اندر کی کہانی بیان کردی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) قائداعظم نے جو اپنے اثاثے ہندوستان میں چھوڑے تھے، انہوں نے پاکستان آکر ان اثاثوں کے مطابق متبادل جائیداد لینے سے صریحاً انکار کردیا تھا، اور بطور گورنرجنرل پاکستان وہ تنخواہ نہیں لیتے تھے صرف علامتی طورپر ایک روپیہ تنخواہ لیتے تھے، میاں محمد نواز شریف بھی بطور وزیراعظم پاکستان

نامور کالم نگار نواز خان میرانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔تنخواہ نہیں لیتے تھے اسی طرح نواب لیاقت علی خان بھی تنخواہ کے بغیر بطور وزیراعظم کام کرتے رہے، اور جب انہیں راولپنڈی میں shaheed کیا گیا تھا، اور انہیں اچکن وغیرہ اتار کر کفن پہنایا جانے لگا تو ان کی بنیان کئی جگہوں سے پھٹی ہوئی تھی اسی طرح میں نے سنا تھا کہ محمد علی جونیجو بھی تنخواہ نہیں لیتے تھے بطور وزیراعظم جب عمران خان آئے، تو انہوں نے بائیس سال تک یہی فرمایا کہ وزیراعظم کی تنخواہ میں گزارہ نہیں ہوتا، میری تنخواہ بڑھائی جائے، اور اس طرح سے انہوں نے اپنی تنخواہ بڑھوالی ، حتیٰ کہ اس ضمن میں اخراجات میں کمی لانے کی وعید دینے والے نے اخراجات کی ہرمد میں بڑی خوبصورتی اوربڑی ہنرمندی سے سپیکر جانبدار کے توسط سے اضافہ کرالیا، اپنے بے پناہ لاﺅلشکر معاونین خصوصی کے طفیل اپنے وزراءکو چیتے قرار دینے والے نے ملک میں متانت شائستگی رکھ، رکھاﺅ، اور سنجیدگی کا جنازہ نکال دیا ہے کہ ہم اب تک یہی سنتے آئے تھے کہ خدا نہ کرے کہ ہمارا ملک انارکی کا شکار ہو جائے لیکن میرے خیال میں ہمارے ملک میں تبدیلی کی جگہ انارکی آگئی ہے، میری دعا ہے بلکہ خدا سے التجا ہے، کہ ہمارے ملک کے ہرسیاستدان کی فراست، اور سچائی لیفٹیننٹ جنرل عبدالقادر بلوچ کی طرح ہوجائے، چونکہ وہ اپنے چاروں جانب سے کسی بھی طرح سیاستدان نہیں لگتے، میری ان سے فون پہ ان دنوں بات ہوئی تھی، جب وہ کورکمانڈر گوجرانوالہ تھے، میری بات سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے بھی ہوئی ہے اس معاملے میں وہ بھی کسر نفسی کی بلندیوں پر ہیں جن کا نام پاکستان میں سب سے زیادہ انکم ٹیکس 44کروڑ دے کر پاکستان کی Geninness Book of Pakistanمیں آنا چاہیے، مگرجہاں تک بلوچستان میں ثناءاللہ زہری صاحب کا تعلق ہے اس معاملے میں صریحاً نظر آتا ہے کہ بطور بلوچ مہمان نوازی کی روایت رکھنے والے جنرل عبدالقادر بلوچ کا موقف صحیح ہے اس لیے تو ثناءاللہ زہری ،اتنے کڑوے ہی بن گئے ہیں۔ سچ پوچھیے تو آج کل ہمارا ہرسیاستدان  کڑوا اور کھٹا  ہی تو ہے ۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *