امریکی افواج کا انخلا منصوبہ بندی کے تحت ہوا یا اچانک ؟

لاہور (ویب ڈیسک) پاک فوج کے سابق افسر اور نامور مضمون نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔عسکری مورخ آنے والے برسوں میں اس پر بحث کرتے رہیں گے کہ یہ امریکی انخلا پس قدمی (Withdrawal)تھی یاپسپائی (Retreat) تھی…… دنیا اب امریکہ کی اس پسپائی / پس قدمی کو شکست سے

تعبیر کر رہی ہے۔ ماضی کے حوالے دیئے جا رہے ہیں، چین اور روس کی افغانستان میں آمد آمد پر بحث و مباحثے ہو رہے ہیں، پاکستان کے رول کو ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، جس طرح امریکہ کی واپسی کو انخلا کا نام دیا جا رہا ہے اسی طرح انڈیا کی واپسی کو کسی نے بھی انخلا کا نام نہیں دیا۔حالانکہ انڈیا کی پسپائی، امریکی پسپائی سے کہیں زیادہ پاکستان کے لئے سٹرٹیجک نتائج و اثرات کی حامل ہے۔ کیا کسی کے وہم و گمان میں تھا کہ اس خطے کے سات ملکوں کے انٹیلی جنس چیفس اکٹھے ہوں گے اور پاکستانی ISI چیف کی میزبانی میں افغانستان کے مستقبل کے بارے میں باہم تبادلہ ء خیال کریں گے؟ کیا یہ حسنِ اتفاق ہے؟امریکی صدر اگرچہ کابل سے امریکی ٹروپس کو نکالنا چاہتا تھا لیکن اس نکاسی کی پلاننگ پینٹاگون کے کسی دفتر میں کی گئی تھی یا نہیں، اس کی خبر شاید ابھی تک صیغہء راز میں رکھی جا رہی ہے۔ یعنی دوسرے لفظوں میں تدبیر سب دنیا کے سامنے تھی اور تقدیر صیغہء راز میں تھی۔اور یہ تو ”انسانی تقدیر“ تھی، خدائی تقدیر کا اس سے کیا مقابلہ کہ چہ نسبت خاک را بہ عالمِ پاک؟…… اگر آج کوئی شخص یا ادارہ اٹھ کر یہ دعویٰ کرے کہ اسے اس امریکی پسپائی کا علم تھا تو اس سے پوچھا جا سکتا ہے کہ اس ’راز‘ پر سے آپ نے پہلے پردہ کیوں نہیں سرکایا؟ اب جبکہ سب کچھ ظہور پذیر ہو چکا ہے تو آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ کو افغانستان کے ان حالات کا علم تھا۔

Comments are closed.