امام دین لاہوری کا پاکستانیوں سے تلخ سوال

لاہور (ویب ڈیسک) پیارے قارئین : ہمارے معاشرے میں آج کل اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ عورت کا مناسب نامناسب اور غلط لباس کس طرح کا ہوتا ہے ؟ عورت نے کس قسم کے کپڑے پہنے ہوں تو وہ اچھی اور باکردار لگے گی، اور کس قسم کے پہن کر وہ بے حیا

اور کردار سے عاری نظر آئے گی یعنی فحاشی پھیلائے گی ۔ میں تو یہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا ہوں کہ موجودہ اسلامی و جمہوری پاکستان کے کسی بھی بازار کا جائزہ لے لیجیے ، کہیں کوئی فیشن ایبل لڑکی چلتی نظر آ جائے تو بازار میں موجود ہر آتا جاتا اس کے لباس کا جائزہ لینا جسمانی نشیب و فراز سے اپنی آنکھوں کے ڈیلے گرم کرنا اور بعض اوقات اس پر فقرے کسنا اپنا حق سمجھتا ہے ۔اور اگر کوئی برقع پوش خاتون بھی بازار میں داخل ہو جائے تو ہم اپنی آنکھوں کی ٹیلی سکوپ آن کرکے برقعے کے اندر موجود جسم کو کھنگال ڈالتے ہیں اور سب کچھ دیکھ کر تسلی کر لیتے ہیں ۔ ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کیلے ، آم اور گندم کے دانے کو بھی معنی خیز چیز سمجھا جاتا ہے، یار لوگ ایک دوسرے کو ان کے نام لیکر سستے مذاق کرتے اور ان میں مزہ لیتے ہیں ۔ ہمارے دیس کے فلاسفر اور دانشور ان دنوں دو نہییں تین قسموں میں تقسیم ہو چکے ہیں ۔ ایک قسم وہ ہے جو کہتی ہے کہ عورت کی مرضی جس لباس میں باہر آ جائے جو مرضی پہن لے ، مردوں کو چاہیے کہ اسکا احترام کریں ۔۔۔ دانشوروں کی دوسری قسم یا قبیلہ یہ کہتا ہے کہ غلط ، مختصر اور چست لباس پہن کر عورت باہر آئے گی تو لوگوں کے جذبات بھڑکیں گے ،بے حیائی بڑھے گی اور بچوں و خواتین کے ساتھ بداخلاقی کے واقعات میں اضافہ ہو گا ۔۔۔

ایک تیسری قسم کے دانشور بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات کی مکمل پیروی یعنی برقعے ، چادر چار دیواری اور گھر داری میں ہے عورت محفوظ ترین ہے اسکے علاوہ کوئی حل نہیں ۔۔۔۔ اب آپ بتائیے امام دین کس کی مانے ، کس کے کہنے پر چلے؟ لیکن کسی کی ماننے سے پہلے امام دین کا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے گریبان میں جھانکے ۔۔۔ اور اپنا گریبان تو سیدھی سی بات ہے دیکھنے و جھانکنے کے قابل ہی نہیں رہا ، لیرو لیر ہو چکا ہے ۔ چھوٹی سی مثال : ہمارے شہروں و دیہات میں کسی تگؑڑی آسامی کے بیٹے کی شادی ہو، مشہور اور خوبصورت ترین ڈانسر کو بلایا جاتا ہے شادی کی خوشیاں دوبالا کرنے کے لیے ۔۔۔ کسی درمیانے درجے کے کسان کی شادی ہو وہ بھی خوبصورت خواجہ سراؤں کو نچانے کے لیے بلا لیتا ہے ایک نہیں آس پاس کے دیہات کے بڑے چھوٹے اس محفل میں حاضری دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔۔ لیکن اگر کسی مسجد یا کسی کے گھر محفل میلاد ہو تو وہاں صرف لنگر کے چکر میں لوگوں کی محدود تعداد پہنچ پاتی ہے ، باقی سب دنیا داری اور رزق کی تلاش میں اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ اس محفل میں شرکت سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ جب ہمارے ذہن اور سوچ کا یہ عالم ہے تو ہم کس منہ سے عورتوں کے لباس پر اعتراض کرتے ہیں ۔ لیکن نہیں میری طرح ہر شخص کا گریبان لیرو لیر ہے ۔کاش ہر پاکستانی پہلے اپنی اوقات کو پرکھ لے اور پھر دوسرے پر اعتراض کرے تو اس ملک کے کئی مسائل ختم ہو جائیں ۔۔۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *