الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں سے انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ، مگر کیسے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد احمد عارف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔چند ماہ قبل میں نے تجویز پیش کی تھی کہ وزارت سائنس آزمائشی بنیادوں پر کسی پریس کلب یا بار کونسل کے انتخابات ان مشینوں کے ذریعے کرائے۔وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے ہامی بھری مگر عملدرآمد کی نوبت ابھی تک نہیں آئی‘

پاکستان میں خواندگی کی شرح کم ہے اور الیکٹرانک مشینوں کا استعمال محدود‘اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی ٹچ سکرین موبائل فون کی مختلف ایپس استعمال کرنے کے لئے دوسروں کے محتاج ہیں‘پولنگ بوتھ پر ازخود الیکٹرانک مشین سے بیلٹ پیپر کے حصول‘اپنی شناخت کو ظاہر کرنے اور پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دینے کے لئے 90فیصد ووٹر کسی نہ کسی سہولت کار کے محتاج ہوں گے جو مشین کے قریب ان کی رہنمائی کے لئے موجود ہو‘یہ ووٹ کی راز داری اور ووٹر کی شناخت کو خفیہ رکھنے کے اُصول کی خلاف ورزی اور آئینی و قانونی خلا ہے جس کا مداوہ ہونا چاہیے۔مشین کی تحویل ‘منتقلی اور حفاظت کی یقین دہانی بھی ایک مسئلہ ہے‘جس ملک میں دھند کے بہانے پریذائیڈنگ آفیسر بیلٹ بکس لے کر گھنٹوں غائب رہنے کے عادی ہوں وہاں ان مشینوں کی تحویل اور بحفاظت منتقلی یقینا ایک مسئلہ ہو گی ۔الیکشن کمشن کا یہ اعتراض بھی معقول ہے کہ تمام تر عملدرآمد کا انحصار نجی کمپنیوں پر ہے جو بذات خود قابل اعتراض بات ہے‘الیکشن کمشن کا دعویٰ ہے کہ شفافیت کی کمی کی وجہ سے جرمنی اور ہالینڈ جبکہ کچھ تحفظات کی وجہ سے آئر لینڈ‘اٹلی اور فن لینڈ نے مشینی ووٹنگ چھوڑ دی اور یہ مسائل ہمیں بھی درپیش ہوں گے۔ ووٹ کی راز داری کا اہتمام اور ووٹر کی شناخت کو خفیہ رکھنے کا انتظام کون‘کیسے کرے گا؟یہ حکومت کا درد سر ہے‘وہی الیکشن کمشن کو مطمئن کرے اور سیاسی جماعتوں‘عوام اور میڈیا کو بھی‘اگر حکومت اور الیکشن کمشن الیکٹرانک مشینوں کے ذریعے انتخابات کرانے میں یکسو ہوں تو پھر سیاسی جماعتوں کو مطمئن کرنا آسان ہو گا لیکن اگر حکومت کے آئیڈیا سے الیکشن کمشن ہی مطمئن نہیں جو بنیادی طور پر شفاف آزادانہ اور غیر جانبدارانہ‘انتخابات کرانے کا ذمہ دار ہے تو عمران خان کی مخالفت پر کمر بستہ اپوزیشن کیسے قائل ہو گی؟اپوزیشن کے اطمینان اور تعاون کے بغیر الیکشن قوانین میں تبدیلی ممکن ہے نہ الیکٹرانک مشینوں کا استعمال آسان‘ظاہر ہے مقصد جب انتخابات کا غیر متنازع‘شفاف انعقاد ہے تو اپوزیشن کے خوش دلانہ تعاون کے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا ‘حکومت یقینا نیک نیتی سے مشینوں کا استعمال چاہتی ہے‘عمران خان تھرڈ ایمپائر کا تجربہ کرنے پر تُلے ہیں مگر جب تک فریق مخالف مطمئن نہ ہو‘مشینوں کا استعمال ممکن نہیں‘قانون سازی حکومت اپنے طور پر کر سکتی ہے‘اربوں روپے کی مشین خرید کر انہیں پولنگ سٹینوں تک پہنچانا آسان ہے۔ مگر سیاسی جماعتوں‘امیدواروں‘ پولنگ ایجنٹوں اور ووٹروں کو ان کے استعمال پر آمادہ کرناکارے دارد۔عمران خان فواد چودھری اور شبلی فراز کو جدید ٹیکنالوجی سے عشق ہے اور وہ ہر قیمت پر الیکٹرانک مشینوں کا استعمال چاہتے ہیں مگر الیکشن کمشن کے معقول اعتراضات رفع اور اپوزیشن کو قائل کرنا ؟ یہ عشق نہیں آسان ‘بس اتنا سمجھ لیجیے اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

Comments are closed.