الیکشن کمیشن نے علی امین گنڈا پور کو کشمیر کی حدود سے نکل جانے کا حکم دے دیا

مظفر آباد (ویب ڈیسک) آزاد کشمیر میں الیکشن کمیشن کی جانب سے وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حدود سے چلے جانے کا حکم دیا گیا ہے۔پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود الیکشن کمیشن حکام نے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر علی امین گنڈا پور

کی کشمیر میں جلسے جلوسوں میں شرکت اور تقاریر پر پابندی عائد کر دی ہے۔خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز بھی اس وقت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات سے قبل انتخابی جلسوں کا انعقاد کر رہی ہیں۔جمعے کو الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری کو بھجوائے گئے مراسلے میں کہا ہے کہ وفاقی وزیر ورائے امور کشمیر علی امین گنڈا پور کشمیر میں انتخابی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہے ہیں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر کشمیر کے انتخابات میں دانستہ طور پر منفی انداز میں متاثر کر رہے ہیں اور اس کی پاداش میں انھیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ’انتخابی مہم اور جلسے جلوسوں میں شرکت اور تقریر کرنے پر فوری طور پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر کے ’افعال کی وجہ سے نہ صرف امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے بلکہ انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔‘الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کے خلاف بھی کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔بی بی سی کی نامہ نگار تابندہ کوکب کے مطابق بدھ کے روز علی امین کے قافلے کو ایک مقامی شخص کی جانب سے کھن بندو کے مقام پر روکنے اور پھر وہاں پہاڑ پر موجود کچھ دیگر لوگوں کی جانب سے ان پر پتھراؤ کے کا واقعہ پیش آیا ۔ پتھراؤ کرنے والے کچھ لوگوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا تاہم جمعے کو انھیں رہا کر دیا گیا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ مراسلے میں یہ بھی تحریر کیا گیا ہے کہ علی امین گنڈا پور اپنے جلسے جلوسوں میں تقاریر کے دوران ناشائستہ کلمات کی ادائیگی کے علاوہ حکومت پاکستان کے سرکاری وسائل کا تاثر دیتے ہوئے اربوں روپے کے ترقیاتی پیکج کے اعلانات کیے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *