امریکہ میں مقیم نامور پاکستانی صحافی نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اور سینئر صحافی اظہر زمان اپنے ایک آرٹیکل میں رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔پاکستان کو امریکہ سے یہ بھی شکایت رہی کہ اس نے اتحادی ہونے کے باوجود مسئلہ کشمیر سمیت بھارت کے ساتھ دیگر معاملات میں پاکستان کا ٹھوس ساتھ نہیں دیا۔ حالانکہ اس وقت عملاً روسی کیمپ کا اہم حلیف تھا

وہ الگ بات ہے کہ وہ رسمی طورپر ایک غیرجانبدار ملک تھا۔ امریکہ نے جب بھی عمران خان سے معاملا کیا تو اس نے یہ نہیں بھلایا کہ اس نے افغان لڑائی کے مشکل دور میں پاکستان کے راستے افغانستان تک امریکہ کے فوجی اور دیگر سازوسامان کی ترسیل کو بند کرنے کیلئے باقاعدہ تحریک چلائی اور قافلوں کو روکا۔ تالبان کے حق میں اتنی سرگرمی دکھانے پر اسے مغرب میں ”تالبان خان“ کا لقب ملا۔ عمران خان نے اقتدار میں آنے کے بعد کچھ زمینی حقائق تسلیم کرتے ہوئے اپنی جذباتی پالیسی میں تبدیلیاں پیدا کیں لیکن مبصرین یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان منہ سنے جو بھی کہیں ان کا دل پہلے بھی تالبان کے ساتھ دھڑکتا تھا اور آج بھی دھڑکتا ہے۔ تالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد جس طرح وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آگے بڑھ کر دنیا بھر سے انسانی ہمدردی کی بناء پر افغان عوام کی امداد کی ہے اس نے سب کو حیران کرکے رکھ دیا ہے۔ خود تالبان کی حکومت نے اتنے زور دار طریقے سے مطالبہ نہیں کیا۔ عمران خان کی حکومت طالبان حکومت کے برسراقتدار آنے پر خوشی سے جو نہال رہی ہے اس سے پتہ چلتا ہے بلکہ باقاعدہ تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستان ہمیشہ تالبان کے ساتھ رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کبھی کھل کر اظہار نہیں کرسکا۔ لیکن اب تو بار بارعمران خان کو یہ کریڈٹ دلانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ان کایہ موقف درست ثابت ہوگیا ہے کہ افغان لڑائی میدان میں نہیں جیی جاسکتی۔ اس کا حل صرف امن مذاکرات تھے، لیکن اس کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کی انتظامیہ کو یہ خیال نہیں آیا اس کے ذریعے وہ بالواسطہ طور پر یہ بات بھی تیار ہے کہ افغان لڑائی میں وہ کبھی دل کے ساتھ امریکہ کے حامی نہیں تھے لیکن اب پاکستان کے یہ کارڈ اس رویئے سے سب کو نظر آرہے ہیں باقاعدہ ”شو“ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ پاکستان امریکہ کا زبانی کلامی ساتھ دیتا رہا لیکن اس نے تالبان کی حمایت سے کبھی ہاتھ نہیں کھینچا۔ اب چونکہ کابل میں تالبان کی حکومت آگئی ہے تو مبصرین کے مطابق اب پاکستان کو ذرہ پروا نہیں ہے کہ اس کی ماضی کی حکمیت عملی بلاشک آشکار ہو جائے۔ اس پس منظر میں امریکی انتظامیہ نے بھی متعدد واضح منفی اشارے دیئے ہیں جس سے یہ اندازہ لگانا ذرہ مشکل نہیں ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات سردمہری کے کس گڑھے میں گر چکے ہیں۔ صدر بائیڈن نے ابھی تک وزیراعظم عمران خان کو رسمی فون نہیں کیا۔ نظر انداز کرنے کا ایسا خاموش طریقہ پہلی بار کسی امریکی صدر نے پاکستان پر آزمایا ہے اس کے علاوہ پاکستان سے ڈپلومیٹک معاملات پر رابطے کیلئے امریکی وزیرخارجہ نے بھی پاکستان رجوع نہیں کیا۔ محکمہ خارجہ کے نچلی سطح کے افسر یہ کام کر رہے ہیں۔ بس تعلقات ٹوٹے نہیں ہیں باقی سب کچھ ہوگیا ہے۔