امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج کا انتظار کرنے والوں کیلئے اہم خبر

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کے لیے وائٹ ہاوس پہنچنے کا راستہ اب اور بھی زیادہ صاف لگتا ہے انہوں نے دو اہم سوئنگ ریاستوں، مشیگن اور وسکونسن میں بھی کامیابی کے پرچم لہرادیے ہیں جہاں 2016 کے انتخابات میں صدر ٹرمپ کامیاب رہے تھے۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ ان نتائج سے کافی ناراض ہیں

اور ووٹوں کی گنتی کو روکنے کے لیے ان کی جانب سے مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔ قومی ٹیلی ویزن پر اپنے مختصر خطاب میں جو بائیڈن نے گو کہ اپنی فتح کا باضابطہ اعلان نہیں کیا تاہم کہا ”ہمیں یقین ہے کہ جب ووٹوں کی گنتی مکمل ہوجائے گی تو ہم ہی کامیاب ہوں گے۔” اہم سوئنگ ریاستوں میشی گن اور وسکونسن میں کامیابی کے ساتھ ہی بائیڈن 264الیکٹورل ووٹ حاصل کرچکے ہیں جبکہ ٹرمپ کو ابھی تک 214 الیکٹورل ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ کسی بھی امیدوار کو وائٹ ہاوس پہنچنے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ دریں اثنا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینسلوینیا، مشی گن اور جارجیا میں ووٹوں کی گنتی کو روکنے کے لیے تین مقدمے دائر کر دیے ہیں۔ نیوڈا، جیورجیا، شمالی کیرولائنا اور پینسلوینیا میں اپنے ووٹ کم ہوتے دیکھتے صدر نے ٹوئٹر پر اعلان کر دیا کہ وہ ان ریاستوں، جہاں اب تک سرکاری سطح پر جتنے والے کی تصدیق نہیں ہوئی،میں ‘فتح کا دعوع کرتے ہیں۔ ‘ بائیڈن نے انتخابات میں کامیابی کے تئیں اعتماد کا اظہار کیا ہے دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات میں ایمانداری پر شبہات کا اظہار کرتے ہوئے ان ریاستوں میں بھی اپنی کامیابی کا دعوی کیا ہے جہاں ابھی نتائج نہیں آئے ہیں یا بائیڈ ن کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بائیڈ ن نے گوکہ ابھی اپنی فتح کا اعلان نہیں کیا ہے تاہم انہوں نے کہا”یہ واضح ہے کہ ہم عہدہ صدارت پر کامیابی کے لیے ضروری 270 الیکٹورل ووٹس تک پہنچنے

کے لیے کافی زیادہ ریاستوں میں کامیابی حاصل کررہے ہیں۔ ” انہوں نے کہا ”ہمیں یقین ہے کہ جب ووٹوں کی گنتی مکمل ہوجائے گی تو ہم ہی کامیاب ہوں گے۔“ امریکا میں کسی بھی صدارتی امیدوار کو کامیابی کے لیے 538الیکٹورل ووٹوں میں سے کم از کم 270 ووٹ حاصل کرنے ہوتے ہیں۔ ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اہم ریاستوں وسکونسن اور مشیگن میں جوبائیڈن کے ان سے آگے نکل جانے کے بعد ‘کئی اہم ریاستوں ‘ میں ان کی لیڈ ‘جادوئی انداز میں غائب’ ہو گئی۔ ٹرمپ نے لکھا ‘گذشتہ رات میں کئی اہم ریاستوں میں کئی موقعوں پر بھرپور انداز میں جیت رہا تھا۔ تقریباً تمام مقامات پر ڈیموکریٹ امیدوار کو کنٹرول کر لیا تھا۔ اس کے بعد جب ووٹوں کے اچانک سامنے آنے والے ڈھیر گنے گئے تو میری لیڈ یکے بعد دیگرے جادوئی انداز میں غائب ہوگئی۔ یہ بہت عجیب بات ہے۔ پولنگ کروانے والوں نے اسے مکمل اور تاریخی طور پر غلط لیا۔ مشیگن میں جو بائیڈن کی جیت اور ٹرمپ کے وکیل روڈی جولیانی کے ‘قومی لاسوٹ‘ فائل کرنے کے اعلان کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’نقصان ہو چکا ہے۔‘ انہوں نے کہا ’ہمارے وکلا نے ’معنی خیز‘ رسائی کی درخواست کی ہے مگر اب اس کا کیا فائدہ؟ ہمارے نظام کی ساکھ کو نقصان ہو چکا ہے، اور صدارتی انتخابات کو بھی۔ اس کے بارے میں بات ہونی چاہیے!‘ صدر ٹرمپ الیکشن میں دھاندلی کی باتیں کرتے ہوئے غصے کا اظہار کررہے ہیں اس کے برخلاف بائیڈن نے خود کو پرسکون انداز میں پیش کیا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *