اٹھو صلاح الدین ہم آ گئے ہیں

لاہور (ویب ڈیسک) اپریل 1915ء سے جنوری 1916ء تک یہ ہندوستانی فوجی، عثمانی ترکوں سے ترکی کے جزیرے گیلی پولی میں آمنے سامنے ہوئے، لیکن ان ہندوستانی خصوصاً پنجابی فوجیوں نے ایسی شکست کھائی کہ برطانوی وزیراعظم ایسکوتھ اور چرچل دونوں کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ترک افواج سے لڑنے کے لئیے

عراق میں بھی جو چھ لاکھ دستے بھیجے گئے ان میں بھی اکثریت ہندوستانی سپاہیوں کی تھی۔نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ لڑائی قوۃ الامارہ ’’بصرہ‘‘ کے مقام پر ہوئی۔ عثمانیوں نے ان انگریز کے وفادار ہندوستانی فوجیوں میں سے ڈیڑھ لاکھ کو ٹھکانے لگا دیا۔ اللہ نے انگریز کے ان ’’بہادر وفاداروں‘‘ پر ہیضہ، ملیریا اور جوؤوں سے پھیلنے والے ٹائفس کو ایسا مسلط کیا ۔ بچ جانے والوں کو قیدی بنادیا گیا جنہیں شام اور موصل میں بیگار پر لگا دیا گیا۔اس شکست کے بعد برطانیہ نے حجاز کے ہاشمی خانوادے کے چشم و چراغ علی بن حسین المعروف شریفِ مکہ کو ساتھ ملایا اور قومیت کے نام پر عربوں کو ترکوں کے خلاف ابھار کر پانسہ پلٹ دیا۔ اس کے لئے ہندوستان خصوصاً پنجاب سے نئی بھرتیوں کا آغاز کیا گیا۔ عمر حیات ٹوانہ فرانس جانے والے پہلے دستے میں موجود تھا اسے قوۃ الامارہ یعنی بصرہ کے علاقے کی شکست کے بعد مسلمان فوجیوں کو مطمئن کرنے کے لئے عراق بھیجا گیا۔ معلوم نہیں اس نے ان پر کیا جادو کیا، کہ وہ اپنے ہی کلمہ گومسلمانوں سے لڑنے کے لئے ایک بار پھر تازہ دم ہو گئے۔ عمر حیات ٹوانہ کو اعزازی میجر کا عہدہ عطا ہوا اور اسے بھرتی آفیسر بنا کر واپس ہندوستان بھیجا گیا اور ساتھ ہی ایک حکم نامہ بھی دلّی سرکار سے جاری ہوا کہ پنجاب سے تین ہزار گدھوں اور اتنے ہی اونٹ چرانے والوں کی ضرورت ہے۔ یہ کام ملک خدا بخش ٹوانہ، خان صاحب محمد ظفر خان، شیخ نجم الدین اور لالہ رام چند کے ذمہ لگا۔ یہ لوگ بلا کے تھے۔ انہوں نے ایک ہفتے کے اندر اندر ساڑھے آٹھ ہزار بندے بمعہ گدھے اور اونٹ انگریز سرکار کو فراہم کر دئیے۔ انگریز سے وفاداری میں صرف جاگیردار ہی نہیں بلکہ بعض گدی نشین بھی شامل ہو گئے۔ ان گدی نشینوں اور جاگیرداروں کے بھرتی کئے گئے فوجیوں میں سے اکثر وہ تھے جو بیت المقدس کو فتح کرنے کیلئے جنرل ایلن بی کے ساتھ لڑے تھے۔یہی مسلمان تھے جو عراق، حجاز اور فلسطین میں تاجِ برطانیہ کی فتح کے لئے لڑے تھے۔ اس لڑائی میں ان کا کمانڈر جنرل ایلن بی، اپنی فتح کے نشے میں چور جب صلاح الدین ایوبی کی قبر پر پہنچا اور اس نے قبر کہا ’’اٹھو صلاح الدین ہم آ گئے ہیں‘‘، تو یہ انگریز کے وفادار مسلمان دستے وہاں کھڑے چپ چاپ دیکھ رہے تھے۔ آج ٹھیک سو سال بعد ویسا ہی میدانِ سج چکا ہے۔ لیکن امتِ مسلمہ کی خاموشی بتا رہی ہے کہ اسرائیل اپنے جھنڈے پر علاقائی دریائے نیل و فرات کے درمیانی علاقے پر اپنی عالمی سلطنت بہت آسانی سے قائم کر لے گا اور ہمیں شاید اپنے سو سالہ پرانے غداری کے داغ دھونے کا موقع بھی نہ مل سکے۔(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.