اندر کی خبر

لاہور (ویب ڈیسک) وزیر دفاع پرویز خٹک کی طرف سے جہانگیر ترین کے بارے میں کہے گئے الفاظ پر معافی مانگنے کے بعد یہ عقدہ تو حل ہو گیا ہے کہ جہانگیر ترین کا تحریک انصاف میں کلہ اب بھی مضبوط ہے۔یاد رہے کہ پرویز خٹک نے ایک جلسے میں کہا تھا کہ

جہانگیر ترین لوٹ مار کر کے بیرون ملک چلے گئے، ایسے لوگوں کی تحریک انصاف میں کوئی جگہ نہیں، نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اب جہانگیر ترین اچانک واپس آ گئے ہیں تو پرویز خٹک کو پچھتانا پڑ گیا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ جہانگیر ترین کی نہ صرف تحریک انصاف میں جگہ ہے،بلکہ پرویز خٹک جیسوں کے لئے اُن کا سامنا کرنا بھی مشکل ہے۔جہانگیر ترین کے واپس آنے سے تحریک انصاف میں موجود کئی دوسرے رہنماؤں کو بھی پریشانی لاحق ہوئی ہو گی۔ خاص طور پر شہباز گل کو، جنہیں باقاعدہ جہانگیر ترین نے شٹ اَپ کال دی تھی اور کہا تھا:”اگر انہوں نے زبان بند نہ کی تو وہ سب کو بتا دیں گے کہ اُن کی اصلیت کیا ہے“؟جہانگیر ترین کے بیرون ملک جانے پر جس طرح کے الزامات لگائے گئے تھے اور اپوزیشن نے یہ واویلا کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی اے ٹی ایم مشین کو احتساب سے بچانے کے لئے بیرون ملک بھیج دیا ہے،اُس کی وجہ سے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جہانگیر ترین کے ائر پورٹ پر اُترتے ہی ایف آئی اے یا نیب کی ٹیمیں انہیں گرفتار کر لیتیں، مگر آج کئی دن گذر گئے ہیں جہانگیر ترین کے بارے میں کسی طرف سے بھی کوئی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ خود اپوزیشن کی طرف سے کوئی ایسا مطالبہ سامنے نہیں آ رہا،جو اُن کی گرفتاری کے لئے کیا گیا ہو، تو کیا جہانگیر ترین کو سب نے کلین چٹ دے دی ہے؟

یا واقعی اُن پر کوئی ایسا سنگین الزام نہیں جو انہیں قانون کی گرفت میں لا سکے؟جہانگیر ترین کا موقف یہ ہے کہ وہ اپنے معمول کا چیک اَپ کرانے لندن گئے تھے،مگر یہ چیک اَپ اِس بار کچھ زیادہ ہی طویل ہو گیا، جس کے باعث چہ میگوئیاں ہوئیں،پھر ایک ٹی وی انٹرویو میں جب وزیراعظم عمران خان سے اُن کے بارے میں ایک سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا جہانگیر ترین کی پارٹی کے لئے خدمات ناقابل ِ فراموش ہیں،لیکن وہ چینی سکینڈل کی زد میں آ گئے، جس کے باعث انہیں پارٹی سے دور ہونا پڑا۔ یہ بات بھی قابل ِ غور ہے کہ جب جہانگیر ترین سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل ہوئے تھے تو عمران خان نے انہیں پارٹی،بلکہ حکومتی معاملات میں بھی شامل رکھا تھا۔ وہ کابینہ کے اجلاس میں بھی بیٹھتے تھے اور اُن کی رائے بھی اہم سمجھی جاتی تھی۔ جب اس پر اعتراضات ہوئے تو انہیں کابینہ اجلاسوں میں شرکت سے روک دیا گیا، تاہم سب کو علم تھا کہ جہانگیر ترین عمران خان کے سب سے قریب،بلکہ پارٹی میں نمبر ٹو کی حیثیت کے مالک ہیں، پھر اچانک دونوں میں اختلافات کی خبریں آئیں۔دوریاں پیدا ہوئیں، تاہم بڑا بلاسٹ اُس وقت ہوا جب چینی سکینڈل سامنے آیا۔وزیراعظم نے انکوائری کمیشن بنایا جس نے جہانگیر ترین کو بھی اس سے فائدہ اٹھانے کا مرتکب قرار دیا۔خیال یہ تھا کہ وزیراعظم عمران خان جہانگیر ترین کی وجہ سے اس انکوائری رپورٹ کو دبا دیں گے،مگر انہوں نے اُسے عام کرنے کا حکم دے دیا۔

داد تو جہانگیر ترین کو دینی چاہئے کہ انہوں نے عمران خان کے خلاف کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا،البتہ یہ ضرور کہا کہ پارٹی میں ایک گروپ ایسا موجود ہے جو انہیں عمران خان سے دور کرنا چاہتا  ہے،مگر اسے ناکامی ہو گی۔یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ جہانگیر ترین کے بیرون ملک جانے کی سب سے زیادہ خوشی شاہ محمود قریشی کو ہوئی تھی۔ وہ اس بات کو ایک مثال بنا کر پیش کرتے تھے کہ عمران خان کرپشن کے معاملے میں کسی کو نہیں چھوڑتے،چاہے کوئی اُن کے کتنا ہی قریب کیوں نہ ہو۔ اس گروپ میں یقینا پرویز خٹک بھی شامل ہوں گے، کیونکہ انہوں نے علی الاعلان بھرے جلسے میں جہانگیر ترین کو بدعنوان قرار دیا۔انہیں اصل میں رنج اس بات کا ہے کہ خیبرپختونخوا کے دوبارہ وزیراعلیٰ بننے کی راہ میں جہانگیر ترین نے رکاوٹیں پیدا کیں، اور عمران خان کو قائل کیا کہ وہ خیبرپختونخوا میں نیا وزیراعلیٰ لائیں۔اس کی ایک وجہ وہ من مانیاں بھی تھیں جو پرویز خٹک نے بطور وزیراعلیٰ جاری رکھیں اور جہانگیر ترین کی سفارشات کو پس پشت ڈالتے رہے۔ حیرت ہے کہ جہانگیر ترین جن کے خلاف مالی بدعنونای کا کوئی باقاعدہ مقدمہ درج نہیں، نہ ہی نیب اُن کے خلاف کوئی تحقیقات کر رہا ہے،اتنے معتوب قرار پائے،جبکہ پرویز خٹک اور کئی دوسرے وزراء کے بارے میں نیب باقاعدہ تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے، وہ آرام سے وزارتوں کے مزلے لوٹ رہے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جہانگیر ترین چینی سکینڈل کے بعد دباؤ میں آ گئے تھے۔

یہ دباؤ اِس لئے بھی تھا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کے دست ِ راست سمجھے جاتے تھے،چونکہ وزیراعظم نے خود انکوائری کا حکم دیا تھا اور رپورٹ بھی عام کر دی تھی، اِس لئے غالباً اس دباؤ سے نکلنے اور وزیراعظم کو نکالنے کے لئے انہوں نے بیرون ملک جانے کا فیصلہ کیا، وگرنہ اُس وقت نہ تو کسی ادارے نے اُن کی گرفتاری کے احکامات دیئے تھے اور نہ ہی چینی سکینڈل میں آنے والے دیگر سیاست دانوں کے خلاف کوئی کارروائی ہو سکی تھی۔اب یہ دور کی کوڑی لائی جا رہی ہے کہ جہانگیر ترین اس لئے پاکستان واپس آئے ہیں کہ مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات میں اپنے بیٹے علی ترین کو سینیٹر بنوا سکیں،حالانکہ جہانگیر ترین کے لئے یہ کوئی اتنا مشکل کام نہیں، وہ عمران خان کی حکومت بنوانے اور پنجاب میں تحریک انصاف کا اقتدار قائم کرنے میں اگر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں تو بیٹے کو سینیٹر بنوانا کون سا مشکل کام ہے؟اُن کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ وہ اِس لئے واپس آئے ہیں کہ انہیں نواز شریف اور اسحاق ڈار کی طرح مفرور قرار دینے کی جو کوشش کی جا رہی ہے،اُسے ناکام بنائیں۔ ایک حوالے سے وہ یہاں بھی اپنے کپتان کی مدد کو آئے ہیں، جنہیں نواز شریف اور مریم نواز کی طرف سے تنقید کا سامنا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین میں دوریاں کب ختم ہوتی ہیں۔اگرچہ تحریک انصاف میں موجود ایک طاقتور لابی ان دوریوں کا خاتمہ نہیں چاہتی۔(ش س م)

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *