اندر کی خبر جو کوئی اور آپ کو نہیں بتائے گا

لاہور (ویب ڈیسک)روزنامہ نوائے وقت کے لیے صحافی فاخر ملک اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ رواں ماہ کا آخری ہفتہ نئی ملک کی سیاسی پچ تیار کرے گا جس میں -29 مئی کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا اجلاس، -31 مئی کو شہباز شریف کا اپوزیشن کے پارلیمنٹرین کے اعزاز میں ظہرانہ،

31 مئی کو تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر خاں ترین کے کیس میں ضمانت کا فیصلہ اور اسی مہینے کے آخر میں بیرسٹر علی ظفر کی طرف سے شوگر ملز ایف آئی اے کی انکوائری کے ضمن میں رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کرنے کی کارروائی شامل ہے۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق -31 مئی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو، سینیٹر شیری رحمان اور پیپلز پارٹی کے دوسرے پارلیمنٹرین بھی ظہرانہ میں شرکت پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔ اس طرح ظہرانہ میں اپوزیشن کے پارلیمنٹرینز دونوں ایوانوں میں اپنی عددی اکثریت ظاہر کریں گے۔ تاہم متوقع طور پر مرکز اور پنجاب کی سطح پر حکومت گرانے کا ایجنڈا کوئی حتمی شکل اختیار نہیں کرے گا کیونکہ پی ڈی ایم کے -29 مئی کو ہونے والے اجلاس اور 31 مئی کے ظہرانہ کے دوران سیاسی اور دیگر شعبوں میں آنے والی تبدیلیوں کے علاوہ، مختلف سکینڈلز اور تحریک انصاف کے آنے والے دو سالوں 2022-23ء کے میزانیے‘ 2018ء سے 2021ء کے دوران مہنگائی، معاشی گروتھ، قومی اور صوبائی میزانیے اور دیگر معاملات کو زیر بحث لایا جائے گا جبکہ وزیر اعظم عمران کی اپوزیشن کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اور اپنے بیانیہ پر تواتر کے ساتھ ازسرنو زور دینے کے محرکات اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی صورتحال کو بھی زیربحث لایا جائے گا۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی جمعرات کے روز لاہور آمد، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی 100 سے زائد ارکان اسمبلی سے ملاقاتیں اور پس پردہ مفاہمانہ کوششوں‘ جہانگیر خاں ترین اور ان کے گروپ سے وابستہ ارکان اسمبلی کو دی گئی یقین دہانیوں کے بعد قومی اور صوبائی سطح پر بحٹ اجلاسوں سے قبل جون کے پہلے ہفتہ کے دوران حکومتی حکمت عملی کے آثار واضح ہو جائیں گے۔ جبکہ قانون کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا اندازہ ہے 31 ۔مئی گزشتہ پیشیوں کی طرح گزر جائے گی اور جہانگیر خان ترین کی ضمانت میں ایک اور توسیع کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ کیس ابھی سماعتوں کے پراسیس سے گزر رہا ہے۔ جہانگیر خاں ترین کے کیس کی ازسرنو رپورٹ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جہانگیر ترین نے گزشتہ برسوں کے کاروبار کی پوری منی ٹریل بیرسٹر علی ظفر کو پیش کر دی ہے۔ جس کے بعد ایف آئی اے کی بعض رپورٹوں سے اختلاف بھی سامنے آ جائے گا۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ ان شوگر ملز کی گزشتہ کئی سالوں کی بیلنس شیٹس‘ آڈیٹرز کی رپورٹیں اور اس دوران کاشتکاروں کو جانے والی ادائیگیوں کے ثبوت، رسیدات، بنکوں کے ذریعے رقوم کی فراہمی اور دیگر معلومات بیرسٹر علی ظفر کو پیش کی گئیں ہے جس سے شوگر کے معاملات میں انہیں بری الذمہ قرار دیئے جانے کے امکانات ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *