امریکہ میں 2 خواتین پہلی بار فورسٹار جنرل بن گئیں

واشنگٹن (ویب ڈیسک) صدر جوبائیڈن نے امریکی افواج کے سپریم کمانڈر کی حیثیت سے دو خاتون جرنیلوں کو ترقی دے کر ”فورسٹار جنرل“ بنا دیا ہے۔ امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین فورسٹار جنرل بنی ہیں۔ پینٹاگون ذرائع کے مطابق یہ خواتین امریکی فضائیہ کی جنرل جیکولین وین اووسٹ اور بری فوج کی

لیفٹیننٹ جنرل لارا رچرڈسن ہیں۔ سابق دور کے وزیر دفاع مارک الیسپر اور چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف مارک ملی نے ان کی ترقی کو اس لیے روک رکھا تھا کہ ان کو خطرہ تھا کہ سابق صدر ٹرمپ امریکی افواج میں خواتین کی لیڈر شپ کرداروں میں تعیناتی کی منظوری نہیں دیں گے اور اپنا عہدہ چھوڑنے سے پہلے انکی جگہ اپنی پسند کے افسروں کو ترقی دیدیں گے۔ سابق وزیر دفاع مارک الیسپر نے بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد ایک انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ انہوں نے خواتین افسروں کی ترقی کو التواء میں ڈالنے کا فیصلہ انہیں محفوظ رکھنے کیلئے کیا تھا تاکہ ان عہدوں پر دوسرے مرد حضرات کو ترقی نہ مل سکے جن کی یہ خواتین حقدار تھیں۔ صدربائیڈن کی طرف سے ان کی ترقی کے اعلان کے باوجود انہیں سینیٹ سے توثیق کی ضرورت ہے جو ان کو آسانی سے ملنے کا امکان ہے۔ توثیق ہونے کی صورت میں فضائیہ کی جنرل جیکولین وین اووسٹ عالمی ٹرانسپورٹ نیٹ ورک میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کی کمان سنبھالیں گی اور بری فوج کی جنرل لارا رچرڈسن لاطینی امریکہ میں امریکی فوج کی جنوبی کمان کی کمانڈر مقرر ہوں گی۔ 57سالہ لارا رچرڈسن افغانستان میں اتحادی افواج میں کمیونیکیشن کی چیف آف سٹاف بھی رہ چکی ہیں۔ انہیں قبل ازیں جون 2017ء میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دیکر آرمی کمانڈ کی ڈپٹی کمانڈنگ جنرل مقرر کیا گیا تھا۔ لارا کے شوہر جیمز رچرڈسن بھی آرمی میں لیفٹیننٹ جنرل ہیں۔ فضائیہ کی جنرل جیکولین نے 1988ء میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.