امریکہ پاکستان کے ساتھ کیا کچھ کر سکتا ہے ؟ اوریا مقبول جان کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔پاکستان اب ایک ایسے دوراہے پر آ کر کھڑا ہو چکا ہے، کہ اس کے پاس فیصلہ کرنے کو چند ماہ باقی ہیں۔ یہ چند ماہ،چند لمحوں میں بھی اچانک بدل سکتے ہیں۔ اس لئے کہ پاکستان کے اردگرد جو جال بُنا جا رہا ہے،

اس کے شکاری کبھی بھی، اور کچھ بھی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اس ’’پرندے‘‘ کو پکڑ کر اس کے پَر کاٹنے کا بہترین وقت کب ہے۔ جال تو قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی پھیلا دیا گیا تھا، جب امریکہ کی سڑکوں پر 3 مئی 1950 کو لیاقت علی خان کے شاندار استقبال نے انہیں مسحور کر کے رکھ دیا تھا،اور پاکستان کی ریاست کا سیاسی،معاشی بلکہ عسکری قبلہ بھی امریکہ بنا دیا گیا تھا۔اس کے بعد اگر آپ اپنی تباہی و بربادی کی داستان مرتب کرتے چلے جائیں تو آپ کو امریکی پنجوں کے نشان ہر جگہ ملیں گے۔ پاکستان کو ڈالروں کی چمک اور امریکی ساخت کے ہتھیاروں نے ایسا گرویدہ کیا کہ آج تک وہ اس بے وفا معشوق ’’امریکہ‘‘ کی زُلفوں سے نکلنے نہیں پاتا۔ آغازِ محبت سے لے کر اب تک امریکہ نے پاکستان کو 78.3 ارب ڈالر امداد کی صورت دیئے ہیں،جو ہر سال موقع اور حالات کی مناسبت سے زیادہ اور کم ہوتے رہے۔ یہ تمام کی تمام امداد عسکری تھی، البتہ کمال فراخ دِلی سے امریکہ نے اس میں سے ایک فیصد سول ترقیاتی پروگراموں پر خرچ کرنے کی اجازت دے رکھی تھی اور گزشتہ برسوں میں تین فیصد بارڈر اخراجات کیلئے بھی منظوری دی گئی۔اس امداد کی سب سے بڑی پابندی یہ تھی کہ آپ صرف امریکی ہتھیار خریدیں گے،امریکی ماہرین کی خدمات حاصل کریں گے یہاں تک اگر کبھی خوراک میں کمی پیدا ہو جائے تو وہ بھی امریکی مارکیٹ سے اُٹھائی جائے گی۔ قدرت اللہ شہاب نے PL480 کے تحت گندم کی پہلی کھیپ کی کراچی آمد کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے

کہ پاکستانی سیاسی اشرافیہ نے جب کراچی کی بندرگاہ سے گندم کو اُونٹ گاڑیوں پر لاد کر گوداموں تک پہنچانے کے سفر کا آغاز کیا تو امریکہ بہادر کی خوشامد میں ہم اتنا آگے بڑھ گئے کہ ہر اُونٹ کے گلے میں ” Thank you Amrica” کی تختیاں لٹکائی گئیں۔ پاکستان میں جب گورنر جنرل غلام محمد نے پہلی دستور ساز اسمبلی توڑ کر منتخب وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی وزارت ختم کی تو امریکہ میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرہ کو واشنگٹن سے بلا کر 17 اپریل 1953ء کو وزیر اعظم بنا دیا گیا،جس کرسی پر وہ دو سال 2 ماہ براجمان رہے۔ امریکہ کیلئے اس شخص کے کارآمد ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ جب کمانڈر انچیف افواجِ پاکستان ایوب خان نے 1958ء میں مارشل لاء لگایا تو وزیر اعظم کی حیثیت سے حکمرانی کرنے والا محمد علی بوگرہ، ایوب کی کابینہ میں اپنی موت تک وزیر خارجہ کے کمتر عہدے پر فائز رہا۔ پاکستان نے 1954ء میں امریکہ کے ساتھ “Mutual Defence Assistance Group”، ’’باہمی عسکری امدادی گروپ‘‘ ترتیب دیا تو اس کے بعد سے پاکستانی فوج کے اعلیٰ افسران امریکہ میں جا کر باقاعدہ ٹریننگ حاصل کرنے لگے۔ جب اسی امدادی گروپ کی کوکھ سے ایوب خان کے مارشل لاء نے جنم لیا، تو امریکہ نے پاکستان کی امداد بھی دُگنا کر دی۔ لیکن 1965ء کی پاک بھارت لڑائی میں امریکہ کی بے وفائی کا پہلا رُخ نظر آیا۔ جیسے ہی لڑائی شروع ہوئی، امریکہ نے پاکستان پر فوجی اور معاشی پابندیاں عائد کر دیں

اور بتایا کہ ہم آپ کی مدد بھارت سے لڑنے کیلئے نہیں کرتے، بلکہ کیمونسٹ سوویت یونین سے لڑنے کیلئے کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھارت نے 1971ء میں مشرقی پاکستان پر اٹیک کیا تو امریکہ نے دو بہت اہم اقدامات اٹھائے۔ ایک یہ کہ مشرقی پاکستان کو آسانی سے ایک علیحدہ ملک بننے دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان نے خفیہ طریقے سے ہنری کسنجر کی چین کی قیادت سے ملاقات کروا دی تھی اور فروری 1972ء کے مہینے میں امریکی صدر اور مائوزے تنگ کی ملاقات متوقع تھی جس میں امریکہ یہ مشرقی خطہ تحفتاً چینی بالادستی میں دینا چاہتا تھا، یوں امریکہ نے پاکستانی قیادت کے مبینہ گٹھ جوڑ سے مشرقی پاکستان کو علیحدہ ہونے سے بچانے میں کوئی مدد نہ کی۔لیکن جیسے ہی بھارتی یلغار مغربی پاکستان کی جانب بڑھی تو امریکی صدر رچرڈ نکسن لکھتا ہے کہ ’’اندرا گاندھی کو باقاعدہ وارننگ دی گئی اور ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں سے جہازوں پر ہتھیار لادنے کی وڈیو بھی فراہم کی گئی کہ اگر مغربی پاکستان کی جانب پیش قدمی روک کر لڑائی بندی نہ کی گئی تو راتوں رات یہ تمام ہتھیار پاکستان پہنچا دیا جائے گا‘‘۔ اس اقدام کی وجہ رچرڈ نکسن یہ لکھتا ہے کہ ’’ہمیں خطرہ محسوس ہو گیا تھا کہ اگر خطے سے مغربی پاکستان بھی سوویت یونین کے زیرِ اثر چلا گیا تو پھر یورپ کے مشرقی کنارے بالٹک سمندر سے لے کر بحرِہند کے مشرقی ساحلوں تک امریکہ کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہے گا‘‘۔

یہ وہ زمانہ تھا جب سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان بالادستی کی سرد لڑائی اپنے عروج پر تھی۔ امریکہ کا مغربی پاکستان کو اس بڑی تباہی سے بچانے کا فائدہ اسے ٹھیک آٹھ سال بعد پہنچا، جب 1979ء کے دسمبر میں سوویت یونین نے اپنی افواج افغانستان میں اُتاریں، تو پاکستان اس کیلئے ایک کارآمد ساتھی ثابت ہوا۔ بھٹو جس کی ذاتی دوستی رچرڈ نکسن سے تھی اور جسے لڑائی کے شعلوں کے درمیان امریکہ سے پاکستان لا کر بحیثیت صدر چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بچے کُھچے پاکستان کی مسندِ اقتدار پر لا بٹھایا گیا تھا، اچانک 1976ء کے الیکشنوں میں اپنا دوست کھو بیٹھا اور جمی کارٹر امریکی صدر بن گیا۔ اس نے ایٹم بم بنانے پر سخت پالیسی اختیار کی اور یوں بھٹو اور اس کا پاکستان دونوں امریکی ناراضگی اور پابندیوں کی زد میں آ گئے۔ مگر سوویت افواج کے افغانستان میں در آنے کے بعد پاکستان پر عنایات کے دروازے کھل گئے۔ ضیاء الحق امریکہ کا منظورِ نظر بن گیا اور 1981ء میں پاکستان نے امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت 3.2 ارب ڈالر کی عسکری اور معاشی مدد پاکستان کو ملنا تھی۔ حیرت کی بات ہے کہ پاکستان کے نخرے اس وقت اپنے عروج پر تھے۔ جمی کارٹر نے 1980ء میں پاکستان کو تین کروڑ پچیس لاکھ مدد کی پیشکش کی، جسے ضیاء الحق نے وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے رقم بڑھا کر 5 کروڑ ڈالر امداد کے حکم نامے پر دستخط بھی کر دیئے۔ ضیاء الحق نے پھر انکار کر دیا اور کہا کہ ہم افغان مشن کو امریکہ کی مددکے بغیر بھی چلا سکتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی رونالڈ ریگن صدر بنا، سب کچھ بدل گیا۔ وجہ یہ تھی کہ تقریباً دو سال پاکستان نے بغیر کسی عالمی امداد اور افغان مجاہدین نے امریکی ہتھیاروں کے بغیر یہ ثابت کیا کہ وہ سوویت یونین کے خلاف لڑائی اکیلے بھی جیت سکتے ہیں۔ لیکن روس کے افغانستان سے چلے جانے کے فوراً بعد 1990ء میں پریسلر ترمیم کے ذریعے پاکستان پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں اور صرف دو سال بعد ہی 1992ء میں امریکی سفیر نکولس پلاٹ “Nicholes Platt” نے وارننگ دی کہ اگر پاکستان نے بھارت میں لڑاکوں کی مدد بند نہ کی تو پاکستان کا نام شرپسندی کی مدد کرنے والی ریاستوں کی لسٹ میں شامل کر دیا جائے گا۔ یوں بھارت پہلی دفعہ امریکی محبتوں کی فہرست میں واضح طور پر شامل ہو گیا اور اس ’’بے وفا معشوق امریکہ‘‘ کے اب اس خطے میں دو عدد عشاق وجود میں آ گئے، پاکستان اور بھارت۔یہی وجہ ہے کہ اس دفعہ تالبان کے خلاف جب امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑی تو اس نے بھارت کو بھی اس لڑائی میں اپنے ساتھ ساتھ رکھا۔

Comments are closed.