امریکہ میں مقیم پاکستانی خاتون پھٹ پڑیں

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون کالم نگار طیبہ ضیا اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔کشمالہ طارق دوسری ریمنڈ ڈیوس ثابت ہوئی۔ دارالحکومت کے قلب میں بدنصیب مائوں کی گود اجاڑ دی اور نام نہاد ریاست مدینہ کا والی خاموشی سادھے بیٹھا ہے ؟سانحہ ساہیوال میں ایک خاندان ‘‘ رانگ نمبر ‘‘ کی پاداش میں ختم کردیا جاتا ہے ،

نام نہاد ریاست مدینہ کا ‘‘ مومن حاکم ‘‘ تکتا رہ جاتا ہے؟ ، نام نہاد ریاست مدینہ کا انصاف سکتے میں ہے ؟ ہمیں مت بتائیں کہ یہ کام عدالت کا ہے۔ آپ اپنی جماعت کا نام تبدیل کریں۔ تحریک انصاف کا اولین فریضہ سستا اور فوری انصاف مہیا کرنا تھا ، کہاں گیا نعرہ انصاف؟ الیکشن سے پہلے علم نہ تھا کہ انصاف مہیا کرنا فقط عدالتوں کا کام ہے؟ ووٹ لینے کے لئے تو موصوف ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بھی امریکی چنگل سے نجات دلانے کے دعوے کیا کرتے تھے ؟ ماڈل ٹائون کے لواحقین کو انصاف دلانے کے دعویدار تھے ؟ تب تو پورے پاکستان کو مساوی اور فوری انصاف دلانے کے ٹھیکیدار بنے ہوئے تھے ؟ مسند اقتدار پر بیٹھتے ہی چکرا گئے ؟کسی ایک ظالم کو کیفر کردار تک پہنچا سکے عوام کو بتانا پسند کریں گے؟ نواز شریف اور زرداری سے ملک کی لوٹی ہوئی دولت نکلوانے کوجواز بنا کر عوام سے ووٹ تو لے لئے دولت نکلوا لی ؟ ایک کو باہر بھیج دیا اور دوسرا باعزت بری ہو گیا۔ دونوں جوں کے توں ڈٹ کر سیاست کھیل رہے ہیں۔ مریم کو باپ کی تیماداری کے بہانے رہا کر دیا وہ بھی اپنی سیاست چمکانے کے لئے چمک دمک کے ساتھ ‘‘ شو ‘‘ پیش کرتی رہتی ہے۔ تمام بڑے مجرم ملزم چور جنہیں آپ کہتے تھے ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ آخر بدلا کیا ہے ؟ تبدیلی کا چاند کس مفتی قوی نے دیکھا ہے ؟کچھ تواس بے وقوف عوام کو بھی سمجھائیں۔سینٹ میں بکنے والے ضمیر فروشوں کی ویڈیو کا دو سال بعد منظر عام پر لانا معنی خیز نہیں تو اور کیا ہے ؟

الا ما شاء اللہ چوری، عریانی بے حیائی اوپر سے نیچے تک ہر لیول پر راج کر رہی ہے ، کبھی کوئی ایک آدھ خبر باہر نکل آئے تو حیرانی کی بات نہیں البتہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ جب کسی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے پھر ان ڈراموں کی ضرورت کیوں کر پیش آتی ہے ؟ وزیراعظم نے ارکان کی خرید وفروخت کی ویڈیو پہلے دیکھنے کی تردید کر دی۔حالانکہ 2018ء میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا’’ آئین میں آپ کو ویڈیو دکھائو یوں نوٹ گنتے ہوئے ‘‘۔خیر چھوڑیں ویڈیو منظر عام پر آ ہی گئی ہے تو خدارا اس بار کا سینٹ الیکشن ہی شفاف بنانے کی کوشش کریں۔پچھلی حکومتوں نے چالیس سال سیاست کی اور پنڈی سے ساہیوال تک سیاسی کلچر کو بدنام کر ڈالا۔خریدو فروخت کا سیاسی کلچر تبدیل کرنا آسان نہیں تھا اسی لئے نئی پارٹی نئی قیادت کو موقع دیا گیا۔ تبدیلی اور بدعنوانی سے پاک نیا پاکستان کی امید نے عوام میں ایک امید پیدا کر دی تھی۔ ڈھائی برس سے اس امید کا مکمل دیوالیہ نہیں نکلا البتہ دلیہ ضرور بن گیا ہے۔ ملک اس دوراہے پر آن کھڑا ہے جہاں نہ پیچھے جانے کی ہمت ہے نہ آگے کچھ دکھائی دیتا ہے۔ پیچھے وہی چور لٹیرے منہ کھولے کھڑے ہیں اور آگے بھی کوئی متبادل دکھائی نہیں دیتا۔ پہلوں کا مرض دیکھ کر تبدیلی کے زکام پر راضی ہونے والے عوام اب مہنگائی بدعنوانی بے انصافی اور بیروزگاری کے کرونا میں مبتلا ہیں۔ملک سیاسی و معاشی اعتبار سے ‘‘ ڈیڈ لاک ‘‘ کا شکار ہو چکا ہے۔ عمران خان کی نیت پر شبہ نہیں مگر اس نیت کو چاٹنا ہے جو تبدیلی اور انصاف کا لالی پاپ کا بھرم تک نہ رکھ سکی ؟ جنوں تبدیلی موسم کاتقریروں کی حد تک ہے یہاں جو کچھ نظر آتا ہے تصویروں کی حد تک ہے۔

Comments are closed.