امریکہ اور یورپ کی پھر شامت ۔۔۔۔

واشنگٹن (ویب ڈیسک) موسم خزاں اور سردی کے ساتھ دنيا بھر ميں کورونا کے کيسز ميں خاطر خواہ اضافہ نوٹ کيا جا رہا ہے۔ امريکا ميں جلد انتخابات ہونے والے ہيں تاہم وہاں ريکارڈ تعداد ميں کورونا کے کيسز ميں اضافہ بھی جاری ہے۔امريکا ميں جمعے کو کورونا وائرس کے 84,218 نئے کيسز سامنے

آئے، جو يوميہ بنيادوں پر نمایاں اضافہ ہے۔ داخلی سطح پر گيارہ رياستوں ميں ريکارڈ تعداد ميں کيسز سامنے آئے۔ اس وقت ملک بھر کے ہسپتالوں ميں زير علاج کووڈ انيس کے مريضوں کی تعداد 41 ہزار ہے اور اوسطاً آٹھ سو افراد يوميہ انتقال کر رہے ہيں۔ امريکا اس عالمی وبا سے سب سے زيادہ متاثرہ ملک ہے۔ وہاں متاثرين کی مجموعی تعداد 85 لاکھ سے زائد جب کہ فوت شدگان کی تعداد 224,000 سے زائد ہے۔اسی تناظر ميں امريکی طبی ماہرين نے خبردار کيا ہے کہ اگر ملک کے ہر شہری نے باقاعدگی سے چہرے پر ماسک نہ پہنا اور قواعد و ضوابط کا احترام نہ کيا، تو آئندہ برس فروری تک صرف امريکا ميں ہی اس وبائی مرض سے انتقال کرنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔واضح رہے کہ عالمی سطح پر ايک دن ميں سب سے زيادہ کيسز کا ريکارڈ بھارت ميں سترہ ستمبر کو قائم ہوا تھا، جب چوبيس گھنٹوں کے دورانيے ميں 97,894 کيسز ريکارڈ کيے گئے تھے۔دنيا بھر ميں کورونا وائرس کے متاثرين کی تعداد تقريباً 42 ملين ہو گئی ہے۔ اس وبائی مرض سے اب تک گيارہ لاکھ چاليس ہزار سے زائد افراد انتقال بھی کر چکے ہيں۔ امريکا کے بعد بھارت دوسرا اور برازيل تيسرا سب سے زيادہ متاثرہ ملک ہے۔ يہ وائرس گزشتہ برس کے اواخر ميں چينی شہر ووہان سے پھيلا تھا اور اب تک دنيا کے دو سو دس خطوں اور ممالک ميں پھيل چکا ہے۔پولينڈ کے صدر آندريس دودا ميں کورونا وائرس کی تشخيص ہوئی ہے۔ اس بارے ميں ذرائع ابلاغ کو ايک ٹوئٹر پيغام کے ذريعے ہفتے کو مطلع کيا گيا۔ صدارتی ترجمان نے بتايا ہے کہ اڑتاليس سالہ دودا کی طبيعت فی الحال بالکل ٹھيک ہے البتہ طبی معالج ان کا مسلسل معائنہ جاری رکھے ہوئے ہيں۔کورونا وائرس کی عالمی وبا کے آغاز سے لے کر اب تک جرمنی ميں دس ہزار تين افراد کووڈ انيس کا شکار بن چکے ہيں۔ رابرٹ کوخ انسٹيٹيوٹ کے ہفتے کے روز کے اعداد و شمار کے مطابق ملک گير سطح پر انفيکشنز کی تعداد 418,005 ہو چکی ہے۔ يوميہ بنيادوں پر ديکھا جائے، تو جرمنی ميں بھی پچھلے چوبيس گھنٹوں ميں ريکارڈ 14,714 نئے کيسز کا اندارج ہوا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.