امریکہ اب پاکستان کو اس بلاک کا حصہ بنا کر کیا کرنا چاہتا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بجا طور پر کہا جاتاہے کہ غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کاکسی کو کوئی حق نہیں۔ ایک اخبار نویس کیا، حکومت کو بھی نہیں۔ یہ عدالت کا کام ہے۔ سوال دوسرا ہے کہ قومی تحفظ کے باب میں

بے حسی کیا آخری درجے کی کم عقلی نہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن اور اویس نورانی سے بحث نہیں۔ محمود اچکزئی سے تو بالکل بھی نہیں جو یہ کہتے ہیں کہ افغان سرحد پر لگائی جانے والی باڑ کو اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا۔ نکتہ وہی ہے کہ کوئی لیڈر یا گروہ قومی سلامتی کے تقاضوں کو بے دردی سے نظر انداز کیسے کر سکتاہے۔ یہ بھارت کا خواب ہے کہ پاکستان کو مٹا دے۔ یہ اسرائیل کی تمنا ہو سکتی ہے۔ امریکی آرزو یہ ہے کہ پاکستان اس بلاک کا حصہ بن جائے، امریکہ نے جو چین کے خلاف مرتب کیا ہے۔ بھارت اور اسرائیل ہی نہیں، جس میں جاپان اور آسٹریلیا بھی شامل ہیں۔ خیر سے اب بعض عرب ممالک بھی۔ ایک عرب ملک کو، جسے دل و جان سے ہم عزیز رکھتے تھے۔۔۔سچی بات تو یہ ہے کہ اب بھی رکھتے ہیں۔۔۔ تازہ خبر یہ آئی ہے کہ ترک برگر کا نام بدل کر یونانی برگر رکھ دیا گیا ہے۔ کیا تماشا ہے۔ کیسا یہ اندازِ فکر ہے۔ انتقام کا شکار ہو کر ذہن جب مسخ ہو جاتے ہیں تو ایسے ہی کمالات دکھاتے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.