوگیا ہے کہ مریم نواز صاحبہ کو 16اکتوبر کے روز گوجرانوالہ کے جلسے سے خطاب کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔مذکورہ جلسے کا Momentumبن چکا ہے۔مریم نواز گوجرانوالہ پہنچ پائیں یا نہیں اس شہر میں حکومت مخالفین کی ایک کثیر تعداد ہر صورت جمع ہوجائے گی۔جذباتی افراد کی مؤثر تعداد کسی مقام پر جمع ہوجائے تو جن رہ نمائوں کو دیکھنے یا سننے کے لئے وہ اکٹھے ہوتے ہیں اگر دستیاب نہ ہوں تو ایسے اجتماعات ’’خودمختار‘‘ ہوجایا کرتے ہیں۔کائیاں انتظامیہ کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ ایسے اجتماع کو پولیس کے ذریعے ’’قابو‘‘ میں لانے کی کوششوں میں ریاستی قوت ضائع کرنے کے بجائے Command and Controlکی تمام تر ذمہ داری ان کے ’’رہ نمائوں‘‘ کے سپردکردی جائے۔گوجرانوالہ کے جلسے کی بابت بھی اب ایسی ہی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *