امریکہ سے ایسی خبر کہ پوری دنیا میں خوف کی لہر دوڑ گئی

کراچی (ویب ڈیسک ) اپنی مدت صدارت کے آخری دنوں میں کیا ڈونلڈ ٹرمپ ایٹمی لڑائی یا کسی ملک پر اٹیک کر سکتے ہیں ؟ دنیا بھر میں موضوع بحث اس سوال پر عالمی امور کے ماہر کرس ہوری کہتے ہیں کہ صدر کے پاس ایٹمی اٹیک کرنے کا ساز و سامان

کبھی بھی زیادہ دور نہیں رہا اور آئندہ چند ہفتوں میں یہ خطرہ ماضی کے مقابلے میں شدید تر ہو جائے گا ۔ پوری دنیا میں اس حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے منگل کوڈونلڈ ٹرمپ کے وزیرِ دفاع مارک ایسپر کو عہدے سے سبکدوش کرنے کے فیصلے نے امریکی خفیہ سٹورز میں رکھے ایٹمی ہتھیاروں کو کسی کے مشورے یا پیشگی اطلاع دیے بغیر اپنی مرضی سے استعمال کرنے کے درمیان آخری رکاوٹ بھی دور کر دی۔اس اقدام سے پوری دنیا میں ڈر اور خوف کے بادل چھا گئے ہیں، یہاں تک کہ رپبلکن پارٹی کے سینئیر رکن مارکو روبیو نے کہا کہ ایٹمی خفیہ کوڈز پر مکمل اختیار کے معاملے میں ٹرمپ پر اعتماد نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ ایک ’سرپھرا شخص‘ ہے۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا ایران پر اٹیک کرتا ہے تو وہ اس کے جواب میں دبئی کو تباہ کردے گا۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں تقریب کی میزبانی کرتے ہوئے 2024 میں دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے کا عندیہ دے دیا۔تقریب میں ریپبلکن پارٹی کے بہت سے اراکین بھی شامل تھے جس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ حیرت انگیز چار سال تھے، ہم مزید چار سال حکومت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ورنہ میں آپ کو چار سال بعد ملوں گا۔ٹرمپ کے خطاب کی ویڈیو کو فیس بک پر تقریب میں شریک ایک خاتون پام پولارڈ نے براہ راست نشر کیا جو اوکلاہوما جی او پی کی قومی کمیٹی کا حصہ ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.