امریکہ اپنی شرمندگی کے اصل ذمہ داروں کے ساتھ کیا کرنے والا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار خورشید ندیم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اب صورتِ حال اتنی مبہم ہو گئی ہے کہ امریکہ سمیت ساری دنیا ایک مخمصے کا شکار ہے۔لوگ تالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کر نا چاہتے لیکن ا ن کی حکومت بالفعل قائم ہو چکی ہے۔دلچسپ بات ہے کہ

اس کے قیام میں امریکہ نے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔ اسے تاریخ کا جبر کہیے کہ امریکہ جنہیں ختم کر نا چاہتا تھا‘ان ہی کے اقتدار کو قائم کرنے میں معاون بنا۔تاریخ کا جبر ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں۔امریکہ کو بھی نہیں۔تالبان نے صرف امریکہ ہی کو نہیں‘ساری دنیا کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ان کا وجود ایک حقیقت ہے جس کو جھٹلا ناممکن نہیں۔اب دنیا اس کوشش میں ہے کہ تالبان اتنے بدل جائیں کہ تالبان نہ رہیں۔وہی خواہش جو لارڈ میکالے نے برصغیر کے مسلمانوں کے بارے میں کی تھی۔نام توعبداللہ ہو لیکن اندر سے انگریز ہو۔دنیا یہ چاہتی ہے کہ تالبان اپنا نام نہ بدلیں لیکن اندر سے بدل جائیں۔اب تالبان اس پر کچھ آمادگی ظاہر کر تے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ آسان کام نہیں ہے۔اس لیے دنیا بھی ان پرپوری طرح اعتبار کرنے پر آمادہ نہیں۔یوں دنیا کا مخمصہ اپنی جگہ قائم ہے۔میرا تاثر ہے کہ اس باب میں ایک نئی امریکی سوچ ابھر رہی ہے۔ اس سوچ کے تحت یہ دیکھا جا رہا ہے کہ نئے ورلڈآرڈر کے لیے کون سا نظریہ‘ملک یا گروہ خطرہ ہے اور اسے کیسے بے اثر یا ختم کیا جائے۔ مذہب کی بنیاد پر پیدا ہونے والی آئیڈیالوجی یا سیاسی نظام اس ورلڈ آرڈر کے لیے خطرہ ہے۔امریکہ اب یہ چاہتا ہے کہ اس نوعیت کی ہر قوت کے خلاف پھر سے ایک عالمی اتفاقِ رائے پیدا کرے۔ویسا ہی اتفاقِ رائے جو دوسری ورلڈ وار کے بعد پیدا کیا گیا تھا۔اس سوچ کے تحت تالبان امریکہ کا ہدف ہوں گے اور وہ سب قوتیں جو اس کے خیال میں تالبان کی سہولت کار ہیں۔امریکہ یہ چاہے گا کہ ان کے خلاف عالمی رائے عامہ کو متحد کرے۔میرا احساس ہے کہ چین اور روس کو بھی اس سوچ میں شریک کیا جائے گا جیسے بدامنی کے خلاف ان کو امریکی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا گیا تھا۔اس نئے اتحاد کا ہدف یہ ہو گا کہ تالبان کو مجبور کیا جائے کہ وہ نئے عالمی نظام کو قبول کر لیں یا پھر ایران کی طرح ان کونشانے پر رکھ لیا جائے۔نئے نظام کو قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ معیشت اور انسانی حقوق جیسے تصورات کو عملاً تسلیم کر لیا جائے‘ دنیا جس کو درست سمجھتی ہے۔اس کے ساتھ اس کی سرزمین سے کسی مذہبی آئیڈیالوجی کی آبیاری نہ ہو۔یہ آسان کام نہیں ہے اور امریکہ یہ جانتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قادرِ مطلق کسی کو نہیں بنایا۔مجھے دکھائی یہ دیتا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکی پالیسی کا ابہام بڑھتا جائے گا۔وہ ان ممالک کے خلاف کوئی اقدام کر سکتا ہے جسے وہ تالبان کا سہولت کار اور امریکی ہزیمت کا اصل ذمہ دار سمجھتا ہے۔تالبان نے امریکہ کی مت مار دی ہے۔اس کیفیت میں فرد حماقتیں کرتا ہے اورملک بھی۔دیکھیے امریکہ کی نئی حماقت کا ہدف کون ہے؟

Comments are closed.