الیٹرونک ووٹنگ سسٹم پر بڑا یوٹرن

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس تلاوتِ کلامِ پاک کے ساتھ شروع ہوا، وزیرِ اعظم عمران خان بھی اجلاس میں موجود تھے۔قائد حزب اختلاف شہباز شریف نےالیکٹرانک ووٹنگ مشین کو شیطانی مشین قراردے دیا۔مسلم لیگ نو ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف

میاں شہباز شریف نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کے پاس ووٹ کے لئے نہیں جاسکتے تھے اس لئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین لا رہے ہیں، یہevil vicious machine ہے۔ انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی سے کہا کہ مجھے آپ کا خط موصول ہوا، ہم نے پوری توجہ سے آپ کے خط پر غور کیا اور اس کا مکمل جواب آپ کو دیا، اپوزیشن ارکان کو داد دیتا ہوں کہ وہ حکومتی دباؤ میں نہیں آئے۔شہباز شریف نے کہا کہ حکومت اور اتحادی بلز کو بلڈوز کرانا چاہتے ہیں، حکومت کے اتحادی انکاری تھے تو اجلاس کو مؤخر کیا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ الیکشن سے پہلے ایوان اور 22 کروڑ عوام دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں، یہ سیلکٹڈ حکومت اب عوام کے پاس ووٹ کے لیے نہیں جاسکتی، یہ جانتے ہیں کہ عوام ان کوووٹ نہیں دیں گے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ مشین کے ذریعے یہ سیلکٹڈ حکومت اپنی میعاد کو طول دینا چاہتی ہے، 2018ء میں تو آر ٹی ایس خراب ہو گیا تھا جس سے یہ دھاندلی زدہ حکومت بنی۔اپنے خطاب میں شہباز شریف نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ آپ ان بلز پر تفصیلی مشاورت کریں، آپ نے آج یہ کالا قانون پاس ہونے دیا تو ملک کو شدید نقصان ہو گا، اس کے ذمے دار آپ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ آج ڈالر 175 روپے کا ہو گیا، چینی 130 روپے کی نہیں ملتی، آٹا 85 روپے کلو ہو چکا، پھر یہ ریاستِ مدینہ کا دعویٰ کرتے ہیں، یہ دعویٰ انہیں زیب نہیں دیتا۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے خلاف یہ ساری کارروائی عمران نیازی کی مرضی کے بغیر نہیں ہوئی، ہم نے ہمیشہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، ان کی گالی کا جواب کبھی نہیں دیا۔ان کا کہنا ہے کہ 9 ممالک نے اس ایول ویشیئس مشین کے استعمال کو رد کر دیا اور یہ حکومت اس مشین کو لانے کے لیے بضد ہے، یہ حکومت جتنا اس مشین کے لیے سنجیدہ ہے اتنا مہنگائی، صحت اور غریب کے لیے نہیں سوچتی، حکومت عوام کے پاس جائے بغیر منتخب ہو کر آنا چاہتی ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ اوور سیز پاکستانی ہمارے سر کے تاج ہیں، ہم اوور سیز پاکستانیوں کے ووٹ کے حق کی بھرپور تائید کرتے ہیں، ہم طریقہ کار پر بات کر رہے ہیں، حکومت اوور سیز پاکستانیوں کا کہہ کر اپنے فسطائی ایجنڈے کو پورا کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اوور سیز پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے حق کی تائید کرتے ہیں، بیرونِ ملک پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے حق سے کوئی اختلاف نہیں، ہمیں اس طریقۂ کار سے اختلاف ہے جو یہ حکومت استعمال کرنا چاہتی ہے، ہمیں اس بارے میں بھی پوری طرح چوکنا ہونا ہو گا۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا ۔مشیرِ پارلیمانی امور بابر اعوان کے بات شروع کرنے پر اپوزیشن کی جانب سے شور کیا گیا۔اس موقع پر بابر اعوان نے اسپیکر اسد قیصر سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا بل مؤخر کرنے کی استدعا کی۔بابر اعوان نے کہا کہ اپوزیشن اس بل پر آپ سے بات کرنا چاہ رہی ہے اس لیے اسے مؤخر کر دیا جائے۔

اسپیکر نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے بل کو مؤخر کر دیا۔مشیرِ پارلیمانی امور بابر اعوان کی جانب سے تحریک پیش کرنے پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا۔مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا کہ ایجنڈا نمبر 2 انتخابات ترمیمی بل 2021ء پر اپوزیشن کو اعتراض ہے، اس بل سےمتعلق آپ سے اور سینیٹ میں بھی بات ہوئی ہے، اس بل کو مزید بحث کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد کی جانب سے انتخابات ترمیمی بل 2021ء پر بحث شروع کرا دی گئی۔اس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ جو کھلاڑی ہوتا ہے جب وہ میدان میں چلتا ہے تو ہر چیز کے لیے تیار ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گراؤنڈ میں موجود کھلاڑی کہتا ہے کہ جو مخالف کرے گا، میں اس سے بہتر کروں گا۔ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ وزیرِ اعظم صاحب اتنی ملاقاتیں کر رہے ہیں، کوئی پریشانی تو نہیں؟وزیرِ اعظم عمران خان نے صحافی سے الٹا سوال کر لیا کہ کون ملاقاتیں کر رہا ہے؟پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پہلے حکومتی اتحاد کا اجلاس بھی ہوا۔تحریکِ انصاف اور اتحادی جماعتوں کا اجلاس وزیرِ اعطم عمران خان کی زیر صدارت ہوا ہے جس میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے حوالے سے حکمتِ عملی طے کی گئی۔وزیرِ اعظم عمران خان نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان سمندر پار پاکستانیوں نے اس سال 30 ارب ڈالرز بھیجے ہیں۔وزیرِ اعظم عمران خان کا اجلاس سے خطاب میں یہ بھی کہنا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے الیکشن میں دھاندلی رکے گی۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے حوالے سے قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف، صدر نون لیگ شہباز شریف سے چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات ہوئی ہے۔شہباز شریف نے گرم جوشی سے بلاول بھٹو کا استقبال کیا، ملاقات میں مولانا اسعد محمود اور دیگر ارکان بھی شریک ہوئے۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل شہباز شریف کی زیرِ صدارت پی ڈی ایم کا پارلیمانی اجلاس ہوا۔اجلاس میں مسلم لیگ نون اور پی ڈی ایم کی دیگر جماعتوں کے اراکین نے شرکت کی، اجلاس میں مشترکہ اجلاس سے متعلق حکمتِ عملی طے کی جا رہی ہے۔

Comments are closed.