الجزیرہ ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کیا زبردست جواب دیا “:؟

لاہور (ویب ڈیسک) وزیر اعظم کو ایک بار نہیں ،دو بار نہیں ،بار بار داد دینی چاہئے کہ وہ الجزیرہ ٹی وی کے انٹرویو کے اٹیکس سے پہلو بچاتے ہوئے اپنا حق اور سچ پر مبنی موقف پیش کرنے میں کامیاب رہے۔ اور پاکستان کا اور اپنا سر نہیں جھکنے دیا۔

نامور کالم نگار اسد اللہ غالب اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔میں نے اوریانا فلاسی کے انٹرویوز پڑھے۔ میں نے بی بی سی پرڈیوڈ فراسٹ کے انٹرویوز دیکھے اور میںنے سی این این کے لیری کنگ کو بھی سنا۔ کوئی اینکر کسی غیر ملکی مہمان کو کٹہرے میںکھڑا نہیں کرتا ،قطری نے پاکستانی اپوزیشن کی سی تعصب بھری زبان استعمال کی یا پھر کسی بھارتی اینکر کی طرح عمران خان کے اوپر گرجنے برسنے کی ہر کوشش کر دیکھی ، مگر آفریں ہے عمران خان کی کہ انہوںنے کمال صبرو تحمل ، حوصلے،دانش ، تدبر اور اسٹیٹس مین شپ کا مظاہرہ کیا۔الجزیرہ ٹی وی کے اینکر نے اعتراض اٹھایاکہ پاکستان میں میڈیاا ٓزاد نہیں۔ وزیر اعظم نے پوچھا کہ آپ کے پاس اس کا کیا ثبوت ہے، کوئی مثال ہے تو اینکر نے کہا کہ میڈیا پرسنز کو غائب کر دیا جاتا ہے، ان پر دبائو ڈالا جاتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ا ٓج ملک میں میڈیا کو حکومت سے کوئی خطرہ لاحق نہیں بلکہ میڈیا کے ہاتھوں حکومت اورا س کے وزرا کی درگت بن رہی ہے۔ یہی کام برطانیہ میں ہو تو اس پر میڈیا کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جا سکتا تھااور لاکھوںپائونڈ ہر جانے میں وصول کئے جا سکتے یھے۔ لیکن اگر کوئی میڈیا پرسن تہمت تراشی کرے تو اس کے خلاف عدالت میں جانا میڈیا پر دبائو نہیں کہا جا سکتا۔ کیا حکومت کو انصاف نہیں چاہپئے۔اینکر نے گھسا پٹا سوال داغا کہ ملک میں فوج فیصلے کرتے کیوںنظر آتی ہے ۔ سویلین لوگ سامنے کیوں نہیں ہوتے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج فوج اور حکومت ایک ساتھ چل رہے ہیں اور فوج ہمارے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے۔ اینکر نے ایک بھڑکیلا سوال اور کیا کہ کیاا ٓپ نریندر مودی سے امن کی توقع رکھتے ہیں۔ عمران خان نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ بھارت میں آر ایس ایس کی حکومت ہے، یہ دہشت گرد ٹولہ ہے اور اس کے ہاتھ میں ایک سو تیس کروڑ بھارتی عوام کو خطرے میں مبتلا کرنے کے لئے ایٹمی ہتھیار آ گیا ہے مگر کوئی شرارت کی گئی تو خطرہ صرف پاکستان کو نہیں ، خطے سے باہر تک پھیل جائے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.