انصار عباسی کے تہلکہ خیز انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) براڈشیٹ اسکینڈل کی جو تفصیلات اب تک سامنے آ چکی ہیں، وہ بحیثیت قوم ہم سب کے لئے شرمندگی کا باعث ہیں۔ یہ اسکینڈل ثابت کرتا ہے کہ یہ احتساب جعلی ہے یعنی جو ساتھ مل جائے، اُس کی لوٹی ہوئی دولت پکڑی بھی جائے تو اُس کے لئے معافی، جو مخالف ہو

یا اُس کا چہرہ اچھا نہ لگے تو اُس کے پیچھے پڑ جاؤ، چاہے پھر جعلی کیسز ہی کیوں نہ بنانا پڑیں۔مخالفین کو پکڑنے کے لئے برطانیہ کی کمپنیوں کے ساتھ ایسے معاہدے کیے گئےجو پاکستان کو پہلے ہی دن سے نقصان ہی نقصان اور اُن غیرملکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کا سبب بنے۔آفتاب احمد شیرپاؤ کا پیسہ پکڑا گیا تو مشرف اور نیب نے کہہ دیا نہیں بھئی! پکڑنا تو صرف نواز شریف، بےنظیر بھٹو اور زرداری کو ہے۔ شیر پاؤ کو مشرف نے اپنے ساتھ ملا لیا اور یوں نیب نے اُن کی فائل بند کر دی۔ شریف فیملی کو معاہدے کے تحت دس سال کے لئے سعودی عرب بجھوا دیا تو اُن کی بھی فائلیں نیب نے سرد خانے میں ڈال دیں۔بےنظیر بھٹو مرحومہ اور آصف زرداری صاحب کے خلاف جب لوٹ مار کیس ثابت ہو چکے اور سزا دینے کے قریب پہنچ چکے تو پھر مشرف نے بےنظیر مرحومہ کے ساتھ این آر او سائن کر لیا۔ یہ وہ احتساب ہے جو اب تک چل رہا ہے اور جس کا پاکستان کو نقصان ہی نقصان ہوا ہے۔نہ کسی نے مشرف سے پوچھا کہ اپنے سیاسی فائدے کے لئے احتساب کے نام پر یہ کھلواڑ کیوں کیا؟ نہ ہی کسی نے نیب افسران اور اُس کے کسی بھی سربراہ سے پوچھا کہ وہ کیوں ایک کے بعد ایک حکمران کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہے؟ جس کا نقصان صرف اور صرف پاکستان کو ہوا۔براڈ شیٹ کیس نیب کے خلاف ایک چارچ شیٹ ہے لیکن نیب نے جو کچھ گزشتہ بیس برسوں میں کیا، اگر اُس پر غیرجانبدار تحقیقات کی جائیں تو پتا چلے گا کہ نیب چوری اور لوٹ مار کا گڑھ ہے اور مالی طور پر بدعنوان لوگوں کو معصوم بنا کر بری کروانے یا چھوڑنے کا اڈہ بن چکا ہے۔

یہ سلسلہ اور حکمرانوں کی ایما پر مخالفوں کو دبانے کی مہارت تو رکھتا ہے لیکن احتساب اور بدعنوانی کو ختم کرنے کی نہ اِس کی قابلیت ہے نہ ہی نیت۔ براڈ شیٹ کیس میں اربوں روپے کا جرمانہ پاکستان کو ادا کرنا پڑا جبکہ ایک دھیلہ پاکستان کو نہ ملا۔پاکستان کی معاشی حالت انتہائی دگرگوں ہے لیکن پھر بھی برطانوی عدالت کے حکم پر ہم نے 29ملین ڈالر ایک ایسی غیرملکی کمپنی کو دیےگئے جس کے ذریعے پاکستان کو کچھ حاصل بھی نہ ہوا۔ ابھی پچاس کروڑ سے زیادہ رقم اور بھی اس کمپنی کو دینی ہے جبکہ نیب اس سے پہلے 15لاکھ ڈالر اسی کمپنی کے نام پر ایک جعلی شخص کو ادا کر چکا۔ یعنی اب تو گوروں اور غیرملکیوں کو بھی پتا ہے کہ پاکستان اُن کی لوٹ مار کے لئے بھی آسان ٹارگٹ ہے۔ریکوڈک کیس میں پاکستان کے خلاف اربوں ڈالر کا ایوارڈ ہو چکا اور مبینہ طور پر اربوں ڈالر کے جرمانے کی بنیاد ہمارے ہی ایک سیاستدان کا بین الاقوامی عدالت میں ایک ایسا بیان تھا جس کو بنیاد بنا کر ایک بدعنوانی کیس کو پاکستان کے ہی خلاف اور ریکوڈک کے حق میں استعمال کیا گیا۔ریکوڈک کے اس اربوں ڈالر کے جرمانے کی تلوار ہمارے سر پر لٹک رہی ہے۔ نجانے ہماری حکومتیں کیسے وکیل کرتی ہیں کہ ہم ایسے کیسوں میں جرمانے ہی جرمانے کروا جا رہے ہیں اور وہ بھی اتنے بھاری کہ جو ہم میں دینے کی سکت ہی نہیں۔ترکی کی کمپنی کارکے بھی ہمارے خلاف کوئی 800ملین ڈالر سے زیادہ کا کیس جیتی جس پر وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر اردوان سے بات کی تو معاملے کو آوٹ اور کورٹ سیٹل کیا گیا۔ شاید کچھ ایسی ہی کوشش ریکوڈک کیس میں بھی ہو رہی ہے لیکن اس میں کوئی کامیابی ہوتی ہے یا نہیں، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ایک اہم سرکاری عہدیدار نے مجھے بتایا تھا کہ ریکوڈک کیس کوئی پانچ سو ملین ڈالر کے لگ بھگ رقم میں آوٹ آف کورٹ Settleہو سکتا تھا لیکن اُس وقت کی حکومت نے ایسا نہیں کیا۔موجودہ براڈ شیٹ اسکینڈل پر حکومت اگر سیاست کرنے کی بجائے ایک غیر جانبدارانہ اور فیئر انکوائری کروا دے اور اس اسکینڈل کے تمام پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے نہ صرف نقائص، غلطیوں اور جرائم کو سامنے لائے بلکہ ذمہ داروں کا تعین کرتے ہوئے یہ بھی تجویز دے کہ سسٹم میں کون کون سی خرابیاں ہیں جنہیں درست کرنے کی ضرورت ہے تو پاکستان کو اِس بےدردی سے لُوٹنے سے بچایا جا سکتا ہے۔

Comments are closed.