الیکٹیبلز سمجھے جانیوالے سیاستدانوں کا تحریک انصاف کو فائدہ ہوا ہے یا نقصان ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نعیم مسعود اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب باتیں اپنی جگہ ایک تبدیلی اس صورت میں تو بہرحال آئی کہ نون لیگ اور پیپلزپارٹی کی باہمی مناپلی کو تحریک انصاف کےدعوئوںاور نعروں سے کاری ضرب ضرور لگی مگر تحریک انصاف خود بھی کسوٹی پر آکر بےذائقہ ہوگئی۔

اسے کسی حد تک ارتقائی عمل سمجھا یا ریفارمز کی طرف بڑھنا گردانا جاسکتا ہے۔ مانا کہ ہم ناروے ، ڈنمارک یا آسٹریلیا اور سنگاپور تو بننے سے رہے مگر ہم اقتصادی طور سے ملائشیا ماڈل تو بن ہی سکتے ہیں، نسلی تعصب، مذہبی تفریق اور تہذیبی تضادات ملائشیا میں بھی تو ہیں۔ یہ درست کہ پاکستان میں کلچرل ورائٹی اور مذہبی اقسام، پھر پہاڑوں سے صحراؤں تک کے بہت فرق موجود ہیں، ایران کے پڑوس کے بلوچستان پر مختلف اثرات، افغانستان کے کے پی پر الگ معاملات، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے حوالے سے الگ بھارتی چیلنجز کا سامنا۔ روس ، چائنہ اور امریکہ کشمکش کے اپنے اثرات مگر ان سب چیزوں کے باوجود سی پیک آصف زرداری کی ابتدا اور نواز شریف انتہا سے خطے کیلئے بالعموم اور پاکستان کیلئے بالخصوص گیم چینجر بن چکا ہے، گلوبل ویلیج فلسفہ فروغ پانے کے درپے ہے اب جمہوریت اگر اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اقتصادی و سماجی بناؤ والوں کو ووٹ ملے گا محض الیکٹ ایبلز کو نہیں۔تبدیلی کا خواب بھی خاصا ’’شرمندہ‘‘ تعبیر ہوچکا۔ لوٹ مار بدعنوانی کا نیبی و سیاسی ڈھول بھی کافی پیٹا جاچکا۔ یہ بھی ثابت ہو چکا کہ مالی بدعنوانی اور سیاسی بدعنوانی ایک ہی طرح کے زہر ہیں جو اقتصادی بیماری کو جنم دے کر سماجی جڑوں کو کھوکھلا کرتے ہیں۔ بہرحال تحقیق یہ کہتی ہے سندھ میں پیپلزپارٹی کی بقا اب ان کے ترقیاتی کاموں کے سبب ہے، سندھ کارڈ کا رنگ پھیکا پڑ چکا۔ کراچی کے سحر بھی کافی بدل چکے۔ پنجاب کل بھی نون لیگ کا گرویدہ تھا اور آج بھی، یہی وجہ ہے کہ گوجرانوالہ و سیالکوٹ، گجرات و راولپنڈی، لاہور و قصور ایسے ہی شیخوپورہ و فیصل آباد الیکٹ ایبلز کے نہیں بناؤ کے ہوئے۔ جنوبی پنجاب میں نظریاتی پیپلزپارٹی اور نون لیگی ترقیات کا انتخابی رنگ بڑھ چکا بشرطیکہ ’’بڑوں‘‘ کی نظر نہ لگے۔ کے پی، ہزارہ اور کوہستان ڈویژن بھی ترقیاتی و اصلاحات کی طرف لپکتے ہیں۔ رہی بات تحریک لبیک پاکستان کے رنگ کی تو وہ بھی ایک اصولی ری ایکشن تھا جو آئین کی دفعہ 10-اے کے فئیر ٹرائیل اور ڈِیو پراسِس سے انحراف کی بدولت ہوا۔ مختصر یہ کہ ملک میں تقریباً 70 تا 80 فیصد اقتصادیات و ترقیات کا انتخابی راج ہوگا الیکٹ ایبلز کا نہیں، کاش اس بات کو بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف بخوبی سمجھ لیں۔ ہمارے ’’دوست‘‘ جان لیں کہ نتیجہ خیز سماجی و سیاسی بناؤ ہی درکار ہے اور بدعنوانی کے خلاف ویکسین چاہئے موروثیت یا بدعنوانی کے نام پر کلنک کے ٹیکے لگانا قطعی کارآمد نہیں! ہاں مل گروپس یا جابر جاگیردار کے بجائے بناؤ کا پیکر الیکٹ ایبل یا بناؤ کی لیگیسی والا اُبھر آئے تو مضائقہ ہی کیا ہے؟

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *