امید کی شمع بجھنے لگی

لاہور (ویب ڈیسک) دنیا کی دوسری سب سے اونچی چوٹی کے ٹو سر کرنے کی کوشش میں لاپتہ ہونے والے کوہ پیماؤں کی فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے 7800 میٹر کی بلندی سے تلاش کا کام اتوار کی شام معطل کردیا گیا.ان تینوں کوہ پیماؤں پاکستان کے محمد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے

ایم پی موہر کے ملنے کے امکانات ختم ہوتے جارہے ہیں. “ظالم پہاڑ” کے نام سے معروف 8611 میٹر(28251 فٹ) بلند کے ٹو سلسلہ قراقرم کا حصہ ہے. سی این این کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ 8848 میٹر(29029 فٹ) بلند ماؤنٹ ایورسٹ دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ہے لیکن اسے چار ہزار افراد سر کرچکے ہیں، اس کے مقابلے میں کے ٹو کو جسے پہلی بار 1954 میں سر کیا گیا، 350 کوہ پیما سر کرسکے ہیں. 77 افراد اس کوشش میں جانیں بھی دے چکے ہیں. ظالم پہاڑ کا نام اسے 1953 میں سر کرنے کی کوشش کرنے والے امریکی نے دیا تھا. اس نے کہا تھا، یہ ظالم پہاڑ ہے جو خود کو فتح کرنے کی کوشش کرنے والوں کو زندگی سے محروم کرنے کی کوشش کرتا ہے. دنیا کے پانچ بلند ترین پہاڑوں میں سے کے ٹو سب سے زیادہ خطرناک ہے. سیدھی بلندی اور آکسیجن نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہے. اوسطاً چار اسے سر کرتے ہیں تو ایک جان سے ہاتھ دھوتا ہے. دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق کوہ پیما کے ٹو کو سر کرنا ایورسٹ سے زیادہ بڑا چیلنج سمجھتے ہیں. اموات کے لحاظ سے یہ دنیا کا دوسرا خطرناک ترین پہاڑ ہے. چند روز پہلے ایک بلغاروی کوہ پیما اتاناس سکاتوف کے ٹو سر کرنے کی کوشش میں جان سے گیا جنوری میں ایک روسی امریکی کوہ پیما الیکس گولڈ فارب نے قریب ہی بروڈ پیک کو سرکرنے کی کوشش میں جان سے ہاتھ دھوئے. 16 جنوری کو ہسپانوی کوہ پیما سرگئی منگوٹے نے کے ٹو سر کرنے کی کوشش میں جان گنوائی. سپین کے وزیر اعظم نے اس کی موت کا اعلان کیا. لیکن اسی دن نیپالی کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم نے پہلی بار موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا. 8 جولائی 2013 کو کے ٹو پر ہی نیوزی لینڈ کے باپ بیٹا مارٹی شمٹ اور دینالی کے کیمپ کو برفانی طوفان نے تباہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں دونوں جان بحق ہ ہوگئے تھے. یکم اگست 2008 کو مختلف ملکوں کے کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم کے گیارہ ارکان کے ٹو سر کرنے کی کوشش میں لقمہ اجل بنے. ان کے تین ساتھی زخمی ہوئے. یہ کے ٹو کی کوہ پیمائی کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ تھا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *