امریکہ میں مقیم خاتون صحافی کی پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) اپوزیشن اتحاد نئی بات نہیں، نہ ان کے جلسے اور نہ ہی دشمن کی زبان اس ملک کے لئے نئی بات ہے۔ سیاسی شعبدہ بازی جمہوریت کا وہ حسن ہے جس نے جمہوریت کی ایسی تیسی پھیر دی ہے۔ جمہوریت کی آڑ میں اداروں کی تذلیل الطاف حسین سے بھی پہلے وقتوں سے چلی آرہی ہے۔

نامور خاتون کالم نگار طیبہ ضیاء اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔ اداروں میں خریدو فروخت کی روایت ان نام نہاد جمہوری دلالوں نے ہی ڈالی ہے۔ کبھی ماضی کے آمروں کو خریدا جاتا کبھی ججوں کو اور جب خریدو فروخت کے باوجود معاملات مرضی کے مطابق نہ چل سکے تو بندروں نے پھر سے جمہوریت کی ڈگڈگی پر رقص شروع کر دیا۔ اب ہوا یہ ہے کہ چالیس برس پہلے اسٹبلشمنٹ کی ڈولی میں بیٹھنے والی دلہن کو بالآخر اکٹھی تین طلاقیں ہو گئیں تو اس مطلقہ نے انتقام میں چالیس سالہ بھڑاس نکالنی شروع کر دی ہے۔ اس مطلقہ کی نفسیاتی حالت بھی ریحام خان جیسی ہے۔ ریحام خان دس مہینے ساتھ رہی لیکن اس کا انتقام نہ کتاب لکھ کر ٹھنڈا ہوا نہ دن رات سوتن کے حسد میں بول بول کر ٹھنڈا ہو سکا۔ چالیس سال بعد اسٹبلشمنٹ سے طلاق یافتہ اس مطلقہ کی حالت بھی جنونی سانڈ سی ہو چکی ہے جو اندھا دھند سر ٹکرا رہا ہے۔ بھارت کی خوشی دیدنی ہے لیکن جمہوری سرکس کا کھیل بھی اپنی موت آپ مرنے والا ہے۔ مطلقہ آجکل قائد اعظم پر فدا ہے۔ نظریہ ضرورت کے تحت کبھی فاطمہ جناح کی فوٹو اُٹھا لاتی ہے کبھی بابائے قوم کے فرمودات کا ورد شروع کر دیتی ہے۔ یہودیوں کا یہ وطیرہ تھا کہ اپنے مطلب کی آیت انہیں یاد ہوتی اور جو ان کے خلاف ہوتی اسے حذف کر دیتے۔ جو فرمان قائد سے سیاست چمکے وہ دہراتے رہتے ہیں اور جو فرمودات ان کے خلاف ہیں انہیں حذف کر جاتے ہیں۔

مطلقہ کا آجکل یہی ورد ہے کہ قائد اعظم نے کہا  تھا آئین کا احترام کرو۔ مطلقہ نے آئین کا احترام کب کیا ؟ چالیس برس سے اسٹبلشمنٹ کی باندی بن کر رہی بلکہ ایکسٹینشن کا ووٹ دے کر ووٹ کی قبر پر لات ماری۔ قائد اعظم تو اقربا پروری کے بھی سخت خلاف تھے اپنی پیاری بہن جو تحریک پاکستان میں دست راست تھیں پاکستان بننے کے بعد کوئی عہدہ نہیں دیا فرمایا’’ پاکستان اپنی بہن کے لئے نہیں بنایا ’’ان نام نہاد جمہوری پارٹیوں نے قائد کا یہ فرمان کس بے شرمی کے ساتھ دفن کر ڈالا۔ ایک وہ ان کے نکاح خواں مولانا فضل الرحمان ہیں ، بلوچستان جلسہ میں کس ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ ‘‘ ان میں تھوڑی سے غیرت ہے تو انہیں چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہئے’’شاید نواز شریف اور زرداری سے مخاطب تھے کیوں کہ موصوف یہ جملہ نواز شریف سے بہت پہلے بھی بول چکے ہیں جب 2008ء میں آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس کے پلیٹ فارم سے انتخابات کا بائیکاٹ کیا لیکن عین وقت پر زرداری کی دعوت پر میاں صاحب اپنے اتحادیوں کو چھوڑ کر انتخابات میں شریک ہو گئے تھے اور مولانا نے یہ بھی کہا تھا گرینڈ اپوزیشن الائنس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود نواز شریف ہے۔ جلسہ بلوچستان بھی مطلقہ کے ہارے ہوئے اتحادیوں کا چالیسواں تھا جس کا مقصد بھارت کو یقین دہانی ہے کہ ہم پاکستان کے اداروں کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر لگے ہوئے ہیں اب تم اسرائیل اور اتحادی ممالک ہمیں تنہا مت چھوڑ دینا۔

بڑی چالاکی سے کہا جاتا ہے کہ ہم کچھ جرنیلوں کے خلاف ہیں پاک فوج کے خلاف نہیں۔ ایسا کرو پاک فوج کے جونیئر سے سینئر افسر تک اپنے حق میں ریفرنڈم کرا کے دیکھ لو تو تمہیں لگ پتہ جائے گا کہ پاک فوج میں نیچے سے اُوپر تک تم لوگوں کے لئے کتنی نفرت پائی جاتی ہے اور بلوچستان جلسہ میں جو پیغامات تم نے جن کو دینے تھے وہ تمہاری نفرتوں کا ثبوت ہیں۔ ادھر وزیر اعظم فرماتے ہیں کہ نواز شریف کی واپسی کیلئے خود برطانیہ جانے کی ضرورت پڑی تو جائوں گا اور برطانوی وزیراعظم سے بھی بات کروں گا۔ بڑی مہربانی ہو گی جناب اگر لندن واپسی پر جہانگیر ترین اور اسحاق ڈار کو بھی لیتے آئیں۔ قائد اعظم نے اپنی پیاری بہن جو تحریک پاکستان میں دست راست تھیں۔ کسی کے پوچھنے پر کہ آپ نے پاکستان بننے کے بعد کوئی عہدہ نہیں سنبھالا، اس پر مادر ملت نے قائداعظم کے تاریخ ساز بیان کا حوالہ دیا کہ انہوں نے پاکستان اپنے اور اپنی بہن کے لئے نہیں بنایا۔ پوری قوم کے لئے بنایا ہے۔ قیام پاکستان کے چند ماہ بعد وزیر صنعت آئی آئی چندریگر کے بیٹے نے امپورٹ ، ایکسپورٹ کا کاروبار شروع کیا۔ قائد اعظم کو پتہ چلا تو آپ نے طلب کر کے فرمایا کہ یا اپنی وزارت رکھیں یا اپنے بیٹے کا کاروبارآپ کی چوائس ہے۔ آئی آئی چندریگر نے قائد اعظم کی رفاقت رکھی اور بیٹے کا کاروبار ختم کر دیا۔ ایسے درجنوں واقعات ہیں کہ قائد اعظم کے ساتھیوں نے حکومتی عہدوں کے دوران کوئی نفع بخش کاروبار نہیں کیا۔ اسی وجہ سے 1953ء تک پاکستان بالکل مقروض نہ تھا بلکہ جرمنی جیسے اور دیگر ملکوں کو قرضہ دیتا تھا۔ قائد اعظم سے بڑا جمہوری لیڈر کسی ماں نے نہیں جنا۔ مطلقہ کا رونا بے سبب نہیں۔ اسٹبلشمنٹ نے بھی تو اس کے پلے کچھ نہیں چھوڑا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.