امریکہ میں مقیم لاکھوں غیر قانونی باشندوں کو تہلکہ خیز خوشخبری سنا دی

واشنگٹن(ویب ڈیسک) صدر بائیڈن کی اتنظامیہ ایک تاریخی امیگریشن بل کانگریس میں پیش کرنے کی تیاری میں مصروف ہے جس سے امریکہ میں اس وقت موجود ایک کروڑ دس لاکھ کے قریب افراد مستفید ہو سکیں گے۔ وائٹ ہاؤس سے جاری ہونیوالے ایک اعلان میں اس بل کے خاص خاص نکات بیان کئے گئے ہیں

جو کانگریس کے ڈیمو کریٹک ارکان سے مل کر تیار کیا گیا ہے۔ صدر بائیڈن کے انتخابی وعدحے کے مطابق امیگریشن کے اصلاحی پروگرام آٹھ سال میں قانوکنی حیثیت اختیار کر کے شہری بننے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ صدر بائیڈن نے اقتدار سنبھالنے کے پہلے روز اعلان کیا تھا کہ وہ ویزوں کی تعداد بڑھا دیں گے، پناہ گزینوں کی درخواستوں کو پراسیس کرنے کے لئے فنڈ میں اضافہ کریں گے اور جنوبی سرحد پر داخل ہونے والوں کو چیک کرنے کے لئے نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔ نئے امیگریشن بل کے مندرجات کے مطابق ماضی میں اپنے غیر قانونی والدین کے ساتھ بچپن میں آنے والے افراد کے علاوہ کھیت مزدوروں اور عارضی تحفظ کے حامل افراد کو فوری طور پر گرین کارڈ جاری کر دیا جائے گا۔ امیگریشن منصوبے کے مطابق یکم جنوری2021ء میں امریکہ میں موجود افراد کو پانچ سال کے لئے عارضی قانونی سٹیٹس دے دیا جائے گا۔ تاہم اس کے لئے انہیں بیک گراؤنڈ چیک میں کلیئر ہونا ہو گا، ان کی ٹیکسوں کی ادائیگی کا ریکارڈ درست ہونا چاہئے اور باقی شرائط بھی پوری کرنی ہو گی۔ پانچ سال کا تسلی بخش عارضی سٹیٹس کا عرصہ گزارنے کے بعد انہیں مزید تین سال کے خاتمے پر شہریت مل سکے گی۔نئے امیگریشن بل میں تمام ملکوں کے فیملی اور ملازمت کی بنیاد پر امیگریشن کوٹے میں اضافہ کیا جائے گا۔ بل کے تحت غیر قانونی طور پر رہنے والے افراد کو ہونے والا جرمانہ ختم کر دیاج ائے گا۔ پناہ کے حصول کے درخواست گزاروں کجے معاملات کو نمٹانے کے لئے سٹاف اور ججوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ امریکہ کی جنوبی سرحد پر پناہ گزینوں کے کاروان بنا کر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے افراد سے سرحد پر مسائل پیدا ہونے سے روکنے کے لئے وسطی امریکہ کے ممالک میں پناہ گزینوں کے معاملات کو پراسیس کرنے کیل ئے مرکز کھولے جائیں گے۔ وائٹ ہاؤس ذرائع کے مطابق بل کا مکمل متن بھی جلد جاری ہو گا اور کوشش کی جائے گی کہ ری پبلکن ارکان کی بھی تائید حاصل کی جائے۔

Comments are closed.