امریکی جریدے کے نمائندے کے سوال کا پرویز مشرف نے کیا جواب دیا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک)آپ کو مختاراں مائی تو یاد ہوگی۔ اگر یاد نہیں تو ذہن پر تھوڑا زور دیجئے۔ 2002میں ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل جتوئی کے ایک گائوں میر والا میں مختاراں مائی کے ساتھ اجتماعی بدفعلی ہوئی تھی ۔ یہ ظلم ایک مقامی قبیلے کی پنچایت کے فیصلے کا نتیجہ تھا۔

نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔مختاراں مائی کے ایک بھائی پر شک کیا گیا کہ اُس کے کسی لڑکی کے ساتھ غیر اخلاقی ریلیشنز تھے۔ پہلے تو اُس کے ساتھ بدفعلی کی گئی اور پھر مختاراں مائی کو پنچایت میں بلاکر سب کے سامنے نشانہ بنایا گیا۔۔ پنچایت والوں کا خیال تھا کہ مختاراں مائی اس ظلم پر خاموش رہے گی لیکن اُس نے اپنے ساتھ ظلم کرنے والوں اور پنچایت کے ارکان پر مقدمہ درج کرا دیا۔میڈیا نے مختاراں مائی کا بھرپور ساتھ دیا جس پر اُس وقت کے حکمران جنرل پرویز مشرف بڑے ناراض ہوئے۔ بہرحال ڈیرہ غازی خان کی ایک عدالت نے مختاراں مائی کے ساتھ غلط کاری کرنے والے چھ افراد کو تختہ دار پر چڑھانے کی سنا دی۔انصاف ملنے کے بعد مختاراں مائی کی مشکلات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اس مقدمے میں سزا پانے والوں کو علاقے کی اہم سیاسی شخصیات کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ ایک طرف ہائی کورٹ نے ملزمان کی سزا معطل کر دی تو دوسری طرف حکومت نے مختاراں مائی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا۔ڈکٹیٹر مشرف سے واشنگٹن پوسٹ نے پوچھا کہ آپ کی حکومت ظلم کا شکار ایک مظلوم عورت کی نقل و حرکت پر پابندیاں کیوں لگا رہی ہے تو موصوف نے جواب دیا کہ یہ تو بزنس بن چکا ہے، جس کسی نے بھی کینیڈا کا ویزا لگوانا ہو یا ڈالر کمانے ہوں، وہ یہ الزام لگا کر سب کچھ پا لیتا ہے۔ پھر مختاراں مائی سے اُس کا پاسپورٹ بھی چھین لیا گیا۔جب انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا نے شور مچایا تو پاسپورٹ واپس کر دیا گیا۔ مختاراں مائی کو ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے پر بیرون ملک تو بہت پذیرائی ملی لیکن پاکستان میں اُسے متنازعہ بنا دیا گیا۔ وہ انصاف کے لئے سپریم کورٹ گئی لیکن پولیس کی طرف سے ٹھوس شواہد فراہم نہ کرنے پر اعلیٰ عدالت نے بھی ملزمان کو بری کر دیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.